உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Row: کرناٹک میں جلدہی یونیفارم پرSOPs، پری یونیورسٹی و ڈگری کالجز کا کل سے آغاز

    طلبا نے ہائی کورٹ سے کہا کہ انہیں یونیفارم کی طرح ایک ہی رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت دی جائے۔

    طلبا نے ہائی کورٹ سے کہا کہ انہیں یونیفارم کی طرح ایک ہی رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت دی جائے۔

    کرناٹک حکومت نے پیر کے روز پی یو (پری یونیورسٹی) اور ڈگری کالجز کو بدھ سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا اور محکمہ پولیس کو جہاں بھی ضرورت ہو سیکورٹی بڑھانے کی ہدایت دی۔ حکومت نے پہلے ڈگری اور ڈپلومہ کالجوں کی بندش میں 16 فروری تک توسیع کی تھی۔

    • Share this:
      کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومائی (Basavaraj Bommai) نے پیر کے روز کہا کہ حجاب (Hijab) پر بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان حکومت اسکولوں اور کالجوں میں یونیفارم کے حوالے سے ایس او پیز (SOPs) جاری کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایس او پیز جاری کرنے سے پہلے ریاستی وزیر تعلیم سے اس معاملے پر بات کریں گے۔

      سی ایم بسواراج بومائی نے کہا آج دسویں جماعت تک کی کلاسیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ آج شام میں اپنے وزیر تعلیم کے ساتھ ایک میٹنگ میں شرکت کروں گا۔ ہم بات کریں گے کہ کیا ہوا ہے اور ایس او پیز جاری کریں گے۔ ہر ایک کو ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ کا یہ تبصرہ ایک ایسے دن آیا جب دسویں جماعت تک کے اسکول چھ دن کے وقفے کے بعد دوبارہ کھل گئے۔ 8 فروری کو بومئی نے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ جنوبی ریاست میں حجاب کے تنازع (hijab controversy) پر ہلچل مچ گئی تھی۔

      پری یونیورسٹی اور ڈگری کالج بدھ کو دوبارہ کھلیں گے۔

      کرناٹک حکومت نے پیر کے روز پی یو (پری یونیورسٹی) اور ڈگری کالجز کو بدھ سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا اور محکمہ پولیس کو جہاں بھی ضرورت ہو سیکورٹی بڑھانے کی ہدایت دی۔ حکومت نے پہلے ڈگری اور ڈپلومہ کالجوں کی بندش میں 16 فروری تک توسیع کی تھی۔ یہ فیصلہ سی ایم بومائی کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں لیا گیا، جس میں وزیر داخلہ آراگا جنیندر، پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے وزیر بی سی ناگیش، اعلیٰ تعلیم کے وزیر سی این اشوتھ، نارائن اور حکومت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

      کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں حجاب سے متعلق تمام درخواستوں پر غور کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے ریاستی حکومت سے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کی درخواست دی تھی اور تمام طلبا کو زعفرانی شال، اسکارف، حجاب اور کسی بھی مذہبی جھنڈے کو پہننے سے روک دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد حکومت نے 14 فروری سے ہائی اسکول کے طلبا کے لیے کلاس 10 تک اور اس کے بعد پری یونیورسٹی اور ڈگری کالجوں کے لیے دوبارہ کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی کے مطابق ریاست بھر کے ہائی اسکول آج دوبارہ کھل گئے۔

      طلبا نے ہائی کورٹ سے کہا کہ انہیں یونیفارم کی طرح ایک ہی رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت دی جائے۔ اس سے پہلے دن میں کرناٹک ہائی کورٹ کی تین رکنی بنچ نے پیر کو دوبارہ سماعت شروع کرنے کے بعد حجاب کیس کی سماعت منگل کی دوپہر تک ملتوی کر دی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: