உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کولکاتہ کا ملی الامین کالج بنا لاچاری کی تصویر، طالبات نے شروع کیا دھرنا

    کولکاتہ کا ملی الامین کالج بنا لاچاری کی تصویر

    کولکاتہ کا ملی الامین کالج بنا لاچاری کی تصویر

    ملک بھر میں اقلیتوں کی ترقی کے لئے ہزاروں ادارے قائم کئے گئے ان میں کئی اداروں نے اپنی خاص جگہ بنائی تو کئی ایسے ادارے بھی ہیں جو گمنامی کے اندھیرے میں گم تنزلی کا شکار ہیں۔ ان ہی میں ایک کولکاتا کا ملی الامین کالج بھی ہے۔

    • Share this:

    ملک بھر میں اقلیتوں کی ترقی کے لئے ہزاروں ادارے قائم کئے گئے ان میں کئی اداروں نے اپنی خاص جگہ بنائی تو کئی ایسے ادارے بھی ہیں جو گمنامی کے اندھیرے میں گم تنزلی کا شکار ہیں۔ ان ہی میں ایک کولکاتا کا ملی الامین کالج بھی ہے۔ ملی الامین کالج خاص اس لئے ہے کہ یہ واحد ادارہ ہے جو کولکاتا میں آزادی کے بعد مسلمانوں کی جانب سے قائم کیا گیا لیکن آج یہ ادارہ بند ہونے کے دہانے پر ہے۔ کولکاتا کے بنیاپوکھر علاقے میں مسلم لڑکیوں کے اعلی تعلیم کے حصول کے لئے 1992 میں ملی الامین کالج کی بنیاد رکھی گئی تھی اس کالج کے قیام کا اہم مقصد دیگر کالجوں میں داخلہ پانے سے قاصر مسلم طالبات کے تعلیمی سفر کو یقینی بنانا تھا۔


    یہی وجہ ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں مسلم و غیرمسلم طالبات نے داخلہ لیا، لیکن حکومت و کالج انتظامیہ کی جانب سے برتی جارہی لاپرواہی کے باعث یہاں تعلیم حاصل کررہی طالبات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کورونا بحران کے دوران جہاں ریاست کے دیگر تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا سلسلہ جاری ہے وہیں یہاں کی طالبات اسطرح کی سہولیات سے محروم ہیں۔

    حیران کن بات یہ ہے کہ گریجویشن کے امتحانات کی تاریخوں کے اعلان کے باجود ملی الامین کالج کی طالبات کے امتحانات کو لیکر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ کولکاتا یونیورسیٹی میں الامین کالج کی طالبات کا رجسٹریشن بند ہے جس سے طالبات میں بےچینی دیکھی جارہی ہے۔ طالبات نے حکومت سے اس معاملے میں آگے انے کے مطالبے پر احتجاجی دھرنا شروع کیا ہے کالج میں فی الحال 100 سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں ۔واضح رہے کہ کالج کو اقلیتی درجہ حاصل تھا تاہم بعد ممتا حکومت نے کالج کا اقلیتی کردار ختم کرنے کا اعلان جسکے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
    Published by:sana Naeem
    First published: