உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اٹھارہ سال بعد ایم پی حکومت نے اردو کے 18 اساتذہ کی تقرری کا سرکولر کیا جاری

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ ریاست کے اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کے لئے جمیعت کے ذریعہ برسوں سے تحریک چلائی جا رہی ہے ۔حکومت نے اٹھارہ سال بعد اساتذہ کی تقرری کا قدم تو اٹھایا مگر اٹھارہ سال بعد صرف اٹھارہ اردو اساتذہ کی تقرری کا سرکولر افسوسناک ہے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ ریاست کے اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کے لئے جمیعت کے ذریعہ برسوں سے تحریک چلائی جا رہی ہے ۔حکومت نے اٹھارہ سال بعد اساتذہ کی تقرری کا قدم تو اٹھایا مگر اٹھارہ سال بعد صرف اٹھارہ اردو اساتذہ کی تقرری کا سرکولر افسوسناک ہے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ ریاست کے اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کے لئے جمیعت کے ذریعہ برسوں سے تحریک چلائی جا رہی ہے ۔حکومت نے اٹھارہ سال بعد اساتذہ کی تقرری کا قدم تو اٹھایا مگر اٹھارہ سال بعد صرف اٹھارہ اردو اساتذہ کی تقرری کا سرکولر افسوسناک ہے ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں ایک جانب شیوراج سنگھ حکومت کے ذریعہ عوام کو ملازمت فراہم کرنے کے سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں وہیں حکومت کے مقرر کردہ اہیلت ٹیسٹ کو پاس کرنے کے بعد بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنی تقرری کو لیکر در در بھٹکنے کو مجبور ہیں ۔برسوں کے مطالبات اور احتجاج کے بعد محکمہ تعلیم نے اردو ،ہندی،سائنس اور سوشل سائنس کے مضمون میں اساتذہ کی تقرری کا سرکولر تو جاری کیا ہے لیکن اساتذہ کی تقرری کا جو سرکاری فرمان ہے اس میں تعداد اتنی کم ہیں کہ اسے اونٹ کے منھ زیرا ہی کہا جائے گا۔مدھیہ پردیش میں دگ وجے سنگھ کے عہد میں دوہزار تین میں بائیس سو اردو اساتذہ کی تقرری کا اعلان کیاگیا تھا اب اٹھارہ سال بعد ایم پی حکومت نے اردو اساتذہ کی تقرری کے جو سرکولر جاری کیا ہے اس میں اٹھارہ اساتذہ کی ہی پوسٹ نکالی گئی ہے۔ حکومت کے اقدام کے خلاف طلبا کے ساتھ اردو کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیموں نے اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
    مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اسکول اندر سنگھ پرمار کہتے ہیں کہ حکومت کے ذریعہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا کام جاری ہے۔ جہاں پر جیسی اور جتنی ضرورت ہوتی ہے اس کے مطابق سرکولر کو جاری کرکے تقرری کی جاری ہے ۔ اپریل دوہزار بیس میں جو اہلیت ٹیسٹ اور اساتذہ کی تقرری ہونا تھی وہ کورونا کی وجہ سے ملتوی کردی گئی تھی۔ اب محکمہ تعلیم کی جانب سے اس کے لئے پھر سرکولر جاری کیاگیا ہے ۔جن لوگوں نے پہلے فارم داخل کیاتھا انہیں فارم بھرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔نئے لوگ اٹھائیس دسمبر تک فارم داخل کرسکتے ہیں ۔پانچ مارچ دوہزار بائیس کو اس کا ٹیسٹ ہوگا اور پانچ ہزار اساتذہ کی تقرری ہوگی۔


    وہیں چار سال قبل اہلیت ٹیسٹ پاس کرنے والی امیتا نگم کہتی ہیں کہ محکمہ تعلیم کے پورٹل پر اکیانوے ہزار سے ویکنسی خالی دکھائی جارہی ہے لیکن اساتذہ کی تقرری کو لیکر جو سرکولر جاری کیاگیا ہے اس میں ہندی کے لئے سو،اردو کے لئے اٹھارہ،سائنس کے لئے پچاس اور سوشل سائنس کے لئے محض ساٹھ اسامیوں پر تقرری کی بات کی گئی ہے ۔ حکومت پڑھے لوگ بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ مذاق کر رہی ہے ۔اگر حکومت کو اہلیت ٹیسٹ لینے کے بعد بھی روزگار نہیں دینا ہے تو یہ مذاق کرتی کیوں ہے ۔حکومت کے خلاف آج بھوپال میں احتجاج کیاگیا ہے ،آگے مدھیہ پردیش کے سبھی اضلاع میں چلایا جائے گا۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ ریاست کے اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کے لئے جمیعت کے ذریعہ برسوں سے تحریک چلائی جا رہی ہے ۔حکومت نے اٹھارہ سال بعد اساتذہ کی تقرری کا قدم تو اٹھایا مگر اٹھارہ سال بعد صرف اٹھارہ اردو اساتذہ کی تقرری کا سرکولر افسوسناک ہے ۔اتنے کم اساتذہ سے مدھیہ پردیش کے کسی ایک ضلع کے اردو اساتذہ کی کمی بھی پوری نہیں ہوسکتی ہے ۔ حکومت کو ریاست گیر سطح پر اردو زبان جو اسی ملک کی زبان ہے اس کے اساتذہ کی تقرری کا قدم اٹھانا چاہیئے۔ بیس دسمبر سے اسمبلی کا سیشن شروع ہونے جارہا ہے جمیعت کا اعلی سطحی وفد وزیر تعلیم سے ملاقات کریگا تاکہ دوسرے مضامین کے ساتھ اردو اساتذہ کی تقرری کو یقینی بنایا جا سکے ۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: