ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

مدھیہ پردیش: کورونا وائرس کے خوف سے بارہویں بورڈ کی کاپیاں چیک کرنے سے انکار

کورونا بیماری کے بیچ جس طرح سے شکشک سنگھ نے اپنے مطالبات کو لیکر کاپیاں چیک کرنے سے انکار کیا ہے اگر حکومت نے جلد ان کے مطالبات پورے نہیں کئے تو بارہویں بورڈ کے نتائج کے اعلان میں مزید تاخیر ہوگی۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: کورونا وائرس کے خوف سے بارہویں بورڈ کی کاپیاں چیک کرنے سے انکار
مدھیہ پردیش: کورونا وائرس کے خوف سے بارہویں بورڈ کی کاپیاں چیک کرنے سے انکار

بھوپال۔ مدھیہ پردیش حکومت صوبہ میں کورونا کی ریکوری گروتھ ریٹ کو لیکر بھلے ہی کتنے دعوے کرلے لیکن صوبہ کے عام لوگوں کے ساتھ اساتذہ کے دل سے کورونا کا خوف جانے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یہ وہی خوف ہے جس کے چلتے بارہویں بورڈ کے امتحانات کی کاپیوں کو مادھیمک شکشا منڈل کے اساتذہ نے مرکز پر جاکر چیک کرنے سے منع کردیا ہے۔


مدھیہ پردیش میں بورڈ کے امتحانات کا آغاز دو مارچ سے ہوا تھا۔ کچھ پیپروں کا امتحان مارچ کے مہینے میں کورونا لاک ڈاؤ ن سے پہلے ہو گیا تھا مگر لاک ڈاؤن کا نفاذ ہونے کے بعد بورڈ کے امتحانات کو بیچ میں بند کردیا گیا تھا۔ ان لاک ون کا نفاذ ہونے کے بعد نو جون سے سولہ جون کے بیچ باقی پیپروں کا پھر سے انعقاد کیاگیا۔ اب جب پیپروں کو جانچنے کی باری تو آئی تو اساتذہ نے مرکز پر جاکر پیپروں کو چیک کرنے سے منع کردیا اور اس کے لئے ان کے اپنے جواز بھی ہیں جس کو لیکر انہوں نے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ و وزیر صحت ڈاکٹرنروتم مشرا سے ملاقات کی اور انہیں اپنا میمورنڈم پیش کیا۔


سمگر شکشا کلیان سنگھ کے  صوبائی صدرمکیش شرما کہتے ہیں کہ سبھی اساتذہ کے مسئلہ کو لیکر وزیر موصوف سے ملاقات کی ہے۔جو مادھیمک شکشا منڈل کی ہائیر سکینڈری کے امتحان ہوئے ہیں ۔سولہ جون کو امتحان ختم ہوا اور آج سے کاپیوں کو جانچنے کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔ پہلے دور کے امتحان میں اساتذہ کو گھر لے جا کر کاپیاں چیک کرنے کی اجازت دی گئی تھی اورسبھی اساتذہ نے خوشی خوشی اپنا کام کیا تھا لیکن ابھی جو کاپیاں چیک کرنے کا کا م شروع کیا جا رہا ہے اس میں سبھی اساتذہ کو سینٹر پر آکر ہی کاپی چیک کرنےکے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ اب کورونا وبا میں جب کسی کو یہ پتہ نہیں ہے کہ کون شخص کورونا سے متاثر ہے اور کون نہیں  ہے ایسے میں بڑی تعداد میں اگر اساتذہ کو ایک جگہ جمع کرکے کام کیا جائے گا تو کورونا وبا  اور بڑھ جائے گی ۔ہماری مانگ ہے کہ سولہ کو امتحان ختم ہوا اور پندرہ دن بعد اگر کاپیوں کو جانچنے کاکام شروع کیاجاتا ہے تو امتحان کے وقت اگر کسی کاپی میں کورونا کے وائرس آئے ہوں گے تو وہ مر جائیں گے اور ایسے میں ہم لوگ سینٹر پر آکر کاپیوں کو جانچنے کا کام کر سکیں گے۔ حالانکہ اس کے بعد بھی خطرہ رہے گا۔ ہم کام کرنے کے لئے تیار ہیں اگر سرکار اسی طرح سے ہمیں سہولت دے جیسے اس نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ داخلہ کو دی ہیں۔


مدھیہ پردیش میں بورڈ کے امتحانات کا آغاز دو مارچ سے ہوا تھا۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ و وزیر صحت ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ شکشک سنگھ نے اپنا میمورنڈم دیا ہے۔ کورونا وبا کو لیکر کیا مناسب ہے اس پر محکمہ تعلیم فیصلہ کریگا ۔ ہمیں سبھی کے صحت کی فکر ہے ۔

وہیں کانگریس نے مادھیمک شکشا منڈل کے اساتذہ کی مانگ کو جائز بتایا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر وسابق وزیر قانون پی سی شرما کہتےہیں کہ سرکار کو چاہیئے کہ اساتذہ کو بھی کورونا جانباز قرار دے ۔لاکھوں طلبہ کی کاپیوں کو جانچنے کا کام آسان نہیں ہے ۔

مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کی تعداد بڑھ کر گیارہ ہزار نو سو بانوے ہوگئی ہے۔ کورونا سے اب تک  پانچ سو تین لوگوں کی موت ہوچکی ہے وہیں کورونا کی وبائی بیماری سے صوبہ میں آٹھ ہزار نو سو پچھہتر لوگ صحتیاب بھی ہوچکے ہیں ۔کورونا بیماری کے بیچ جس طرح سے شکشک سنگھ نے اپنے مطالبات کو لیکر کاپیاں چیک کرنے سے انکار کیا ہے اگر حکومت نے جلد ان کے مطالبات پورے نہیں کئے تو بارہویں بورڈ کے نتائج کے اعلان میں مزید تاخیر ہوگی۔
First published: Jun 22, 2020 04:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading