உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab: چھ مسلم طالبات اب بھی اپنے موقف پر قائم، ’حجاب مذہبی آزادی اور آئینی حق‘

    ’حجاب مذہبی آزادی اور آئینی حق‘

    ’حجاب مذہبی آزادی اور آئینی حق‘

    طالبات حجاب چھوڑنے کے مطالبات کو ٹھکرا رہی ہیں اور اپنے موقف پر قائم ہیں کہ جب تک حکومت انہیں حجاب پہننے اور کلاسیز میں شرکت کی اجازت نہیں دیتی وہ کلاس رومز کے باہر بیٹھ کر احتجاج جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حجاب پہننا ان کی مذہبی آزادی اور آئینی حق ہے۔

    • Share this:
      کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش (B C Nagesh) نے اپنے ادارے میں ’حجاب کا استعمال نہ کرنے‘ کے اصول کے خلاف چھ مسلم طالبات کے احتجاج کو ایک سیاسی اقدام قرار دیا ہے اور سر ڈھانپنے کے لیے کپڑے کے استعمال کو بے نظمی قرار دیا ہے۔ وہیں کرناٹک کے اڈپی میں واقع گورنمنٹ گرلز پری یونیورسٹی کالج نے چھ طالبات کو حجاب پہنن کر کلاس روم میں جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

      اس تنازعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ناگیش نے کہا کہ اس ادارے میں سو سے زیادہ مسلم بچے پڑھ رہے ہیں جنہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ صرف یہی چند طالبات احتجاج کرنے کا منصوبہ بنارہی ہیں۔ اسکولز اور کالجز کو مذہبی مراکز میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ کلاس روم میں حجاب پہننا بے ضابطگی کے مترادف ہوگا کیونکہ دیگر طلبا بھی اسی طرح کی رعایتوں کی توقع کر سکتے ہیں۔ دریں اثنا طلبا نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک انہیں حجاب پہن کر کلاسیز میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

      کالج کی آٹھ طالبات کالج کیمپس میں کئی دنوں سے احتجاج کر رہی ہیں کہ انہیں یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے پر کلاس رومز میں داخلے سے منع کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے پانچ II PUC میں پڑھ رہے ہیں اور تین طالبات I PUC میں پڑھ رہے ہیں۔ طالبات حجاب چھوڑنے کے مطالبات کو ٹھکرا رہی ہیں اور اپنے موقف پر قائم ہیں کہ جب تک حکومت انہیں حجاب پہننے اور کلاسیز میں شرکت کی اجازت نہیں دیتی وہ کلاس رومز کے باہر بیٹھ کر احتجاج جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حجاب پہننا ان کی مذہبی آزادی اور آئینی حق ہے۔

      وزیر تعلیم نے کہا کہ یہ فیصلہ 1985 میں اسکول ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمیٹی نے کیمپس میں یونیفارم کے حوالے سے کیا تھا۔ اب تک تمام بچے مذکورہ اصول کی پیروی کر رہے ہیں۔ کوئی بھی ادارہ ہو، اگر وہ کوئی قاعدہ بنائے تو جو طلبا پڑھنا چاہتے ہیں ان کے لیے اس پر عمل لازم ہے۔ اس اصول کی پیروی کی گئی اور وہ اچانک کیوں بدل گئے؟ ناگیش نے سوال کیا کہ ان دنوں مذہبی آزادی کہاں گئی؟ یہ سیاسی سوال ہے۔ اگر دوسرے اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننا شروع کر دیں تو کیا ہوگا؟ کیا ہمیں انہیں اجازت دینی ہوگی، طلبا آدھے لباس میں آئیں گے، کیا ہمیں انہیں اجازت دینی ہوگی؟

      اگر اچھی چیزوں کو اچھی سوچ کے ساتھ نافذ کیا جائے تو ہم حمایت کریں گے، اگر وہ اس کے برعکس کر رہے ہیں تو اس کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے؟ کیا وہ ان دنوں اپنی مذہبی آزادی اور آئینی حقوق سے واقف نہیں تھے؟ یہ سب انتخابات سے صرف ایک سال پہلے شروع کیا گیا ہے، ہم اس معاملے پر حکومتی سطح پر فیصلہ کریں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: