ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

21 فروری کو منایا جاتا ہے مادری زبانوں کا عالمی دن، کشمیر میں کشمیری زبان کی بگڑتی صورتحال

نیوز 18 نیٹ ورک کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ کشمیری زبان اور یہاں کی ثقافت و تمدن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہر اتوار کو مختلف موضوعات پر کشمیری زبان میں لڑی شاہ تحریر کر کے نشر کراتے ہیں۔ تاکہ (News18 Urdu) کے ذریعے بھی کشمیری زبان کی اہمیت برقرار رہے۔ ماہرین لسانیات کا ماننا ہے کہ کشمیری زبان کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کا مقصد تب ہی حاصل کیا جاسکتا ہے جب اسے کشمیر کے اسکولوں میں بنیادی سطح سے ہی ہر جماعت تک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔

  • Share this:
21 فروری کو منایا جاتا ہے مادری زبانوں کا عالمی دن،  کشمیر میں کشمیری زبان کی بگڑتی صورتحال
بیحد افسوس کی بات ہے کہ ہمارے گھروں سے لیکر تعلیمی نظام میں انگریزی زبان زیادہ حاوی ہے۔

کسی بھی قوم کی شناخت اس کی زبان سے ہوتی ہے۔ مادری زبان کی اہمیت اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بچے بہت جلدی نئی باتوں کو سیکھ جاتے ہیں سمجھ جاتے ہیں۔ مگر بیحد افسوس کی بات ہے کہ ہمارے گھروں سے لیکر تعلیمی نظام میں انگریزی زبان زیادہ حاوی ہے۔ وادی کشمیر میں کشمیری زبان اب صرف بات چیت تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے اس کے پڑھنے لکھنے والوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کمی آرہی ہے۔ اگرچہ کشمیر کے اسکولوں میں کشمیری زبان کا پڑھنا تقریباً لازمی قرار دیا گیا ہے، تاہم باوجود اس کے کوئی دورس نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں۔ آ ج تک جتنی بھی حکو متیں آئی ہیں انہوں نے کشمیری زبان کونظر انداز کیا۔وادی کے شاعروادیب گلشن بدرنی نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ کشمیر میں لوگ کشمیری زبان سے دور ہوتے جارہے ہیں جس سے آنے والے وقت میں سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

کشمیر میں بیشتر گھرانوں میں لوگ کشمیری زبان میں بات نہیں کرتے ہر گھر میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ اپنی مادری زبان کے بجائے اردو یا انگریزی میں بات کرتے ہیں۔ کشمیر میں اب یہ چلن حاوی ہوچکا ہے کہ جب نوزائید بچہ بولنے لگتاہے تو گھر والے اسے اردو یا انگریزی میں بات کرنا شروع کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ نئی نسل کشمیری زبان سے روز بہ روز نابلد ہورہے ہیں۔ جو ہماری مادری زبان کشمیری پراپنے ہاتھوں سے ہی شب خون مارنے کے مترادف ہیں ۔ مادری زبان کسی بھی انسان کی شخصیت کی تعمیر، تعلیم اور ہمہ جہت ترقی میں بنیادی کردارادا کرتی ہے۔


ماہرین لسانیات کا ماننا ہے کہ کشمیری زبان کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے اور نئی پود تک منتقل کرنے کا مقصد تب ہی حاصل کیا جاسکتا ہے جب اسے کشمیر کے اسکولوں میں بنیادی سطح سے ہی ہر جماعت تک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔


ماہرین لسانیات کا ماننا ہے کہ کشمیری زبان کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کا مقصد تب ہی حاصل کیا جاسکتا ہے جب اسے کشمیر کے اسکولوں میں بنیادی سطح سے ہی ہر جماعت تک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ بدقسمتی سے یہاں کے اسکولوں میں کشمیری زبان کے مضمون کو دیگر مضامین کی طرح وہ اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ لوگوں میں یہ غلط فہمیاں بھی گردش کررہی ہیں کہ، کشمیری اور اردو زبان کا روزی روٹی سے کوئی تعلق نہیں، ان زبانوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ ہماراتعلیم یافتہ طبقہ اس پروپیگنڈہ کا سب سے بڑا شکار ہے ۔ طلبا اب کشمیری یا اردو سبجکٹ لینے اور پڑھنے میں شرم محسوس کرر ہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیری زبان کے اس مضمون میں نوجوانوں نے اعلیٰ ڈگریا ں حاصل کی ہیں وہ روزگار کے منتظر ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور متعلقہ ادارے دو سرے مضامین کی طرح اس مضمون میں بھی جان ڈال کر نوکریوں کے وسائل فراہم کریں۔

شبیر احمد اور محمد یونس دونوں ریسرچ  اسکالر ہیں کاکہن اہےکہ وہ ڈگری کے حصول کے باوجود اب سرکاری نوکری کے منتظر ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہےکہ جس طرح دوسرے مضامین کے لیے مختلف اسامیاں نکالی جاتی ہے اس طرح کشمیری مضامین کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ کشمیر میں چند ادارے ایسے ہیں جو کشمیری زبان کی ترقی و ترویج کے غیر معمولی کام کر رہے ہیں  تو وہیں اس زبان کو زندہ رکھنے اور اس کی ترویج میں نیوز ایٹین اردو بھی پیش پیش ہے۔ نیوز ایٹین نیٹ ورک کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ کشمیری زبان اور یہاں کی ثقافت و تمدن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہر اتوار کو مختلف موضوعات پر کشمیری زبان میں لڑی شاہ تحریر کر کے نشر کراتے ہیں ۔ تاکہ نیوز ایٹین اردو کے ذریعے بھی کشمیری زبان کی اہمیت  برقرار رہے۔

نیوز ایٹین کی اس نشریات کو کشمیری زبان سے جڑے لوگ خوب سراہاتے ہیں ۔وادی کے شاعر و افسانہ نگار رحیم رہبر نے کہاکہ وہ شوق سے ہر اتوار نیوز18 اردو پر لڑی شاہ دیکھتے ہیں۔ انہوں نے نیوز18 اردو کا شکریہ ادا کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یوٹی سرکار اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے ۔ ساتھ ہی عوام کو مادری زبان کی اہمیت اور افادیت کے لئے عوامی تحریک چلانے کی ضرورت ہے حکومت ، ادیبوں ،قلمکاروں شاعرو ں اور متعلقہ تنظیموں اور اداروں کو بھی اس سمت اپنا کلیدی رول ضرور اداکرنا ہوگا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 21, 2021 06:59 PM IST