ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

فاصلوں کی قید سے آزاد تعلیم : طلبہ امریکی ادارو ں سے اس طرح ڈگریاں کر سکتے ہیں حاصل

ورچووَل تعلیم کے ذریعہ ہندوستانی طلبہ نہ صرف اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ امریکی ادارو ں سے ڈگریاں بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

  • Share this:
فاصلوں کی قید سے آزاد تعلیم : طلبہ امریکی ادارو ں سے اس طرح ڈگریاں کر سکتے ہیں حاصل
ڈیپارٹمنٹ آف اینیمل اینڈ رینج لینڈ سائنسیز کے شعبۂ تدریس سے منسلک یوویٹ گبسن اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی ای کیمپس ریسرچ یونٹ کےڈاٹا بیس کو اَپ ڈیٹ کرتے ہوئے۔ تصویر بہ شکریہ اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی

بیماری اور انتشار سے لرزہ بر اندام دنیا میں انڈیا کے بہت سارے طلبہ امریکی اداروں سے کمپیوٹر ، ٹیبلیٹ اور اسمارٹ فون کے ذریعہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ فنون لطیفہ سے لے کر ہارڈ سائنس(علم طبیعیات، علم کیمیا، حیاتیات،ارضیات، فلکیات اور نباتیات ) تک کے موضوعات میں آن لائن ڈگری پروگرام ہر جگہ بین الاقوامی طلبہ میں تیزی کے ساتھ مقبول ہوتے جارہے ہیں۔ آپ کے لیے ڈیجیٹل لرننگ صحیح ہے یا آپ ورچووَل ایجوکیشن کا سفر شروع کرنے کو تیار ہیں ، یہ دیکھنے کے لیے یہاں اوریگون اسٹیٹ یونیورسیٹی (او ایس یو) اور جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (جارجیا ٹیک) کے ماہرین کی آرا دی جارہی ہیں۔یہ وہ معروف امریکی تعلیمی ادارے ہیں جو علوم انسانیات اور کاروبار سے لے کر انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس تک میں وسیع آن لائن ڈگری کے مواقع پیش کرتے ہیں۔


متمول اور متنوع تجربہ


اکتا دینے والے لیکچر ویڈیوز کو دیکھنے کے مقابلے آن لائن سیکھنے کا تصور کرنا آسان ہے۔ لیکن او ایس یو اور جارجیا ٹیک جیسے اداروں کے لیے یہ چیز حقیقت سے بہت دور ہے۔


او ا یس یو کے آن لائن پروگرام مختلف طرح کے مواد کے ساتھ ساتھ معلمین اور دوسرے طلبہ کے ساتھ مستقل تعاون کے نتیجے میں تیار کیے جاتے ہیں۔ او ایس یو کیمپس کے اکیڈمک پروگرامس اینڈ لرننگ اننوویشن کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر شینَن رِگس کہتے ہیں”آن لائن کورس میں جو چیزیں شامل ہوتی ہیں وہ ہیں: مباحثہ فورم، معمہ ، امتحان، اسائنمنٹ ، ویڈیو مواد، پڑھنے کے لیے مواد ، پروجیکٹ اور گروپ پروجیکٹ ۔ ویڈیوپر مبنی مواد کے علاوہ، ای کیمپس کے بہت سارے کورس میں ملٹی میڈیا عناصر جیسے انیمیشن، سائمولیشن اور تفاعلی تدریس شامل ہیں۔“

جارجیا ٹیک پروفیشنل ایجوکیشن کے تعلیمی پروگراموں کی ایسوسی ایٹ ڈین نیشا بوچوے کا کہنا ہے کہ جارجیا ٹیک میں پہلے سے ریکارڈ شدہ کورس کا مواد عام طور پر مہینوں کی تحقیق ، ڈیزائن اور منصوبہ بندی کے بعد جدید طرز کے پروڈکشن اسٹوڈیو میں تیار کیا جاتا ہے۔ پروگراموں میں ریئل ٹائم ٹیچنگ اسسٹنٹ سیشنز بھی شامل ہوتے ہیں تاکہ ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ ٹائم زون، فعال مباحثہ فورموں ، افزودہ حقیقت (اے آر)کے ساتھ کئی اور چیزوں کو بھی شامل کیا جا سکے۔

آئی این ٹی اواو ایس یو کے لیے بین الاقوامی مارکیٹنگ اور بھرتی کے ڈائریکٹر کیسی گلِک کہتے ہیں کہ حالا ں کہ آن لائن میڈیم کے ذریعہ پڑھائی ایک نئے رجحان کی طرح محسوس ہوسکتا ہے لیکن او ایس یو جیسے ادارے ۱۹۹۰کی دہائی سے ہی بڑے پیمانے پر مختلف آن لائن کورس تیار کررہے ہیں اور فراہم بھی کر رہے ہیں ۔ ان سے خصوصی قسم کے کورس تیار کرنے میں مدد ملتی ہے جو خاص طور پر بین الاقوامی طلبہ کو ذہن میں رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں۔

گلِک کہتے ہیں “ ہر پروفیسر کو ہمارے ای کمپپس اسٹوڈیو میں لایا جاتا ہے۔ پروفیسر موصوف ہمارے انسٹرکشنل ڈیزائنرز اور ملٹی میڈیا ڈیولپرز ٹیم کے ساتھ مل کر طلبہ کو ایک دلکش ، تفاعلی اور تکنیکی طور پر بہتر نصاب کا تجربہ کرانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ہمارے پاس آن لائن لیباریٹری کلاسیز ہیں جہاں طلبہ تحقیق کرتے ہیں ، جہاں سیکھنے کے تجرباتی مواقع ملتے ہیں جو ان کے طبقات میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کلاسیز میں انتہائی پیشہ ور افراد منظم سیمینار کے دوران بلائے جاتے ہیں جو صنعتوں میں ہمارے تعلقات کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ “

سیکھنے کا بہترین موقع

گلِک کہتے ہیں بعض لوگ ان کلاسیز کو ذاتی تجربے کے مقابلے کم تر درجے کی چیز سمجھتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے کیمپس کے طلبہ اور سابق طلبہ بتاتے ہیں کہ آن لائن کورس اکثر ان کے روایتی کلاس روم تجربے کے مقابلے زیادہ پُر کشش ہوتے ہیں۔

جارجیا ٹیک پروفیشنل ایجوکیشن میں لرننگ سسٹم کے ایسوسی ایٹ ڈین یاقوت غازی آن لائن تعلیم کوتعلیم کے تئیں بہت زیادہ طلبہ پر مرکوزطریقۂ کار سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے ”مطابق یہ طلبہ کے سیکھنے کے مقاصد اور تجربے کو توجہ کے مرکز میں رکھتا ہے۔ باقی تمام چیزیں اس کے ارد گرد ہوتی ہیں۔ اگر اسے درست طور پر کیا جائے تو آ ن لائن تعلیم تدریس کے بہتر نتائج نہ بھی دے سکے تو بھی کلاس روم تجربے کے مساوی تو ہوتی ہی ہے۔ بہت سے بڑے میٹا انالسِس اسٹڈیز (کسی ایک چیز کے بارے میں متعدد آزاد مطالعات کے اعداد و شمار کی جانچ تاکہ مجموعی رجحان کا علم ہو سکے)سے اس بات کا پتہ چلتا ہے۔ “

بوچوے کہتی ہیں”آن لائن لفظ تعلیم کی فراہمی کے طریقے کو بتاتا ہے ۔ گریجویٹ طلبہ کے دستاویزات یا نقول پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ہمارے آن لائن ماسٹرڈگریوں کے گریجویٹس کو ہمارے روایتی آن کیمپس ماسٹر ڈگریوںکے گریجویٹس کی طرح ہی ڈپلوما ملتا ہے۔آن لائن ماسٹر ڈگریوں میں آن کیمپس ڈگری جیسا ہی مواد اور سختی ہوتی ہے۔ ان کی تدریس ماہر اساتذہ کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔ “

جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پہلے سے ریکارڈ شدہ اسباق کو ایک مہینوں کی تحقیق، خاکہ کشی اور منصوبہ بندی کے بعد تیار ایک پروڈکشن اسئوڈیو میں مخصوص انداز میں پیش کیا گیا۔ تصویر بہ شکریہ جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی
جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پہلے سے ریکارڈ شدہ اسباق کو ایک مہینوں کی تحقیق، خاکہ کشی اور منصوبہ بندی کے بعد تیار ایک پروڈکشن اسئوڈیو میں مخصوص انداز میں پیش کیا گیا۔ تصویر بہ شکریہ جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی


مشغولیت برائے کامرانی

گلِک کہتے ہیں ” عام طور پر امریکی یونیورسٹیوں کی آن لائن تعلیم میں آپ جس قدر زیادہ وقت لگاتے ہیں، مشغول اور مصروف ہوتے ہیںاسی قدر فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہاںمشغولیت کا مطلب ہے پروفیسروں سے بات چیت کرنا ، ورچووَل دفتری اوقات سے فائدہ اٹھانا اور ان پروگراموں اور تحقیق کی معلومات حاصل کرنا جن پر وہ کام کر رہے ہیں۔ “

جب کہ بوچوے اس میں بعض نکات کا اضافہ کرتے ہوئے کہتی ہیں”کورس ویڈیوز کا اچھے سے مشاہدہ ضروری ہے ، ان کو صرف ٹی وی کی طرح دیکھنا کافی نہیں۔ انہیں دیکھتے ہوئے نوٹ بنانے کی بھی ضرورت ہے جیسا کہ کلاس کے دوران کیا جاتا ہے۔ یہاں ویڈیو کو بیچ میں روکنے اور پھر سے دیکھنے جیسی سہولت کا فائدہ اٹھائیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تدریس شدہ مواد سمجھ میں بھی آگیا ہے۔“

آن لائن ڈگری کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے دوران کامیابی کے حصول کی ایک اور کلید مدد کی درخواست ہے۔ اس کی اہمیت خاص طور پر اس وقت بڑھ جاتی ہے جب اساتذہ یا طلبہ بول چال کی زبان استعمال کریں یا کیمپس یا روایت کا حوالہ دیں جس کو بین الاقوامی طلبہ نہیں سمجھتے۔ بوچوے کہتی ہیں ‘‘ایسا کرنے سے آن لائن تدریس میں شامل ہر فرد کو سیکھنے کا ایک اچھا موقع ملے گا۔’’

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ آن لائن تعلیم میں طلبہ کو خواہ ہم جماعت طلبہ کے ساتھ گھومنے پھرنے کا موقع نہیں ملے مگر ان کے ساتھ تعلق اُستوار کرنا بہت ضروری ہے۔بوچوے کہتی ہیں‘‘ آن لائن پروگرام میں دوسرے ہم جماعت طلبہ سے بات چیت کے لیے مسیج بورڈ اور دوسری تفاعلی سہولتوں کا فائدہ اٹھائیں۔ آپ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے حوصلہ افزا پیشہ ور افراد کی ٹیم کا حصہ ہیں ، لہٰذا پیشہ ورانہ مراسم بنانے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔’’

لچیلاپن اور محنت

کلِک کا کہنا ہے کہ آن لائن تعلیم ایک بہت بہتر متبادل ہے کیوں کہ یہ طلبہ کو وہیں دستیاب ہوتی ہے جہاں وہ رہتے ہیں مگر حصول ِ تعلیم کے اس لچیلے پن کو سطحی طورپرنہیں لیا جا سکتا۔

جب کہ بوچوے کا کہنا ہے کہ”طلبہ کو آن لائن پروگرام کی مدت کے لیے ایک تیز رفتار اور مصروف نظام الاوقات کی امید کرنی چاہئے۔ ان کے مطابق اچھے طور پر منظم ہونا ، محتاط طور پر تیاری کرنا، مستقبل کی منصوبہ بندی ، پروجیکٹ کی ڈیڈلائن اور امتحان کے ساتھ طلبہ کے کلینڈر پر واضح طور پر نشان دہی .....یہ چیزیں آن لائن تعلیم میں کامیابی کی کلید ہیں۔طلبہ اگر ایک بار ان میں پچھڑ جائیں تو اس کی بھرپائی مشکل ہو جاتی ہے۔“

او ا یس یو ای کیمپس کے طلبہ کی کامیابی کے لیے متعین کوچ بیتھانی اُلماناس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں ‘‘ آن لائن ڈگری لینے والے طلبہ کے لیے عام طور پر وقت سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ان کو کنبہ ، اپنے کام ، کمیونٹی ذمہ داریوں اور اسکول کے کاموں کے درمیان اپنے وقت کی تقسیم کرنی ہوتی ہے۔ ان کے درمیان توازن تلاش کرتے ہوئے ترجیحات بھی طے کرنی پڑتی ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جہاں طلبہ کو جد وجہد کرنی پڑتی ہے۔ ’’

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آن لائن تعلیم حاصل کرنے کا مطلب تنہا ہونا نہیں ہے۔ غازی کہتے ہیں”ہمارے طلبہ مضبوط اور متحرک برادریاں تشکیل دیتے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں۔ یہ برادریاں متنوع ہوتی ہیں اور احساسِ ملکیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ “

گلِک کہتے ہیں ” آن لائن طلبہ یونیورسٹی کی مجموعی برادریوں کے بھی قابل قدر رکن بن جاتے ہیں۔ای کیمپس طلبہ بھی اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی کے ہی طلبہ ہیں ۔ اور یہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ہمارے پاس پورے ہندوستان اور دنیا بھر میں دلچسپ چیزیں کرنے والے گریجویٹس ہیں۔او ا یس یو کے گریجویٹ ہونے سے یوں بھی بہت سارے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ہمارے طلبہ ہم جماعت طلبہ کے عالمی نیٹ ورک کا ہی حصہ ہیں جو آن لائن بات چیت کے فورموں اور ویڈیو کانفرنسگ سافٹ ویئر کے ذریعہ ورچووَل کمیونٹیز میں سرگرم رہتے ہیں۔“

مضمون نگار : مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای اور ہیں ۔ وہ نیو یارک سٹی میں رہتے ہیں۔

بشکریہ : اسپین میگزین ، امریکی سفارت خانہ ، نئی دہلی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 11, 2020 12:11 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading