உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Reservation in Promotion:پروموشن میں ریزرویشن کےمعاملے پرشرائط کوکم کرنےسےسپریم کورٹ کاانکار

    Youtube Video

    فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈیٹا کے بغیر نوکریوں میں پروموشن میں ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا۔ پروموشن میں ریزرویشن دینے سے پہلے ریاستی حکومتوں کو اعداد و شمار کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ ایس سی/ ایس ٹی کی نمائندگی کم ہے۔ نظرثانی کی مدت مرکزی حکومت کو طئے کرنی چاہیے۔

    • Share this:
      سپریم کورٹ(Supreme Court) نے جمعہ کو سرکاری ملازمتوں (Government Jobs) میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے پروموشن میں ریزرویشن (Reservation in Promotion)کے معاملے پر ایک اہم فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے SC/ST کے لیے ریزرویشن کی شرائط میں رعایت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈیٹا کے بغیر نوکریوں میں پروموشن میں ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا۔ پروموشن میں ریزرویشن دینے سے پہلے ریاستی حکومتوں کو اعداد و شمار کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ ایس سی/ ایس ٹی کی نمائندگی کم ہے۔ نظرثانی کی مدت مرکزی حکومت کو طئے کرنی چاہیے۔ اس سے پہلے، سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ ایس سی اور ایس ٹی کو پروموشن میں ریزرویشن دینے کے اپنے فیصلے کو دوبارہ نظر ثانی نہیں کریگاکیونکہ یہ ریاستوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اسے کیسے نافذ کرتی ہیں۔

      جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ نے تمام فریقین بشمول اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل بلبیر سنگھ اور دیگر سینئر وکلاء کی مختلف ریاستوں کی طرف سے پیش عرضیوں کی سماعت کی۔ بنچ میں جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس بی آر گوگوئی بھی شامل ہیں۔ بنچ نے 26 اکتوبر 2021 کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔


      فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ عدالت صرف اس معاملے پر فیصلہ کرے گی کہ ریزرویشن کا تناسب مناسب نمائندگی پر مبنی ہونا چاہیے یا نہیں۔ مرکز نے بنچ سے کہا تھا کہ یہ سچ ہے کہ ملک کی آزادی کے 75 سال بعد بھی ایس سی/ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اس سطح پر نہیں لایا گیا ہے جیسا کہ دیگر ترقی یافتہ طبقات پہنچے ہیں۔ وینوگوپال نے دلیل دی تھی کہ ایس سی اور ایس ٹی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے گروپ 'اے' زمرے کی نوکریوں میں اعلیٰ عہدہ حاصل کرنا بہت زیادہ مشکل ہے اور وقت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ سے اسامیوں کو پر کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) کے لیے دیا جائے گا۔

      SC/ST کے ساتھ اچھوت جیسا سلوک کیا گیا: اٹارنی جنرل

      اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ SCs/STs کو اچھوت سمجھا جاتا ہے اور وہ باقی آبادی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس لیے ریزرویشن ہونا چاہیے۔ وینوگوپال نے سپریم کورٹ میں نو ریاستوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا تھا اور نشاندہی کی تھی کہ ان سبھی نے مساوات کے اصول پر عمل کیا ہے تاکہ میرٹ کی کمی انہیں مرکزی دھارے میں آنے سے محروم نہ کرے۔

      ملک میں پسماندہ طبقات کی کل 52 فیصد آبادی ہے۔ اگر آپ تناسب کو لیں تو 74.5 فیصد ریزرویشن دینا ہوگا، لیکن ہم نے کٹ آف کو 50 فیصد مقرر کیا ہے۔ اگر عدالت عظمیٰ مقداری اعداد و شمار اور نمائندگی کی کافی مقدار کی بنیاد پر ریزرویشن کا فیصلہ ریاستوں پر چھوڑ دیتی ہے تو ہم وہیں پہنچ جائیں گے جہاں سے ہم نے شروعات کی تھی۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: