உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    8 بچوں کے مبینہ طور پر تبدیلی مذہب پر مشنری اسکول پر پتھراؤ، اندر طلبا دے رہے تھے امتحان

     سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی پوسٹ کی گئی، جس میں بچوں کو اوپر پانی چھڑک کر انہیں عیسائی بناکر ان کا مذہب تبدیل کرنے کی بات کہی جا رہی تھی۔ واقعہ کے بعد گنج بسودا کے دیگر مشنری اسکولوں اور گرجا گھروں میں سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے ۔

    سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی پوسٹ کی گئی، جس میں بچوں کو اوپر پانی چھڑک کر انہیں عیسائی بناکر ان کا مذہب تبدیل کرنے کی بات کہی جا رہی تھی۔ واقعہ کے بعد گنج بسودا کے دیگر مشنری اسکولوں اور گرجا گھروں میں سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے ۔

    سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی پوسٹ کی گئی، جس میں بچوں کو اوپر پانی چھڑک کر انہیں عیسائی بناکر ان کا مذہب تبدیل کرنے کی بات کہی جا رہی تھی۔ واقعہ کے بعد گنج بسودا کے دیگر مشنری اسکولوں اور گرجا گھروں میں سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے ۔

    • Share this:
      ودیشا۔ مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh)  کے ودیشا کے ایک مشنری اسکول میں کافی ہنگامہ ہوا ہے۔ اسکول انتظامیہ پر 8 بچوں کو عیسائی مذہب میں تبدیل ہونے کا الزام ہے۔ مبینہ تبدیلی کے خلاف احتجاج میں اسکول میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ باہر سے اسکول پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ جب پتھراؤ ہو رہا تھا تو اندر طلباء کا امتحان جاری تھا۔ ودیشا ضلع کے گنج بسوڈا قصبے کے سینٹ جوزف اسکول میں ہندو تنظیم کے کچھ مشتعل لوگوں نے اسکول کے احاطے میں ہنگامہ کھڑا کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکول میں مذہب تبدیلی  کا کام کیا جا رہا ہے۔ وہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ بچوں کو لالچ دے کر مذہب تبدیل کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

      مشتعل لوگوں نے ایک میمورنڈم بھی دے کر اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بتادیں کہ گزشتہ دنوں سینٹ جوزف اسکول کے 8 بچوں کے مبینہ مذہب تبدیل کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ گزشتہ چند دنوں سے مسلسل میمورنڈم  دیا جا رہا تھا۔ ہنگامہ آرائی کے پیش نظر شہر کے مقامی چرچ، بھارت ماتا کانوینٹ اسکول اور سینٹ جوسف اسکول  (saint joseph school) میں پولیس انتظامیہ کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے شہر کے ایس پی اور کلکٹر موقع پر پہنچ گئے۔ اس معاملے میں ایس پی مونیکا شکلا نے کہا کہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال اس معاملے کو تحقیقات کے لیے لیا گیا ہے۔

      سوشل میڈیا پر مذہب تبدیلی کی چرچا
      بتادیں کہ گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر مشنری اسکول میں بچوں کو  مذہب تبدیل کرانے کی بحث چل رہی تھی۔ گنج بسوڑا میں واقع سینٹ جوسف اسکول  (saint joseph school)   کا نام تبدیلی مذہب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر بحث تھا۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی پوسٹ کی گئی، جس میں بچوں کو اوپر پانی چھڑک کر انہیں عیسائی بناکر ان کا مذہب تبدیل کرنے کی بات کہی جا رہی تھی۔ واقعہ کے بعد گنج بسودا کے دیگر مشنری اسکولوں اور گرجا گھروں میں سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے ۔

      پولیس کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے۔
      واقعے کے بعد اسکول منیجر نے پولیس اور انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اسکول کے محاصرے کی پیشگی اطلاع کے بعد بھی پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے۔ اسکول کے منیجر برادر انٹونی کا کہنا ہے کہ پولیس نے سیکورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کیے۔ آپ کو بتا دیں کہ جس وقت پتھراؤ کیا جا رہا تھا اس وقت سینٹ جوزف اسکول کے اندر 12ویں جماعت کے طلباء کے امتحانات چل رہے تھے۔ تقریباً 14 بچے جو امتحان دے رہے تھے وہ سکول کے اندر ہی تھے۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

      Published by:Sana Naeem
      First published: