اپنا ضلع منتخب کریں۔

    امریکہ میں سب سے پہلے میڈیکل ڈگری حاصل کرنے والی ہندوستان خواتین

    آنندی بائی جوشی(بائیں) اور گوروبائی کرماکر نے امریکی ریاست پین سلوانیا کے ویمنس میڈیکل کالج سے میڈیکل ڈگری حاصل کی۔(تصاویر بشکریہ وکی پیڈیا)

    آنندی بائی جوشی(بائیں) اور گوروبائی کرماکر نے امریکی ریاست پین سلوانیا کے ویمنس میڈیکل کالج سے میڈیکل ڈگری حاصل کی۔(تصاویر بشکریہ وکی پیڈیا)

    ہندوستانی خواتین کی ایک مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد ڈاکٹر، نرس، پروفیسر، سائنسداں محقق اور بہت کچھ بننے کے لیے آج امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ لیکن ایسی عالمی معیار کی طبّی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ہمیشہ موجود نہیں تھا۔

    • Share this:
      مائیکل گیلنٹ

      ہندوستانی خواتین کی ایک مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد ڈاکٹر، نرس، پروفیسر، سائنسداں محقق اور بہت کچھ  بننے کے لیے آج امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ لیکن ایسی عالمی معیار کی طبّی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ہمیشہ موجود نہیں تھا۔ آنندی بائی جوشی اور گروبائی کرمارکر جیسی سرکردہ  ڈاکٹروں نے تمام تر مشکلات کے باوجود آج کی ہندوستانی خواتین کے لیے بین الاقوامی طبّی تعلیم کے ان کے  خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیےایک صدی سے زائد عرصہ پہلے راستہ ہموار کیا ۔

      جوشی کی ولادت  1865 میں ممبئی کے قریب  ہوئی ۔ 18 سال کی عمر میں انہوں نے امریکہ میں طب کی تعلیم حاصل کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان میں خواتین ڈاکٹروں کی  ضرورت بڑھتی جا رہی ہے، اس لیے انہوں نے امریکہ میں طبّی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کی۔

      جوشی کے ہدف کا حصول  مشکل تھا کیونکہ  انہیں اس راہ  میں متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسا کہ اس وقت عام بات تھی، جوشی کی شادی 9 سال کی عمر میں ہی  کر دی گئی  تھی۔ حالانکہ، ان  کے شوہر نے تعلیم سے متعلق  ان  کے خوابوں کی حمایت کی۔  تاہم پریسبیٹیرین چرچ نے  امریکہ  میں تعلیم کے حصول کے  لیےمالی اعانت کی  ابتدائی درخواست کو اس لیے مسترد کر دیا کیونکہ چرچ کے اہلکاروں کو لگا کہ  جوشی عیسائی  مذہب قبول نہیں کریں گی ۔ وہیں،  جوشی کی اپنی برادری نے ابتدا میں ان کے  امریکہ جانے کی  اس اندیشے  کی وجہ سے  مخالفت کی کہ وہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے اور وہاں قیام  کے دوران اپنے رسم و رواج کی پاسداری نہیں کر  پائیں گی۔

      اس طرح کے شکوک و شبہات کے باوجود جوشی  اپنے دوستوں اور شناساؤں  کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں جنہوں نے عطیات کے ذریعے ان  کے سفر کی مالی اعانت کی۔ اپنے والد کی طرف سے تحفے کے طور پر ملنے والے زیورات بیچنے کے بعدجوشی اپنے سفر کے اخراجات ادا کرنے  کی اہل ہو گئیں اور 1883 میں پانی کے جہاز سے کولکاتہ سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئیں۔انہوں  نے پین سلوانیا  کے ویمنس میڈیکل کالج میں  داخلہ لیا اور 1886 میں گریجویشن مکمل کیا ۔اس طرح  وہ امریکی میڈیکل ڈگری حاصل کرنے والی  پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں۔

      یہ بھی پڑھئے: آئیوی لیگ اداروں سے بعید تعلیمی مواقع کی جستجو، کچھ کم معروف امریکی کالج زیادہ معروف اداروں سے بھی کہیں زیادہ فراہم کرتے ہیں مواقع


      یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں تعلیم کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا کیسے کریں حاص؟ کیا ہے طریقہ کار؟ اہم سوالات اور اسکے جوابات


      جوشی کو افسوسناک طور پرتپ دق کا مرض لاحق ہوا اور اس سے پہلے کہ وہ ہندوستانی خواتین کی مدد کے لیے اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال کر پاتیں(جیسا کہ انہوں نے خواب دیکھا تھا)  22 برس سے بھی کم عمر میں ہی 1887ء میں  ان کی موت ہوگئی۔ لیکن دیگر خواتین جلد ہی ان کے نقش قدم پر چل پڑیں۔

      جوشی کےڈاکٹر بننے کے صرف چھ سال بعد دوسری ہندوستانی خاتون گرو بائی کرمارکر نے بھی پین سلوانیا  کے اسی ویمنس میڈیکل کالج سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی۔ کرمارکر ایک عیسائی راہبہ تھیں۔ انہوں نے طب کی تعلیم حاصل کی جبکہ ان کے شوہر نے ایک  قریبی عیسائی درسگاہ  میں علم دینیات  سیکھا۔ کرمارکر 1893ء میں ہندوستان لوٹ آئیں اور ممبئی میں امریکی مراٹھی مشن کے لیے 30  سال سے  زائد عرصے تک کام کرتی رہیں ۔ اپنے  پورے کریئر کے دوران   ان کے کام میں سب سے زیادہ غیر محفوظ  مریضوں کا علاج کرنا  شامل تھا، جس میں  جذام میں مبتلا افراد اور قحط کی وجہ سے فاقہ کشی کا شکار بچے شامل تھے۔

      حالانکہ  جوشی اور کرمارکر کے راستے کئی لحاظ سے  مختلف تھے لیکن ان میں کچھ اہم خصوصیات  مشترک  بھی تھیں۔ مثال کے طور پر کچھ نئی چیزیں دریافت کرنے کا عزم ، مزید جاننے کے لیے گہرا تجسس اور ساتھی بھارتی خواتین اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے تئیں  گہری  عہدبستگی۔  ان کی مثالوں سے  آج بھی ترغیب ملتی ہے  اور امریکہ کے اعلیٰ میڈیکل اسکول فخر کے ساتھ بھارتی  خواتین کو اپنی گریجویشن کلاسوں میں شمار کرتے ہیں۔ ایسے تمام ڈاکٹر جوشی اور کرمارکر جیسی علمبرداروں کے ممنون  ہیں جنہوں نے ان کے لیے راستہ ہموار کرنے میں مدد کی۔

      مائیکل گیلنٹ نیویارک سٹی میں مقیم قلمکار، موسیقار اور کاروباری پیشہ ور ہیں۔

      بشکریہ سہ ماہی اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: