உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیاآپ کوبھی بیرون ملک ملازمت کاآفرملاہے؟ حکومت ہندکی جانب سےوارننگ ایڈوائزری جاری!

    ہندوستانی فریق نے یہ معاملہ دونوں ممالک کے ساتھ اٹھایا ہے

    ہندوستانی فریق نے یہ معاملہ دونوں ممالک کے ساتھ اٹھایا ہے

    Job offers abroad: بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا دیگر ذرائع سے جاری کی جانے والی اس طرح کی جعلی نوکریوں کے آفرس میں نہ پھنسیں۔ مشکوک فرمیں عام طور پر آئی ٹی ہنر مند نوجوانوں کو نشانہ بناتی ہیں

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu | Mumbai | Hyderabad | Lucknow | Moradabad
    • Share this:
      Job offers abroad: ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی نوکریوں کے آفرس کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔ اس سے قبل 100 سے زائد ملازمین کو میانمار میں مشتبہ آئی ٹی فرموں میں ’بہترین ملازمت‘ کی لالچ دے کر لے جایا گیا تھا۔ حکام نے اب تک 32 ہندوستانی شہریوں کو بچایا ہے جنہیں منافع بخش آئی ٹی ملازمتوں کے بہانے میانمار کے دور دراز علاقوں میں لے جایا گیا تھا۔

      ذرائع کے مطابق ہندوستانی فریق تھائی لینڈ اور میانمار کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ خطے میں پھنسے ہوئے 60 دیگر افراد کی مدد کی جا سکے۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ تھائی لینڈ اور میانمار میں ذمہ داروں نے ڈیجیٹل سیلز اینڈ مارکیٹنگ ایگزیکٹیو کے عہدوں کے لیے ہندوستانی نوجوانوں کو آمادہ کرنے کے لیے منافع بخش نوکریوں کی پیشکش کرنے والے جعلی جاب ریکیٹ کے واقعات کا پتہ لگایا ہے۔ یہ ریکٹس کال سینٹر گھوٹالوں اور کرپٹو کرنسی کے فراڈ میں ملوث ہیں۔ جس سے محفوظ رہنا ضروری ہے۔

      بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا دیگر ذرائع سے جاری کی جانے والی اس طرح کی جعلی نوکریوں کے آفرس میں نہ پھنسیں۔ مشکوک فرمیں عام طور پر آئی ٹی ہنر مند نوجوانوں کو نشانہ بناتی ہیں جو تھائی لینڈ میں منافع بخش ڈیٹا انٹری ملازمتوں کے نام پر سوشل میڈیا اشتہارات کے ساتھ ساتھ دبئی اور ہندوستان میں مقیم ایجنٹوں کے ذریعہ دھوکہ دہی کا شکار ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      یہ ہیں سعودی عرب کے 10 وہ راجہ، کسی کی 30 بیویاں تو کوئی 100 بچوں کا باپ

      وزارت نے کہا کہ متاثرین کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر سرحد پار لے جایا جاتا ہے، اس میں زیادہ تر میانمار میں منتقلی شامل ہے۔ جہاں انہیں سخت حالات میں کام کرنے کے لیے قید رکھا جاتا ہے۔ روزگار کے مقاصد کے لیے سیاحتی یا وزٹ ویزا پر سفر کرنے سے پہلے ہندوستانی شہریوں کو بیرون ملک مشن کے ذریعے غیر ملکی آجروں کی اسناد کی جانچ اور تصدیق کرنی چاہیے۔ وزارت نے مزید کہا کہ انہیں نوکری کی پیشکش سے پہلے بھرتی کرنے والے ایجنٹوں اور کسی بھی کمپنی کو بھی دیکھنا چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      پاکستان نے لگائے جھوٹے الزام، دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ ممکن نہیں، UNمیں ہندستان کا کرارا جواب

      تھائی لینڈ میں قائم فرموں کے لالچ میں آنے والے زیادہ تر ہندوستانیوں کو غیر قانونی طور پر سرحد پار میانمار کے میوادی علاقے میں لے جایا گیا، جہاں تک مقامی سیکورٹی کی صورتحال کی وجہ سے رسائی مشکل ہے۔ کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 300 تک ہندوستانی ملازمین کو غیر قانونی طور پر میوادی کے علاقے میں لے جایا گیا ہے، لیکن اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: