உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بکری پالن سے کم خرچ میں ہوگا زیادہ منافع، حکومت بھی کرتی ہے مدد، ان باتوں کا رکھنا ہوتا ہے دھیان

    بکری پالن کے لئے حکومت بھی کرتی ہے مدد۔

    بکری پالن کے لئے حکومت بھی کرتی ہے مدد۔

    بکری کے کاشتکار دودھ اور گوشت کے ساتھ ساتھ بالوں، کھالوں اور ریشوں کا کاروبار بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بکری کے پیشاب کو بھی کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ گوٹ فارمنگ کے کاروبار میں ابتدائی لاگت کم ہے اور ان کی رہائش اور انتظام بھی کم خرچ ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:بکری پالن (Goat Rearing) کا کاروبار چھوٹے، محدود اور بے زمین کسانوں (Farmers) کے لئے ایک بہتر آپشن ہے۔ اس کاروبار میں کم جگہ، کم خرچ اور محدود دیکھ بھال کر کے بھی منافع کمایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 5 سال میں ہندوستان میں بکریوں کی تعداد میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہر 5 سال میں ہونے والی جانوروں کی گنتی کے اعدادوشمار کے مطابق اس میں 4.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

      ڈی ڈی کسان کی ایک رپورٹ کے مطابق 2012 میں مویشیوں کی آبادی 51.20 ملین تھی۔ 2019 میں یہ بڑھ کر 53 کروڑ 57 لاکھ 80 ہزار ہو گئی۔ مجموعی مویشیوں میں بکریوں کا حصہ 27.8 فیصد ہے۔ یعنی بکریوں کی تعداد 10 فیصد سے بڑھ کر 14.9 فیصد ہوگئی۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مویشی پالنے والے بکری پالنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

      بکری پالن کے لئے حکومت سے ملتی ہے مدد
      بکری کے کاشتکار دودھ اور گوشت کے ساتھ ساتھ بالوں، کھالوں اور ریشوں کا کاروبار بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بکری کے پیشاب کو بھی کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ گوٹ فارمنگ کے کاروبار میں ابتدائی لاگت کم ہے اور ان کی رہائش اور انتظام بھی کم خرچ ہے۔

      بکری پالنے میں حکومت کی طرف سے بھی مدد ملتی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے 25 سے 33 فیصد تک گرانٹس دستیاب ہیں۔ گوٹ فارمنگ کے کامیاب کاروبار کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحت مند اور تندرست رہیں۔ اگر بکری بیمار ہو جائے تو فوری علاج کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

      بکریوں میں ہونے والی بیماریاں
      بکریوں میں کچھ بیماریاں ہونے کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے۔ چیچک ان میںسے ایک ہے۔ یہ ایک متعدی بیماری ہے جو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جو سانس لینے یا جلد کے زخموں کے ذریعے جانور کے جسم تک پہنچتا ہے۔ اس بیماری کی علامات دو سے سات دنوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جب یہ بیماری ہوتی ہے تو صحت مند جانور الگ ہوجاتے ہیں۔

      دوسری بیماری نمونیا ہے۔ بکریوں کو پانی میں بھیگنے، ٹھنڈ لگنے اور موسم کی اچانک تبدیلی کی وجہ سے نمونیا ہو سکتا ہے۔

      پاؤں اور منہ کی بیماریاں- یہ ایک متعدی بیماری ہے اور بکریوں سمیت تمام جانوروں میں ہونے کا امکان ہے۔ اس بیماری میں پہلی علامت جانور کے منہ اور پاؤں میں زخم آجاتے ہیں۔

      ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بروقت ویکسینیشن ضروری ہے۔ اگر ماہرین کے مشورہ سے بکریاں پالی جائے تو یہ ایک منافع بخش کاروبار بن سکتا ہے۔ کرشی وگیان کیندروں کی طرف سے وقتاً فوقتاً ہر چھوٹے بڑے مسئلے کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ کسان یہاں سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: