உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Tipu Sultan: کرناٹک کی نصابی کتابوں میں ٹیپو سلطان کے ذکر پر ہنگانہ کیوں؟ آخر کیا ہے معاملہ؟

    Youtube Video

    Tipu Sultan Controversy: جب کہ بی جے پی اور کچھ ہندو تنظیمیں ٹیپو سطان کو ایک متعصب مذہبی اور سفاک قاتل کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ کچھ کنڑ تنظیمیں انھیں کنڑ مخالف کہتے ہیں۔ ان کنڑ تنظیمیں کا یہ کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان نے مقامی کنٹر زبان کے بجائے فارسی زبان کو فروغ دیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Karnataka | Hyderabad | Mumbai | Ahmadabad (Ahmedabad) [Ahmedabad] | Delhi
    • Share this:
      Karnataka Textbook Controversy: پچھلے دو سال سے دنیا گھروں تک محدود سی ہوگئی ہے۔ کورونا سے پہلے روزمرہ کی بیشتر سرگرمیاں گھر سے باہر ہوتی تھی، لیکن کورونا کے بعد سے کئی کام اب گھر سے ہی ہورہے ہیں۔ شاپنگ سے لے کر تعلیم تک کئی سرگرمیوں کا مرکز اب خود کا گھر ہی بن گیا ہے۔ اسی تناظر میں نیوز 18 نے اسکول کے طلبہ کے لیے ہفتہ وار کلاسز کا آغاز کیا، جس کے تحت دنیا بھر میں ہونے والے واقعات کی وضاحت کی گئی۔ آپ مزید جاننے کے لیے @news18dotcom پر میل بھی کرسکتے ہیں۔

      نظریاتی اختلافات:

      آئیے اس ہفتے ٹیپو سلطان (Tipu Sultan) کے بارے میں جانتے ہیں۔ پچھلی دہائی کے دوران کرناٹک میں نصابی کتابوں سے ریاست میسور کے سابق حکمران کو ہٹانے کے لیے ایک سیاسی تحریک چل رہی ہے۔ کرناٹک کے چیف منسٹر بسواراج بومئی (Basavaraj Bommai) نے حال ہی میں کہا کہ ٹیپو سلطان کے ارد گرد نظریاتی اختلافات ہیں کیونکہ ان کے تائید اور خلاف میں تاریخی حقائق اور دلائل موجود ہیں۔

      کرناٹک میں ریاستی حکومت کی طرف سے قائم کی گئی ایک جائزہ کمیٹی کے خلاف ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے جس نے شیر میسور، مجاہد آزادی اور راکٹ مین ٹیپو سلطان سے متعلق نصابی حصے کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔ لیکن اس کی کیا وجہ ہے؟

      ٹیپو سلطان کے بارے میں مزید جاننے کے لیے آئیے حکمران کی تاریخ اور اسے نصابی کتب میں شامل کرنے یا نہ کرنے کے نظرتاتی اختلافات کے بارے میں جانتے ہیں:

      ٹیپو سلطان کی شخصیت اور خدمات پر تنازعہ کیوں؟

      سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے بیٹے ٹیپو سلطان (1750-1799) جنوبی ہندوستان میں اس وقت کے میسور علاقے کے بادشاہ تھے۔ ٹیپو سطان سابقہ ​​سلطنت میسور کے حکمران تھے اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ناقابل تسخیر دشمن سمجھے جاتے تھے۔ ٹیپو سلطان راکٹ مین اور مجاہد آزادی بھی تھے۔ وہ مئی 1799 میں برطانوی افواج کے خلاف سری رنگا پٹنہ میں اپنے قلعے کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک کیے گئے، جس کے بعد انگریزوں نے کہا تھا کہ اب سے ہندوستان ہمارا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      لاش کے واسطے Gold کی کار! ڈیزائن دیکھ کر حیران ہوئے لوگ، دیکھ کر آپ کے بھی اڑ جائیں گے ہوش

      Afghanistan میں اچانک آئے سیلاب سے تباہی، 180 لوگوں کی موت، سیکڑوں زخمی اور لاپتہ

      جب کہ بی جے پی اور کچھ ہندو تنظیمیں ٹیپو سطان کو ایک متعصب مذہبی اور سفاک قاتل کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ کچھ کنڑ تنظیمیں انھیں کنڑ مخالف کہتے ہیں۔ ان کنڑ تنظیمیں کا یہ کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان نے مقامی کنٹر زبان کے بجائے فارسی زبان کو فروغ دیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: