ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

کشمیر کی بشریٰ ندا نے محض 15سال کی عمر میں کیمسٹری مضامین کے Periodic Table کو انگریزی شاعری میں تبدیل کرنے کا شرف حاصل کیا، لکھ ڈالے 3 انگریزی شعری مجموعے

وادی کشمیر میں ہُنر مند، قابل اور پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی کمی نہیں۔ یہاں کی لڑکیاں ہر ایک شعبہ میں کمال کررہی ہیں اور ایسی ہی مثال کولگام کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی کمسن لڑکی نے قائم کی ہے جس نے محض ١۵ سال کی عمر میں ٣ کتابیں لکھ ڈالیں۔

  • Share this:
کشمیر کی بشریٰ ندا نے محض 15سال کی عمر میں کیمسٹری مضامین کے Periodic Table کو انگریزی شاعری میں تبدیل کرنے کا شرف حاصل کیا،   لکھ ڈالے 3 انگریزی شعری مجموعے
کشمیر کی بشریٰ ندا نے محض 15سال کی عمر میں رقم کی تاریخ

کولگام: وادی کشمیر میں ہُنر مند، قابل اور پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی کمی نہیں۔ یہاں کی لڑکیاں ہر ایک شعبہ میں کمال کررہی ہیں اور ایسی ہی مثال کولگام کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی کمسن لڑکی نے قائم کی ہے جس نے محض ١۵ سال کی عمر میں ٣ کتابیں لکھ ڈالیں۔جنوبی کشمیر کے کنی پورہ کولگام سے تعلق رکھنے والی ١۵ سالہ بُشریٰ ندا اس وقت ١١ ویں جماعت کی طالبہ ہے اور اس کمسن لڑکی نے کم عمری میں ہی انگریزی زبان میں کئ شعری مجموعے اپنے نام کر دیے اور یہ شعری مجموعے کتابی صورت میں اس وقت بازار اور آن لائن دستیاب ہے۔

بُشریٰ ندا میڈلکل اسوڈنٹ ہیں تاہم انہیں پڑھنے لکھنے کا بے حد شوق ہے جہاں بچے اس عمر میں کھیل کود اور دیگر کاموں میں مصروف عمل ہوتے ہیں وہیں بشریٰ ندا نے تاریخ رقم کی۔ بشریٰ کا پہلا انگریزی شعری مجموعہ Tulips of Feelings نہایت ہی کم عمری میں منظر عام پر آیا اور ادب کی دنیا میں اس کی کتاب کی کافی ستائش کی گئ اور اسے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی طرح کیمسٹری مضمون کے Periodic ٹیبل کو نہایت ہی آسان بنانے کے لیے بشریٰ نے ایک اور شعری مجموعہ لکھ ڈالا اور اس بار کمسٹری کو شاعری کی شکل دی گئ، The Davy نام کی کتاب جلد ہی منظر عام پر آرہی ہے اور اس کا دوسرا ایڈیشن بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

بشریٰ ندا کے اس کامیاب سفر میں ان کی والدہ کا اہم کردار ہے جبکہ باپ کا سایہ پہلے ہی سر سے چلا گیا اور اس طرح بشریٰ کی والدہ اور اس کی بڑی بہن نے اس کے ادبی سفر میں ساتھ دیا۔ بشریٰ کے مطابق انہیں کافی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اور مالی بحران کی وجہ سے انہیں کتاب شائع کرنے میں بھی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم والدہ اور بہن نے اس کی مدد کر کے اس کے ادبی سفر کو آسان بنانے میں پہل کی۔


بشریٰ ندا کو صحافی بننے اور سماجی کاموں میں کافی دلچسپی ہے اور ان کی والدہ ان کے ہر ایک کام میں ساتھ دے رہی ہیں۔ تاہم بشریٰ کی والدہ کا کہنا ہے کہ ایسے ہنر مند طلبا کو موضون پلیٹ فارم اور مالی معاونت کی ضرورت ہے جبکہ انہیں یقین ہے کہ سرکار اور متعلقہ محکمہ ان کی مدد کرے گا۔ بشریٰ اور ایسی کئ طالبات اور طلبا میں ہنر کی کمی نہیں۔ تاہم بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک موقع کی تلاش ہوتی ہے اور یہ موقع انہیں فراہم کیا جانا چاہیے۔


(کولگام سے ظہور رضوی کی رپورٹ)
Published by: Sana Naeem
First published: Aug 02, 2020 03:35 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading