உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderabad News: معیار تعلیم تک رسائی، اساتذہ کی تربیت پر توجہ اور علم کے اسلامی تصور کو عام کرنے کی ضرورت

    Hyderabad News: معیار تعلیم تک رسائی، اساتذہ کی تربیت پر توجہ اور علم کے اسلامی تصور کو عام کرنے کی ضرورت

    Hyderabad News: معیار تعلیم تک رسائی، اساتذہ کی تربیت پر توجہ اور علم کے اسلامی تصور کو عام کرنے کی ضرورت

    Hyderabad News: ایس آئی او حلقہ تلنگانہ نے ریاست میں اقلیتوں کی تعلیمی صورتحال، ان کے مسائل اور حل کے سلسلہ میں گفتگو کے لئے ایک اہم پروگرام منعقد کیا، جس میں ریاست کے مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ ذمہ داران اور ماہر تعلیم حضرات نے شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Telangana | Hyderabad | Hyderabad
    • Share this:
       حیدرآباد : اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) گزشتہ چالیس سالوں سے تعلیمی میدان میں بیداری اور معیارِ تعلیم کی بلندی کے سلسلہ میں جدوجہد کررہی ہے، اس ضمن میں تعلیمی اداروں کی سطح پر بھی اور حکومتی سطح پر پالیسیوں میں مداخلت کے لئے بھی مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی رہی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی میں بھی کچھ اہم تبدیلیوں کے سلسلہ میں ایس آئی او نے حکومت کو تجاویز پیش کئے تھے، جس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے طور پر ایس آئی او حلقہ تلنگانہ نے ریاست میں اقلیتوں کی تعلیمی صورتحال، ان کے مسائل اور حل کے سلسلہ میں گفتگو کے لئے ایک اہم پروگرام منعقد کیا، جس میں ریاست کے مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ ذمہ داران اور ماہر تعلیم حضرات نے شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

      مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈائرکٹر فصیح خان نے کہا کہ اسکول اور کالج کی سطح پر طلبہ کی رہنمائی کی ضرورت ہے، حکومتی انتظامیہ میں مسلم نمائندگی کی ضرورت ہے تاکہ لابنگ اور پالیسی سازی کے کاموں میں آسانی ہوسکے۔ شہید حسرت، ایس سی ای آر ٹی نے کہا کہ اسکول اور کالجز ک تعداد بہت زیاد ہے لیکن ان کا معیار بہت کمزور ہے، بی ایڈ کی تعلیم سیکھنے کے بجائے وقت گزاری کے لیے حاصل کی جارہی ہے جس کی وجہ سے معیاری اساتذہ کا فقدان ہے، اسکول کے ساتھ ساتھ ٹیوشن کا کلچر بہت نقصان پہنچا رہا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: جنید پٹھان نے UPSC کے تحت لئے جانے والے EPFO امتحان میں حاصل کی کامیابی


      ڈاکٹر افتخار نے کہا کہ اکثر اعلیٰ تعلیم پر گفتگو ہوتی ہے، لیکن پرائمری سطح پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، تعلیم ترک کردینے والے طلبہ کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ وہیں غازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ میں تحریری صلاحیتیں کم ہورہی ہے، جس کی وجہ سے اہم مسابقتی امتحانات میں نشانات بہت کم آرہے ہیں، اس صلاحیت کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ شاہین اکیڈمی کے نمائندے مفتی مجید نے کہا کہ تعلیمی بیداری کے پروگرامز مساجد، چوراہوں اور ہر مقام پر کرنا چاہئے، اساتذہ میں خیرخواہی کا جذبہ پیدا کرنے ضرورت ہے  اور طلبہ کو ان کی استعداد کے مطابق میدانوں میں تعلیم حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: CUET 2022: پہلے سے طئے شدہ امتحانی مراکز منسوخ، 8000 سے زائد طلبا متاثر


      اس کے علاوہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور حیدر آباد سنٹرل یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز نے تعلیم تک رسائی، آر ٹی ای پر عمل آوری، طلبہ،اساتذہ اور والدین کی تربیت اور رہنمائی وغیرہ پر گفتگو کی۔ اختتام میں ریاستی صدر ایس آئی او، ڈاکٹر طلحہ فیاض الدین نے کہا کہ اس نشست میں بہت سارے مسائل اور ان کے حل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے، اس سلسلہ میں ایس آئی او مختلف پروگرامز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں تمام احباب کے ساتھ اشتراک اور تعاون بھی درکار ہے۔

      انہوں نے مزید کہاکہ کرئیر گائیڈنس کے سلسلہ میں ایس آئی او آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے طلبہ کی رہنمائی کرتی ہے۔ تعلیم کے اسلامی فلسلہ پر ہم سب کو توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ علم ضرورت کے بجائے شوق سے حاصل کیا جائے اور اس کو اللہ تک رسائی کا ذریعہ سمھا جائے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: