உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہر آرزو کو ملا بڑا اعزاز جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پہلی خاتون وائس چانسلر نجمہ اختر پدم شری ایوارڈ کے لیے منتخب

    نجمہ اختر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

    نجمہ اختر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

    پروفیسر نجمہ اختر ایک ماہر تعلیم کے طور پر کئی دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ رکھتی ہیں۔ جامعہ میں شامل ہونے سے پہلے نجمہ اختر کشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انھوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (NIEPA) میں 15 سال تک ایجوکیشنل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی بھی کی۔

    • Share this:
      جامعہ ملیہ اسلامیہ (Jamia Millia Islamia) کی پہلی خاتون وائس چانسلر نجمہ اختر (Najma Akhtar) کو پدم شری ایوارڈ (Padma Shri award) کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند (Ram Nath Kovind) کے ہاتھوں ادب اور تعلیم کے زمرے میں پروفیسر نجمہ اختر کو یہ ایوارڈ دیا جائے گا۔ نجمہ اختر نہ صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ بلکہ دہلی کی کسی بھی مرکزی یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر ہیں۔ وہ 1953 میں پیدا ہوئیں۔

      پروفیسر نجمہ اختر ایک ماہر تعلیم کے طور پر کئی دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ رکھتی ہیں۔ جامعہ میں شامل ہونے سے پہلے نجمہ اختر کشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انھوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (NIEPA) میں 15 سال تک ایجوکیشنل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی بھی کی۔

      وہ الہ آباد میں ریاستی سطح کا پہلا انتظامی ادارہ قائم کرنے اور این آئی ای پی اے میں بین الاقوامی تعلیمی منتظم کا کورس شروع کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ وہ نیشنل اوپن یونیورسٹی اگنو (IGNOU) میں بھی کئی عہدوں پر فائز رہی ہیں۔ انھوں نے فاصلاتی طرز تعلیم میں پڑھانے والے اساتذہ کے لیے کورسیز بنانے پر بھی کام کیا۔


      پدم شری ایوارڈ کے لیے منتخب کیے جانے پر پروفیسر نجمہ اختر نے کہا کہ ’’میں یہ ایوارڈ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے ساتھیوں کی جانب سے قبول کروں گی۔ اب جب کہ ہمیں یہ ایوارڈ ملا ہے تو اس سے ہماری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اور ہمیں مزید محنت کرنے کی ترغیب ملے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے مجھے اور میرے کام کو پہچانا اور مجھے ایوارڈ کے لیے موزوں سمجھا۔ خاص طور پر ہمارے صدر نے مجھے مرکزی یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر کے طور پر ذمہ داری سونپی۔ مجھے یقین ہے کہ میں نے امیدیں پوری کی ہیں‘‘۔

      وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں صنفی مساوات کے لیے کام کر رہی ہیں۔ نجمہ اختر مے نیوز 18 اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں خواتین کا داخلہ 50 فیصد ہو۔ ہندوستان بھر کے کالجوں میں خواتین کا داخلہ عام طور پر مردوں سے کم ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا مقصد جامعہ میں ایک میڈیکل کالج قائم کرنا بھی ہے۔

      اے ایم یو گولڈ میڈلسٹ:

      نجمہ اختر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ انھوں نے کروکشیترا یونیورسٹی سے تعلیم میں پی ایچ ڈی کی ہے اور یونیورسٹی آف واروک اور ناٹنگھم میں یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن کورس کے لیے کامن ویلتھ فیلو رہ چکی ہیں۔ نجمہ نے یونیسکو کے زیراہتمام انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ (IIEP)، پیرس میں بھی تربیت حاصل کی ہے۔

      اپنے وی سی کو مبارکباد دیتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ٹویٹ کیا کہ یہ @jmiu_official کے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر کو ادب اور تعلیم کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے لیے #PadmaSri Award کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

      یہ بات قابک ذکر ہے کہ رواں برس صدر جمہوریہ نے 128 پدم ایوارڈز کی منظوری دی ہے۔ اس فہرست میں چار پدم وبھوشن، 17 پدم بھوشن اور 107 پدم شری ایوارڈز شامل ہیں۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں کل 34 خواتین ہیں اور اس فہرست میں غیر ملکیوں کے زمرے سے 10 افراد، این آر آئی، پی آئی او، او سی آئی اور 13 بعد از مرگ ایوارڈ یافتہ بھی شامل ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: