ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

40 ہزار ٹیچروں کی نوکریاں چلی گئی ہیں، 2 لاکھ ٹیچرس کو تنخواہیں نہیں مل رہیں: کانگریس

بنگلورو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر سلیم احمد نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن سے تعلیم نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو تعلیم کی جانب توجہ دینا چاہئے تھا لیکن۔۔

  • Share this:
40 ہزار ٹیچروں کی نوکریاں چلی گئی ہیں، 2 لاکھ ٹیچرس کو تنخواہیں نہیں مل رہیں: کانگریس
لاک ڈاؤن سے تعلیم نظام بری طرح متاثر ہوا ہے: کانگریس

ملک بھر میں ہر سال کی طرح اس بار بھی 5 ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جارہا ہے۔ کرناٹک میں کورونا کی وبا کے باعث کہیں بھی کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی۔ وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا اور دیگر اہم شخصیات نے تمام اساتذہ کو ٹیچرس ڈے کی مبارکباد پیش کی ہے۔ دوسری جانب یوم اساتذہ کے موقع پر ریاست کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اسکولوں، ٹیچروں اور طلبہ کو درپیش سنگین مسائل کو حکومت کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ بنگلورو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر سلیم احمد نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن سے تعلیم نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو تعلیم کی جانب توجہ دینا چاہئے تھا لیکن حکومت اندھی  اور گونگی بن کر بیٹھی ہوئی ہے۔

سلیم احمد نے کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں کرناٹک میں نجی تعلیمی اداروں کے 40 ہزار ٹیچرز نوکریاں گنوا بیٹھے ہیں۔ 2 لاکھ اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ حالات سے مجبور ہو کر ٹیچر روزی روٹی کیلئے چھوٹے موٹے پیشے اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی شعبہ  کی پریشانیاں سننے والا کوئی نہیں ہے۔ کئی نجی اسکول بند ہونے کے دہانے پر آگئے ہیں۔ اسکول کب شروع ہونگے، طلبہ کی تعلیم کا سلسلہ کیسے جاری رہے گا اس پر کوئی بھی وضاحت حکومت کی جانب سے اب تک نہیں آئی ہے۔


انہوں نے کہا کہ مصیبت کے اس دور میں حکومت کو چاہئے تھا کہ ٹیچروں اور تعلیمی اداروں کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جاتا، ٹیچروں کو مالی مدد فراہم کرنے کیلئے کوئی اسکیم جاری کی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔سلیم احمد نے کہا کہ حکومت نے اب تک ٹیچروں کو کورونا وارئرس کا درجہ تک نہیں دیا ہے۔ حالانکہ ٹیچروں کے ذریعہ کورونا متاثرین کا سروے کروایا گیا ہے۔ اس دوران چند ٹیچروں کی موت بھی ہوئی ہے۔ لیکن انتقال کرگئے ٹیچروں کے اہل خانہ کو معاوضہ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر سلیم احمد نے کہا کہ ان تمام تعلیمی مسائل کو کانگریس پارٹی آنے والے اسمبلی اجلاس میں شدت کے ساتھ اٹھائےگی اور ٹیچروں کو انصاف دلوانے کی پوری کوشش کریگی۔دوسری جانب بنگلورو میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں نے یوم اساتذہ کے موقع تمام ٹیچروں کو مبارکباد دی ہے۔


الامین ایجوکیشنل سوسائٹی کے سکریٹری سبحان شریف نے کہا کہ ٹیچروں کی عظیم خدمت کے ذریعہ ہی ملک کی تعمیر اور ترقی ہوتی ہے۔  تعلیم کے ذریعہ ہی ملک سپر پاور بن سکتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سب سے زیادہ توجہ تعلیم کی جانب دے۔شاہین فالکان تعلیمی ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر عبدالسبحان نے کہا کہ مذہب اسلام میں اساتذہ کا مقام کافی بلند ہے۔ قرآن مجید کی پہلی آیات اقراء یعنی "پڑھو" کی ہے۔ اللہ تعالٰی کے اس حکم کو نافذ کرنے والے اساتذہ ہیں۔ لہذا اساتذہ کی ہم سب کو قدر کرنی چاہئے۔ اساتذہ کی پریشانیوں کو دور کرنے کیلئے حکومت کو ٹھوس قدم اٹھانے چاہئے۔ امامیہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے صدر مرزا محمد مہدی نے کہا کہ درس و تدریس کا پیشہ ایک نوبل پیشہ ہے۔ ٹیچرز کا رول کافی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے جو ٹیچر پریشان حال ہیں انکی مدد کی جانی چاہئے۔ اگر حکومت سے کوئی قدم نہ اٹھائے تو سماج کو آگے آنا چاہئے۔ ٹیچرز  ویلفیئر فنڈ قائم کرتے ہوئے لاک ڈاؤن سے متاثر ہوئے اساتذہ کی مدد کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچر اگر خوش رہینگے تو وہ بچوں کو اچھی طرح پڑھا پائیں گے۔ بچوں کا مستقبل ٹیچروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے لہذا حکومت کے ساتھ ساتھ سماج کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے وہ اساتذہ کو ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کرنے کیلئے آگے آئے۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 05, 2020 04:39 PM IST