ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

کرناٹک: مسلم سماج میں ڈراپ آؤٹ کو روکنے کی کوشش، جانئے کیسے چلائی جارہی ہے مہم

بنگلورو کا دینیات صفہ فاؤنڈیشن ان دنوں مختلف شہروں میں طلبہ اور اساتذہ کیلئے اعزازی جلسے منعقد کررہا ہے۔ اسی کڑی کے تحت بنگلورو سے 30 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہوسکوٹے شہر میں اعزازی جلسہ منعقد ہوا۔ تقریب میں سال 2019-20 کے سالانہ امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو اعزاز اور انعامات سے نوازا گیا۔

  • Share this:
کرناٹک: مسلم سماج میں ڈراپ آؤٹ کو روکنے کی کوشش، جانئے کیسے چلائی جارہی ہے مہم
بنگلورو کا دینیات صفہ فاؤنڈیشن ان دنوں مختلف شہروں میں طلبہ اور اساتذہ کیلئے اعزازی جلسے منعقد کررہا ہے.

بنگلورو کا دینیات صفہ فاؤنڈیشن ان دنوں مختلف شہروں میں طلبہ اور اساتذہ کیلئے اعزازی جلسے منعقد کررہا ہے۔ اسی کڑی کے تحت بنگلورو سے 30 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہوسکوٹے شہر میں اعزازی جلسہ منعقد ہوا۔ تقریب میں سال 2019-20 کے سالانہ امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو اعزاز اور انعامات سے نوازا گیا۔ اتنا ہی نہیں طلبا کا مستقبل سنوارنے والے اساتذہ کو بھی پروقار طریقہ سے تہنیت پیش کی گئی۔ دراصل یہ پروگرام صرف ایک جلسہ نہیں تھا بلکہ مسلم سماج میں ڈراپ آؤٹ کی شرح کو روکنے کی مہم کا ایک حصہ تھا۔ بنگلورو کے دیہی علاقے ہوسکوٹے میں 10 سال قبل چند سماجی کارکنوں، تعلیمی شعبہ میں سرگرم افراد نے مل کر دینیات صفہ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی ہے۔ ابتداء میں اس ادارے کا مقصد اسکولوں، کالجوں میں پڑھنے والے طلبا کیلئے جگہ جگہ دینی مکتب چلانا تھا لیکن مسلم سماج میں ترک تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے پچھلے چند سالوں سے اس ادارے نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم میں بھی قدم رکھا۔ سالانہ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبا کیلئے ٹیوشن کلاسز، خصوصی ورک شاپ، امتحانات کے بعد کیرئیر گائڈنس پروگرام منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔


دینیات صفہ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سید مزمل احمد نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ ڈراپ آؤٹ یعنی ترک تعلیم کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق پہلی جماعت میں اگر سو مسلم بچے داخلہ لیتے ہیں تو SSLC یعنی دسویں جماعت میں پہنچنے تک صرف 10 بچے باقی رہ جاتے ہیں۔ پی یو سی دوم یعنی 12 ویں جماعت میں صرف 6 بچے اور ڈگری میں صرف تین بچے مسلم سماج کے موجود رہتے ہیں۔ اس طرح پہلی تا ڈگری تک مسلم بچوں کی تعداد 100 سے گھٹ کر صرف تین رہ جاتی ہے۔ اس سنگین مسئلہ کو دیکھتے ہوئے چند سالوں سے ڈراپ آؤٹ کو روکنے کیلئے خصوصی مہم چلائی جارہی ہے۔


ڈاکٹر سید مزمل احمد نے کہا کہ دینیات صفہ فاونڈیشن کی بیداری مہم کا طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے۔ تنظیم کے رضاکار تعلیمی سال کے شروع ہونے سے قبل مسلم علاقوں میں پہونچ کر تعلیم کی اہمیت پر پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کو بھی ان پروگراموں میں مدعو کیا جاتا ہے۔ عام طور پر آیا علاقے کی بڑی مسجد میں یہ پروگرام منعقد کیا جاتا ہے۔تعلیم کی اہمیت پر پروگراموں کے منعقد کرنے کے بعد جب ایڈمیشن کا وقت آتا ہے تو ہر علاقے میں اسکولوں اور کالجوں میں داخلوں کے سلسلے میں بیداری پیدا کی جاتی ہے۔ اگر کوئی والدین معاشی تنگی کی وجہ سے اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج پارہے ہیں تو ایسے والدین کی مدد بھی کی جاتی ہے۔


بہرحال یہ پوری کوشش کی جاتی ہے کہ آیا علاقے کے تمام بچے اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیں۔جب بچے اسکول اور کالج جانے لگتے ہیں تو ان کے لئے یادداشت بڑھانے کیلئے خصوصی دو روزہ ورکشاپ منعقد کئے جاتے ہیں۔ Memory Skills کے ماہرین ان ورک شاپ میں بچوں کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔ یہ پروگرام بھی عام طور پر مسجد میں ہی منعقد کیا جاتا ہے۔ جب سالانہ امتحانات قریب آتے ہیں تو ایک بار پھر ورک شاپ منعقد کئے جاتے ہیں جس میں بچوں کو امتحانات کی تیاری، امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے نسخے ، امتحانات سے قبل ایک طالب علم کا روزانہ کا شیڈول کس طرح کا ہو ان تمام باتوں کی جانکاری فراہم کی جاتی ہے۔ یہ ورک شاپ ایس ایس ایل سی اور پی یو سی دوم کے بچوں کیلئے منعقد کئے جاتے ہیں۔ امتحانات مکمل ہونے کے بعد جب نتائج آجاتے ہیں تو بچوں کیلئے آئندہ کی تعلیم، مختلف کورسوں کی معلومات اور کیریئر گائڈنس پر ورک شاپ منعقد کئے جاتے ہیں۔ دینیات صفہ فاؤنڈیشن کے تقریبا 50 ارکان کی ٹیم ایک ترتیب کے ساتھ ان تمام پروگراموں کو انجام دیتی ہے۔

فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سید مزمل احمد نے کہا کہ یہ خصوصی پروگرام اور ورک شاپ مسجد کمیٹی کے اشتراک سے منعقد ہوتے ہے۔ علاقے کے بچوں کو اکٹھا کرنا مسجد کمیٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جبکہ دینیات صفہ فاؤنڈیشن آیا سبجیکٹ کے ماہرین کے ذریعہ ورک شاپ کا اہتمام کرتا ہے۔ ڈاکٹر سید مزمل احمد کہتے ہیں کہ ہماری مسجدیں عالیشان ہوتی ہیں۔ مسجدوں میں تمام سہولیات موجود رہتی ہیں۔ نماز کے ساتھ ساتھ مسجدوں کو تعلیمی سرگرمیوں کیلئے کیوں نہیں استعمال کیا جاتا؟۔

انہوں نے کہا گزشتہ چند سالوں میں دینیات صفہ فاؤنڈیشن نے کئی مسجدوں کے ذریعہ اپنی مہم چلائی ہے اور ڈراپ آؤٹ کو روکنے کیلئے منظم طریقے سے جو پروگرام نافذ کیا جارہا ہے اس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ڈراپ آؤٹ کو روکنے کی مہم کے تحت دینیات صفہ فاؤنڈیشن نے 14 نومبر سے 30 دسمبر تک جگہ جگہ طلبہ اور اساتذہ کیلئے تہنیتی پروگرام منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ہوسکوٹے کے علاوہ سدلگٹہ، ہنڈیگنالا، کولار، وجئے پورہ، مالور، اتی بیلے، ورتور، چنتامنی، چکبالاپور، دوڈ بالاپور، کے آر پورم، سرینیواس پور اور چند مقامات پر دینیات صفہ فاؤنڈیشن کے جلسے منعقد ہورہے ہیں۔

ڈاکٹر مزمل احمد نے کہا کہ ہر جلسہ میں مسلم طبقہ کے اعلی افسروں کو مدعو کیا جارہا ہے۔ تاکہ ملت کو یہ پیغام دیا جاسکے کے تعلیم حاصل کرتے ہوئے مسلمان بھی اعلی سے اعلی عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں۔ ہوسکوٹے میں منعقدہ تقریب میں وظیفہ یاب ڈسٹرکٹ جج اور حکومت کرناٹک کے ایڈیشنل لاء سکریٹری محمد اسمٰعیل اور بنگلورو دیہی ضلع کے کووڈ اسپتالوں کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر مطہر حفیظ نے شرکت کی۔ ان دونوں مہمانوں نے طلبہ سے خطاب کیا۔ تعلیم کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی۔ریٹائرڈ جج محمد اسمعیل نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ ٹیچروں کو بھی تہنیت پیش کرنا یہ ایک عمدہ کام ہے۔ ڈاکٹر مطہر حفیظ نے کہا کہ کم عمر میں ہی بچوں کی صلاحیتوں کو پہچاننا اور انہیں تربیت فراہم کرنا یہ ایک بڑا قدم ہے۔ ان دونوں مہمانوں نے دینیات صفہ فاؤنڈیشن کی تعلیمی خدمات کو مثالی قرار دیا اور ہر شہر میں اسطرح کی کوششیں شروع کرنے کی سماجی تنظیموں سے اپیل کی۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 17, 2020 02:33 PM IST