ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ نے کیا بچوں سے رواں سال کی فیس نہ لینے کا فیصلہ، استحصال کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

ٹرسٹ کے بانی مولانا علی حسین قمی نے یہ بڑا قدم اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موجودہ پریشانیوں میں غریب بچوں کے والدین زندگی کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جن بچوں کو دو وقت کی روٹی ٹھیک سے نہیں مل پارہی ہے وہ آخر مدرسے اور اسکولوں کی فیس کیسے ادا کریں گے۔

  • Share this:
امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ نے کیا بچوں سے رواں سال کی فیس نہ لینے کا فیصلہ، استحصال کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
علامتی تصویر

لکھنئو۔ امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ٹرسٹ کے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی رواں سال کی فیس معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرسٹ کے بانی مولانا علی حسین قمی نے یہ بڑا قدم اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موجودہ  پریشانیوں میں  غریب بچوں کے والدین زندگی کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جن بچوں کو دو وقت کی روٹی ٹھیک سے نہیں مل پارہی ہے وہ آخر مدرسے اور اسکولوں کی فیس کیسے ادا کریں گے لہٰذا اسی لئے یہ اعلان کیا گیا ہے۔ امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کو خاطر خواہ تعاون کا اعلان کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن اور پریشر گروپ آف مائنارٹیز  کے صدر سید بلال نورانی نے دیگر چھوٹے بڑے اسکولوں اور کالجوں کے ذمہ داران  سے بھی یہی اپیل کی ہے کہ وہ ان خراب حالات میں بچوں کی فیس معاف کریں یا اس میں تخفیف کریں۔


دراصل، دیکھا یہ جارہاہے کہ رعایت برتنے پر مبنی سرکاری احکامات اور اعلانات کے باوجود کچھ اسکولوں کے مالکان اور ذمہ داران آن لائن کلاسز کے نام پر بجائے رعایت فراہم کرنے کے بچوں اور والدین کا استحصال کر رہے ہیں۔ آن لائن کلاسز چلائے جارہے ہیں ، بچے گھروں میں ہیں۔ اسکول میں بجلی پانی ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات کم ہوئے ہیں تو فیس میں کمی کیوں نہیں ؟ بلال نورانی کہتے ہیں کہ کئی بڑے اور معیاری اسکولوں کے مالکان اپنے سیاسی رسوخ کی بنیاد پر والدین کی پریشانیوں کو سمجھے بغیر منمانی کررہے ہیں جو غیر انسانی و غیر سماجی عمل ہے۔ اس وقت تعلیم کو تجارت نہ بنا کر ضرورت اور خدمت کے زمرے میں رکھنا چاہئے۔


معروف صحافی عامر صابری کے مطابق سرکار کی جانب سے صرف اعلانات کیے جاتے ہیں عمل بالکل نہیں۔ کئی بچوں کے والدین نے یہ شکایت درج کرائی ہے کہ فیس کے لئے کبھی ٹیچروں کے ذریعے دباو بنایا جاتا ہے، کبھی میسیج بھیجے جاتے ہیں، فون کئے جاتے ہیں تو کبھی بچوں کے ایڈمیشن رد کرنے کی دھمکی تک دی جاتی ہے۔ اگر پوری فیس معاف نہیں ہو سکتی ہے تو اس میں کمی تو کی ہی جاسکتی ہے۔ لیکن ایسے اسکولوں کے مالکان کے خلاف سرکار کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔


مولانا قمی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے مدرسے کے بچوں سے لی جانے والی نام نہاد فیس تو معاف کردی لیکن وہ دوسرے اسکولوں اور مدارس کا کیا کریں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ اگر اسی طرح بچوں کے والدین پر دباو بنایا جاتا رہا تو غریب لوگوں کے بچے اس ٹوٹی پھوٹی تعلیم سے بھی محروم ہوجائیں گے۔ لہٰذا سرکار کو چاہئے کہ وہ کوئی ایسی حکمت عملی وضع کرے جس سے اسکول بھی چلتے رہیں۔ آن لائن نظام بھی درہم برہم نہ ہو اور بچوں کے والدین پر بھی بے جا دباو نہ بنے۔ اس ضمن میں امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ اور پریشر گروپ آف مائنارٹیز کے ذمہ داران نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم اور نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما کو تحریری طور پر مطلع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس مسئلے کے حل کے لیے مذکورہ بر سرِ اقتدار لوگوں سے ملاقات بھی کرنے کا منصوبہ ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 24, 2020 01:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading