உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Online Classes: کس طرح آن لائن کلاسیز خاص ضرورت والے بچوں کیلئے ہیں نقصاندہ؟ جانیے تفصیلات

    طلبا آن لائن اسکولنگ کے دوران آسانی سے خلفشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    طلبا آن لائن اسکولنگ کے دوران آسانی سے خلفشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    اپاسنا مہتانی لوتھرا (Upasana Mahtani Luthra ) ماں پر اثر انداز کرنے والے پروگرام GurgaonMoms کی ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے کورونا وبا کے دوران خصوصی ضرورت والے بچوں سے متعلق آن لائن تعلیم کے اثرات کے ضمن میں یہ مضمون پیش کیا ہے۔

    • Share this:
      تمام بچے خاص ہیں۔ تاہم خصوصی ضروریات والے بچوں کو ان کی ضروریات کی وجہ سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ میں ایک نیورو ٹائپیکل اور خصوصی ضروریات والے بچے کی ماں ہوں۔ پچھلے دو سال بہت مشکل رہے ہیں۔ وہ طرح کہ خصوصی ضروریات والے بچوں کو صرف اسکرین سے بڑھ دوستوں، اساتذہ، ماحول اور دیگر چیزوں کی بھی ضرورت ہوتی ہیں۔ تاکہ ان کے سیکھنے کے عمل کو بہتر سے بہتر اور موثر بنایا جاسکے۔

      گذشتہ تقریبا ڈھائی سال سے بچوں کو گھر تک محدود رہنے میں کافی وقت گزر گیا ہے۔ یہ جسمانی اور ذہنی طور پر غیر فطری ہے۔ یہ بدلے میں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ میں یہاں خاص طور پر خصوصی ضروریات والے بچوں سے متعلق چند نکات کی وضاحت کرنا چاہو گی:

      انسانی تعلقات (The Human Connect):

      زیادہ تر خصوصی ضروریات والے بچے سماجی طور پر اپنے آپ کو مشغول رکھنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یوں وہ انسانی تعلقات کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ وہ اس طرح بہتر تعلقات کے اظہار کے ساتھ اچھی طرح کام کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کے چہروں سے بہت کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ اسکرین پر مشکل ہے۔

      سماجی تعامل (Social Interaction):

      آن لائن تعلیم کے دوران یہ خصوصی ضروریات والے بچوں کے لیے بہت مشکل ہے۔ اسکول کے آن لائن ہونے پر فزیکل اسکول کے سیٹ اپ میں ان کے پاس جو تھوڑا سا موقع ہے وہ بھی ان سے چھین لیا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بیٹے کے دوستوں نے فزیکل اسکول میں پہلے ہفتے کے دوران مجھے بتایا تھا کہ جب میرا بچہ ان کے پاس گلے ملنے گیا تو وہ کتنا خوش تھے۔

      ساتھیوں کے ساتھ ملاقات (Meeting With Peers):

      بچے اپنے ساتھیوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں- آن لائن کلاسیز سے اس میں کمی نہیں ہوئی بلکہ اس سے آداب، عادات اور عمومی رویے پر بھی زبردست منفی اثر پڑتا ہے۔ اس دوران ان بچوں میں جوش و ولولہ اور مسرت سے بھر پور احساسات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگر خاص ضرورت والے بچے کو اس کا شعور نہ ہو تو وہ ان مسائل سے بڑے پیمانے پر متاثر ہوسکتا ہے۔

      روٹین (Routine):

      خصوصی ضروریات والے بچے روٹین کے لیے ترستے ہیں۔ آن لائن اسکول کے ساتھ یہ ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ بجلی کی کٹوتی جیسی معمولی رکاوٹ بھی ان کے دماغوں میں خلل ڈال سکتی ہے۔ آن لائن نظام تعلیم کا وقفہ طویل ہو تو استاد اور والدین کے لیے انہیں کلاس میں واپس لانا مشکل ہوسکتا ہے۔

      خلفشار (Distractions):

      طلبا آن لائن اسکولنگ کے دوران آسانی سے خلفشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میرا بیٹا یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے کے لیے مسلسل نئے ٹیبز کھولتا ہے لیکن اس کے لیپ ٹاپ کے استعمال کی مسلسل نگرانی کرنا ایک چیلنج ہے۔

      میں اپنے منتظمین سے بھی گزارش کروں گی کہ وہ ان مسائل کے بارے میں کچھ غور کریں جو ہر سال این سی آر میں تباہی پھیلاتی ہے، تاکہ ہمیں دوبارہ خوفناک ’آلودگی کی چھٹیوں‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مجھے امید ہے کہ کوئی ہماری بات سن رہا ہے۔

      اپاسنا مہتانی لوتھرا (Upasana Mahtani Luthra ) ماں پر اثر انداز کرنے والے پروگرام GurgaonMoms کی ڈائریکٹر ہیں۔ اس مضمون میں بیان کردہ خیالات مصنفہ کے ذاتی خیالات ہیں، جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: