உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدارس میں ہندی زبان اور ہندوستانی مذاہب کی تدریس ہوگی، مسلم علما و دانشوران کا اہم فیصلہ

    ’’ہندی زبان و ہندوستانی مذاہب کی تدریس ہماری دینی اور دعوتی ضرورت ہے‘‘۔

    ’’ہندی زبان و ہندوستانی مذاہب کی تدریس ہماری دینی اور دعوتی ضرورت ہے‘‘۔

    ایفل یونیورسٹی حیدرآباد کے سابق ڈین فیکلٹی آف لینگویجیزپروفیسر محسن عثمانی نے کہا کہ انبیا کرام قوم کی زبان میں خطاب کرتے تھے اور ہندوستان کی قومی زبان ہندی ہے۔ اس لیے ہندی زبان کو سیکھنا اور ہندوستانی مذاہب سے واقفیت حاصل کرنا علما کی سماجی ضرورت اور مذہبی ذمہ داری ہے۔

    • Share this:
      ’’مدارس میں ہندی زبان اور ہندوستانی مذاہب کا کورس پڑھانا وقت کی ضرورت ہے اور جامعۃ الہدایہ کے مہتمم اس پہل کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔  اس کورس کو شروع کرنے سے تقریب بین المذاہب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو علمی بنیاد ملے گی۔ ایسے کورس کو ہندوستانی یونیورسٹیوں سے منظور کرانا چاہیے تاکہ کورس کے فضلا کے لیے کارآمد ہو۔ مذاہب کا مطالعہ مسلمانوں کی روایت کا حصہ ہے اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (Aligarh Muslim University) میں شعبہ دینیات کے ڈین فیکلٹی دینیات پروفیسر محمدسعودعالم قاسمی نے ایک پروگرام میں کیا ہے۔

      اسی ضمن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کے اے نظامی مرکز برائے قرآنی علوم (K. A. Nizami Centre for Quranic Studies) میں دینی مدارس کے فضلا کے لیے ہندی زبان اور ہندوستانی مذاہب میں مہارت کا کورس تیار کرنے کے لیے مشاورتی میٹنگ رکھی گئی۔ اس کی صدارت داراشکوہ انٹر فیتھ سنٹر (Dara Shikoh Interfaith Center) کے ڈائریکٹر پروفیسر علی محمد نقوی نے کی۔

      ’’انبیا کرام قوم کی زبان میں خطاب کرتے تھے‘‘۔
      ’’انبیا کرام قوم کی زبان میں خطاب کرتے تھے‘‘۔


      ایک جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ میٹنگ مولانا فضل الرحیم مجددی، مہتمم جامعۃ الہدایہ، جے پور کی دعوت پر بلائی گئی۔ انھوں نے کہا کہ جامعۃ الہدایہ دینی مدارس کے فضلا کے لیے دو سال کا کورس ہندی زبان و ہندوستانی مذاہب میں تخصص کے لیے تیار کرنا چاہتا ہے۔ اس کا نصاب اور نظام بنانے کے لیے مسلم یونیورسٹی کے اساتذہ کے علم وتجربہ سے استفادہ کیا جائے گا۔

      ایفل یونیورسٹی حیدرآباد کے سابق ڈین فیکلٹی آف لینگویجیزپروفیسر محسن عثمانی نے کہا کہ انبیا کرام قوم کی زبان میں خطاب کرتے تھے اور ہندوستان کی قومی زبان ہندی ہے۔ اس لیے ہندی زبان کو سیکھنا اور ہندوستانی مذاہب سے واقفیت حاصل کرنا علما کی سماجی ضرورت اور مذہبی ذمہ داری ہے۔

      برج کورس کے ڈائریکٹر نسیم احمد خاں نے کہا کہ فضلائے مدارس کے لیے جو کورس مذاہب اور ہندی زبان کا بنایا جائے اس میں یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو سامنے رکھا جائے تاکہ طلبہ کو آگے بڑھنے میں سہولت ہو۔

      ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی کے سکریٹری مولانا اشہد جمال ندوی نے کہا کہ ہندی زبان و ہندوستانی مذاہب کی تدریس ہماری دینی اور دعوتی ضرورت ہے۔ بڑے مدارس اس میں پہل کریں گے تو دوسرے مدارس بھی اتباع کریں گے۔ ویمنس کالج کے استاذ ڈاکٹررضا عباس نے کہا کہ دوسرے مذہب کا مطالعہ مناظرانہ انداز کے بجائے ہمدردانہ انداز سے ہونا چاہے اور اس کے لیے ماہر اساتذہ مقرر ہونے چاہیے۔

      پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر علی محمد نقوی نے کہا کہ مدارس میں اس کورس کو شروع کرنے سے پہلے مقصد، طریقِ کار، نصاب اور کورس کی کتابوں کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ کام بہت اہم ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی دینیات، ہندی ڈیپارٹمنٹ، انٹر فیتھ سینٹر، نظامی سینٹر اور برج کورس سینٹر اس کام میں پوری مدد کریں گے۔ نصابی کتابیں بھی تیار کریں گے۔ اس جلسہ میں نصاب کا ایک خاکہ بھی تیار کیا گیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: