உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ناندیڑ: جنید پٹھان نے UPSC کے تحت لئے جانے والے EPFO امتحان میں حاصل کی کامیابی

    محمد جنید کا تعلق ایک غریب گھر سے ہے ان کے والد ظفر پٹھان ایک معمولی آٹو رکشا ڈرائیور ہیں۔جنید پٹھان یہ ان کا تیسرا لڑکا ہے ۔خود کا گھر نہیں ہونے سے جنید پیر برہان میں اپنے مامو ں کے گھر میں رہتا ہے ۔ تعلیم کے ذریعے ہی اپنے حالات بدلیں گے یہ خیال ذہن میں آنے کے بعد اس نے اپنی ساری توجہ پڑھائی پر مرکوز کی۔

    محمد جنید کا تعلق ایک غریب گھر سے ہے ان کے والد ظفر پٹھان ایک معمولی آٹو رکشا ڈرائیور ہیں۔جنید پٹھان یہ ان کا تیسرا لڑکا ہے ۔خود کا گھر نہیں ہونے سے جنید پیر برہان میں اپنے مامو ں کے گھر میں رہتا ہے ۔ تعلیم کے ذریعے ہی اپنے حالات بدلیں گے یہ خیال ذہن میں آنے کے بعد اس نے اپنی ساری توجہ پڑھائی پر مرکوز کی۔

    محمد جنید کا تعلق ایک غریب گھر سے ہے ان کے والد ظفر پٹھان ایک معمولی آٹو رکشا ڈرائیور ہیں۔جنید پٹھان یہ ان کا تیسرا لڑکا ہے ۔خود کا گھر نہیں ہونے سے جنید پیر برہان میں اپنے مامو ں کے گھر میں رہتا ہے ۔ تعلیم کے ذریعے ہی اپنے حالات بدلیں گے یہ خیال ذہن میں آنے کے بعد اس نے اپنی ساری توجہ پڑھائی پر مرکوز کی۔

    • Share this:
    ناندیڑ: حوصلے جن کے بلند ہوتے ہیں اور زندگی میں کچھ کر گذرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ان کے لئے بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرنا آسان ہوجاتاہے ۔ایسی ہی ایک مثال ناندیڑ کے پیربرہان تعلق رکھنے والے ہونہار نوجوان جنید پٹھان نے پیش کی ہے ۔جنید نے یو پی ایس سی کے تحت لی جانے والی مقابلاجاتی امتحان ای پی ایف او میں پہلے ہی کوشش میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ محمد جنید کا تعلق ایک غریب گھر سے ہے ان کے والد ظفر پٹھان ایک معمولی آٹو رکشا ڈرائیور ہیں۔جنید پٹھان یہ ان کا تیسرا لڑکا ہے ۔خود کا گھر نہیں ہونے سے جنید پیر برہان میں اپنے مامو ں کے گھر میں رہتا ہے ۔ تعلیم کے ذریعے ہی اپنے حالات بدلیں گے یہ خیال ذہن میں آنے کے بعد اس نے اپنی ساری توجہ پڑھائی پر مرکوز کی۔

    ناندیڑ کے پرتیبھا نکتیتن اسکول سے اس نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ یشونت کالج سے بارویں پاس کرنے کے بعد اس کی علمی ذہانت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے اسے انڈین آئل کیمیکل لمیٹیڈ کی جانب سے اعلی تعلیم کے حصول کیلئے اسکالرشپ حاصل ہوئی جس سے اس نے ناندیڑ کے ایس جی جی ایس گورنمنٹ انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیا۔ ایس جی جی ایس کالج سے انجینئرنگ کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اس نے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسیس میں بھی ملازمت پائی ۔جسکی وجہ سے اس کے گھر کے معاشی حالات سدھرنے لگے ۔ قومی ہمدردی کا جذبہ اس کے دل میں تھا اور وہ اس نے یہ سونچا کہ خود کفیل بننے کے بعد دوسرے لوگوں کی پریشانیوں کو کم کرنے میں ان کی مدد کی جائے اس کیلئے اس نے پبلک سروسیس جیسے مقابلاجاتی امتحان میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ۔

    یو پی ایس سی سول کے تحت بھی اس نے چار مرتبہ امتحان دیا تھا ۔اس میں فائنل راؤنڈ میں صرف چند نمبروں کی وجہ سے اس کا سلیکشن ہوتے ہوتے رہ گیا ۔اس دوران اس نے یو پی ایس سی کے تحت ہی چار سال میں ایک مرتبہ لئے جانے والےEmployee Provident Fund Organization (ای پی ایف او )اس امتحان میںحصہ لیکر پہلی کوشش میں ہی اس کو کامیابی ملی ہے ۔جنید پٹھان نے اپنے گھر کے حالات کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا کہ والد صاحب آٹو ڈرائیور ہے جس کی جہ سے گھر کی معاشی حالت بہت زیادہ مستحکم نہیں تھی ۔محدود آمدنی میں گھر خرچ کیلئے ہی پیسے پورے نہیں ہوپاتے تھے۔ ایسے میں مجھے اسکولی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کی تیاری کیلئے ٹیوشن کلاسیس لگانے کے تک کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ بڑی مشکل سے ہم لوگ پائی پائی جمع کرکے ٹیوشن کلاسیس کی فیس بھرتے رہے ۔اس کے بعد مجھے انڈین آئیل کیمیکل لمیٹیڈ کی جانب سے دی جانے والی اسکالرشپ کے لئے منتخب کرلیا گیا۔ وہاں سے ملنے والی اسکالرشپ کے ذریعہ میں نے اپنی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی ۔مجھے آگے بڑھانے میں میرے نانا اور مامون نے غیر معمولی رول ادا کیا ہے۔ میرے مامو پولیس محکمہ میں ملازمت کرتے ہیں انہوں نے مجھے مقابلاجاتی امتحان کی تیارین کے لئے نا صرف ترغیب دلائی بلکہ میری ہر طرح سے مدد کی۔ پڑھائی کرنے کیلئے مجھے اپنے مامو کے گھر میں رہنا پڑا ۔میں نے اپنے ذہن میں یہ بات بٹھالی کہ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے بغیر اپنے حالات بہتر نہیں ہونگے ۔اس لئے میں مقابلاجاتی امتحانات کی تیاری شروع کی۔

    غیر ضروری مشغولیات میں اپنا وقت ذائع کرنے کے بجائے میں ساری توجہ اپنی پڑھائی پر مرکوز رکھی ۔یو پی ایف سی کے تحت الگ الگ امتحانات لئے جاتے ہیں ۔اسی کے تحت ای پی ایف او کے امتحان میں نے حصہ لیا ۔اس کی خوب دل لگاکر پڑھائی کی ۔بغیر کسی ٹیوشن کے سیلف اسٹیڈ ی کے ذریعے ہی میں نے امتحان کی تیاری اور اس میں کامیابی حاصل ہوئی جس دن اس کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو اس نے میری دل میں عجیب کیفیت تھی ۔کامیابی ملی یا نہیں یہ خیال ذہن میں آتے ہی ناکام ہونے کا ڈر بھی ستا رہا تھا لیکن اللہ کے فضل سے فہرست میں میرا نام بھی آگیا اور اس وقت جو خوشی مجھے ہوئی ہے اس کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنا میری لئے بہت مشکل ہے ۔جنید پٹھان کے والد جعفر پٹھان سے ان کے بچے کی کامیابی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ یہ میرے لئے بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔




    ابتداء میں مجھے اس کا یقین نہیں آیا۔ میں نے اپنے بیٹے کی بہت اچھی تربیت کی ہے ۔اس کو غلط ماحول سے بچایا ۔اس کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کی ۔جتنا مجھ سے بن پڑتا تھا میں نے اس کا ساتھ دیا ۔اور اس کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ اعلی تعلیم کے حصول کے ذریعے ہی ہم اپنے گھر کے حالات بدل سکتے ہیں۔ دوسرا کوئی راستہ ہماری ترقی کیلئے نہیں ہے ۔اس لئے تعلیم پر توجہ دینا ضروری ہے ۔میری اس بات کو میرے بیٹے نے اپنی گرا میں باند ھ لیا اور آج الحمد اللہ اس کا پھل ہمیں ملا ہے۔ جعفر پٹھان ایک مذہبی آدمی ہے پنچ وقتہ نماز کے پابندی کرتے ہیں گھر میں دینی ماحول ہے۔جنید پٹھان کو ملنے والی کامیابی سے پورے علاقے میں اس کی تعریف ہورہی ہے دوست احباب رشتہ داروں کے علاوہ مختلف ملی ،سماجی اور سیاسی جماعتوں کے ذمہ دران ان کے گھر پہنچ رہے ہیں اس کی گلپوشی کررہے ہیں اور انہیں مبارکباد پیش کررہے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: