உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جنون سے منزل کے حصول تک! وہ ’مہیلا پولیس‘ جس نے سی اے کی نوکری کو ٹھوکرا دیا اور بنی پولیس

    تصویر ٹوئٹر: @RjyUrbanPolice

    تصویر ٹوئٹر: @RjyUrbanPolice

    ملیکا کہتی ہیں کہ ’’ہمیں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کبھی کبھی اچھی زندگی اور اچھی نوکری چھوڑنی پڑتی ہے۔ پولیس کی ڈیوٹی کرنے میں ایک جاذبیت ہے۔ اس لیے میں نے مہیلا پولیس میں شمولیت اختیار کر لی ہے حالانکہ مجھے بہت کم تنخواہ مل رہی ہے‘‘۔

    • Share this:
      ایم ملیکا (M Mallika) نامی خاتون ایک مستری کی بیٹی ہیں۔ انھوں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی (Chartered Accountancy) کا کورس مکمل کیا اور حیدرآباد میں ایک معقول ملازمت بھی حاصل کرلی۔ لیکن جسے کسی اور چیز کو پانے کا جنون ہو وہ وقتی کامیابی سے کیسے مطمئن ہوسکتا ہے؟ سی اے ایم ملیکا کو پولیس کی وردی پہننے کا شوق تھا اور انھوں نے اس کا عزم مصمم بھی کرلیا تھا۔

      پولیس کی وردی پہننے کی ان کی خواہش اور جنون نے ایم ملیکا کو سی اے کی غیر معمولی نوکری تک کو چھوڑنے پر آمادہ کردیا۔ اب وہ اپنے آبائی گاؤں راجا نگرم واپس آکر مہیلا پولیس کا کردار ادا کررہی ہے۔ ایم ملیکا کا کہنا ہے کہ ’’پیسہ اہم ہے، لیکن یہ سب کچھ نہیں ہے‘‘۔

      لوگوں کی خدمت سے خوشی:

      ملیکا کے مطابق انھیں اپنے گاؤں کے لوگوں کی خدمت کرنے میں بے پناہ خوشی حاصل ہوتی ہے۔ ملیکا نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا۔ ڈگری کے بعد انھوں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی (CA) میں دلچسپی لی اور اپنے لیکچررز کی طرف سے حوصلہ افزائی نے ان کو اس جنون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محرک کا کام کیا۔

      سی اے کے بعد ملیکا نے حیدرآباد کے مادھا پور میں ایک کارپوریٹ کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور سرٹیفائیڈ فائنانشئل پلانر (CFP) کورس بھی کی۔ اس کورس کی اتنی اہمیت ہے کہ اسی دنیا کے 26 ممالک میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ملازمت ان کی اہلیت کے مطابق تھی۔ اس ملازمت کی وجہ سے ان کے خاندان کو معاشی طور پر مضبوط طور پر سہارا بھی فراہم تھا لیکن وہ مطمئن نہیں تھی۔ اسی دوران آندھرا پردیش حکومت نے گاؤں کی سطح پر سیکرٹریٹ کا نظام نافذ کیا تھا جس میں مہیلا پولیس کو ایک لازمی حصہ بنایا گیا تھا۔ اب ان کا پولیس کی وردی پہننے کا شوق بڑتا رہا۔

      شوق حقیقت میں بدل گیا:

      پولیس کی نوکری کے اس جنون اور شوق نے انھیں کارپوریٹ کمپنی کی اعلی ملازمت کو خیر آباد کہنے پر راضی کیا۔ اپنے آبائی گھر پہنچنے کے بعد انھوں نے محض 13,000 روپے ماہانہ تنخواہ کے ساتھ گاؤں کے سیکرٹریٹ میں مہیلا پولیس کی نوکری کے لیے درخواست دی۔ اسی دوارن ایم ملیکا کو مہیلا پولیس کے طور پر منتخب کیا گیا اور ضلع مشرقی گوداوری کے چکردوارا بندھم گاؤں کے سیکرٹریٹ میں تعینات کیا گیا۔ یوں ملیکا کا شوق حقیقت میں بدل لیا اور انھیں اطمینان حاصل ہوا۔


      ملہیلا پولیس بننے کے بعد 29 سالہ ایم ملیکا نے چند مہینوں کے اندر ہی اپنی منفرد کارکردگی کی بنا پر اپنے وجود کو ثابت کیا۔ خواتین کو ہراساں کرنے سمیت 60 جرائم کی رپورٹنگ میں ملیکا کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے اعلیٰ افسران نے خوب پذیرائی کی۔

      ’زندگی گلابوں کا بستر نہیں‘

      ملیکا اب گروپ-I اور گروپ-II کے عہدوں کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’ہمیں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کبھی کبھی اچھی زندگی اور اچھی نوکری چھوڑنی پڑتی ہے۔ میری زندگی کا مقصد کوئی بھی یکساں کام کرنا ہے۔ پولیس کی ڈیوٹی کرنے میں ایک جاذبیت ہے۔ اس لیے میں نے مہیلا پولیس میں شمولیت اختیار کر لی ہے حالانکہ مجھے بہت کم تنخواہ مل رہی ہے‘‘۔

      وہ مزید کہتی ہیں کہ زندگی گلابوں کا بستر نہیں ہے۔ مادھاپور کی زندگی کو چھوڑ کر چکرادواربندھم گاؤں میں آنا اور گاؤں والوں کے ساتھ گھل مل جانا مشکل ہے۔ میں نے ابتدائی دنوں میں مسائل کی پرواہ نہیں کی۔ مجھے راجا نگرم پولیس کا تعاون حاصل رہا‘‘۔

      گاؤں میں غیر قانونی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کی وجہ سے انھیں دھمکیاں بھی دی گئیا لیکن وہ کبھی خوفزدہ نہیں ہوئیں۔ انھوں نے گاؤں میں کم عمری میں کی جانے والی پانچ شادیوں کو روک دیا۔ اس کے علاوہ اب وہ گاؤں کے لوگوں میں کووڈ۔19 سے محفوظ رہنے کے لیے شعور بیداری کے کاموں میں لگی ہوئی ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: