உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر میں 10th اور 12thکلاس احتیاطی اقدامات کے ساتھ آف لائن ہوں گی شروع

    Youtube Video

    والدین کے ساتھ ساتھ طالب علم بھی یو ٹی انتظامیہ کے اس قدم سے خوش ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی ادارے اس حکم کی عمل آوری کو یقینی بنائیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    جموں و کشمیر میں کورونا صورتحال میں بہتری آنے کے ساتھ ہی انتظامیہ نے یوٹی میں دسویں اور بارہویں جماعت کے لئے چند احتیاطی اقدامات کے ساتھ آف لائین کلاسز شروع کئے جانے کو ہری جھنڈی دکھائی جس کا عام طور پر مثبت تاہم محتاط انداز می خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آف لائین کلاسز شروع کرنا نہایت ہی لازمی ہے تاہم اسکول انتظامیہ پر ذمہ داریاں عائید ہوتی ہیں کہ وہ کووڈ ضابطہ اخلاق کی عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ نامور ماہر تعلیم سنتوش کمار کاکہنا ہے کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کے لئے آف لائین کلاسز شروع کرنا اس لئے بھی لازمی ہے کیونکہ یہ دو کلاسز بچے کے مستقبل کو طے کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کووڈ وبا کی وجہ سے ریگولر اسکول نہ جانے کے باعث بچوں کے ذہنوں پر منفی اثر پڑا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں اور اساتذہ کے درمیان بات چیت ہونا لازمی ہے ۔ سنتوش کمار نے کہا کہ جموں خطے کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولیت دستیاب نہیں ہے اور والدین کی خاصی تعداد زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے جسکی وجہ سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اگرچہ آن لائین کلاسز کے دوران بچوں کو سوالات کرنے کا موقع بھی فراہم ہوپاتا ہے تاہم زیادہ تر بچے ایک ساتھ ہی اپنے استاد سے سوالات پوچھتے ہیں جسکا جواب دینا کئی بار مشکل ہوجاتا ہے جبکہ آف لائین کلاسز کے دوران بچے ایک ایک کرکے اپنے استاد سے سوالات پوچھ پاتے ہیں اور انکا تفصیلی جواب بھی دیا جاتا ہے۔
    دریں اثنا والدین اور طلبہ نے بھی اس فیصلے کو خوش آئیند قرار دیا تاہم انہوں نے تعلیمی اداروں میں کووڈ ضابطہ اخلاق کی مکمل عمل آوری کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ گاندھی نگر جموں کے سُبھاش شرما کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرفسے لیا گیا یہ فیصلہ صیح وقت پر لیا گیا موضون فیصلہ ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نےکہا کفہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کووڈ وُبا کی وجہ سے بچے گھروں میں جیسے قید ہوکر رہ گئے ہیں جسکے باعث وہ نہ صرف جسمانی کمزوری بلکہ ذہنی تنائو کے بھی شکار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول دوبارہ کھل جانے سے بچوں کی مجموعی نشو و نما پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ ایک اور مقامی باشندے رتن لعل رینہ نے کہا کہ انتظامیہ کی طرفسے اٹھایا گیا یہ قدم قابل ستائیش ہے کیونکہ آن لائین کلاسز کےت مقابلے میں آف لائین کلاسز زیادہ اثر دار ہوتے ہیں کیونکہ بچے کلاس روم میں پڑھائی کرنے سے چیزوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے چونکہ کلاس روم میں اساتذہ اور بچوں کے درمیان سوال و جواب کرنے کا موقع دستیاب رہتا ہے جسکے نتیجے میں بچے مضامین کو بہتر طور پر ذہن نشین کر سکتے ہین،۔ رینہ نے تاہم کہا کہ سکول انتظامیہ کو چاہئیے کہ وہ تعلیمی اداروں میں کووڈ ضابطہ کی مکمل عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ نیوز ایٹین اردو کے ستھ بات کرتے ہوئے رینہ نے کہا کہ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے سکولف جائیں تاہم سکول انتظامیہ کی زمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔

    والدین کے ساتھ ساتھ طالب علم بھی یو ٹی انتظامیہ کے اس قدم سے خوش ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی ادارے اس حکم کی عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ مُٹھی جموں کے بارہویں کلاس کے طالب علم نکھل گُپتا کا کہنا ہے کہ وہ اُس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں جب وہ ایک بار پھر سکول جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران انہیں چند ایک ماہ کے لئے ہی سکولف جانے کا موقع ملا اور زیادہ تر وقت اپنے ہی گھر میں گزارنا پڑا جسکے باعث وہ کافی بوریت محسوس کر رہے ہیں۔ نکھل نے کہا اگرچہ سکول انتظامیہ کی طرفسے آن لائین کلاسز کا اہتمم ہوتا رہا ہے تاہم آف لائین کلاسز کے انعقاد سے تمام طالب علم مختلف مضامین کی پڑھائی بہتر طور سے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول کھل جانے کے بعد اب وہ لیبارٹری میں پریکٹیکل میں بھی شریک ہوسکتے ہیں جو سائینس مضامین پڑھنے والے طالب علموں کے نصاب کا اہم جُز ہے۔ گاندھی نگر جموں کی رینو نامی بارہویں جماعت کی طالبہ نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ نہ صرف اپنے ساتھی طالب علموں بلکہ اپنے ٹیچرس کے ساتھ بھی مل پائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آف لائین کلاسز کے دوران وہ اپنے اسا تذہ کے ساتھ بات کرکے پڑھائی سے متعلق تمام سک و شبہات کو دور کر سکتی ہیں۔
    واضح رہے کہ انتظامیہ نے جموں و کشمیر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے طالب علموں کے لئے پچاس فی صدی طلبہ کی شرکت کے ساتھ آف لائین کلاسز شروع کرنے کو ہری جھنڈی دکھائی ہے۔ پانچ ستمبر کو سرکار کی طرفسے جاری رہنما خطوط کے مطابق بارہویں جماعت کے ان طالب علموں کو آف لائین کلاسز میں شریک ہونے کی اجازت ہوگی جنہوں نے ویکسنیشن مکمل کی ہو جبکہ دسویں جماعت کے طالب علموں کے لئے آر ٹی پی سی آر اور آر اے ٹی جانچ لازمی قرار دی گئی ہے۔ گائیڈ لائینز کے مطانبق سکول انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ صرف انہی اساتذہ کو سکول میں پڑھانے کی اجازت دے جنہوں نے کووڈ ویکسین کے دونوں ڈوز لگوائے ہوں۔ اگرچہ ابھی عام کوچنگ مراکز بند رکھے جانے کا فیصلہ قائیم رکھا گیا ہے تاہم نیٹ اور جے ای ای سے متعلق کوچنگ فراہم کرنے والے مراکز کو کووڈ ضوابط کے تحت کھولنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: