உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مولانا آزاد کو ڈیجیٹل مواد کے آغاز کے ذریعہ اردو یونیورسٹی کا خراج ، ای پلیٹ فارم، اردو نامہ، شاہینِ اردو اور تعلیمی خبرنامہ کا افتتاح

    مولانا آزاد کو ڈیجیٹل مواد کے آغاز کے ذریعہ اردو یونیورسٹی نے پیش کیا خراج عقیدت

    مولانا آزاد کو ڈیجیٹل مواد کے آغاز کے ذریعہ اردو یونیورسٹی نے پیش کیا خراج عقیدت

    مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں قومی یومِ تعلیم سے قبل آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم و ممتاز مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کو پر اثر خراج پیش کرتے ہوئے یوم آزاد تقاریب کے تحت آج انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کی اہم ڈیجیٹل پیشرفت کا پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر کے ہاتھوں افتتاح عمل میں آیا۔

    • Share this:
      حیدرآباد : مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں قومی یومِ تعلیم سے قبل آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم و ممتاز مجاہدِ آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کو پر اثر خراج پیش کرتے ہوئے یوم آزاد تقاریب کے تحت آج انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کی اہم ڈیجیٹل پیشرفت کا پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر کے ہاتھوں افتتاح عمل میں آیا۔ شیخ الجامعہ نے ان کا بٹن دبا کر افتتاح کیا۔ اس میں الکٹرانک مواد کا پلیٹ فارم، اردو نامہ، شاہینِ اردو، تعلیمی خبرنامہ شامل ہیں۔ الکٹرانک مواد میں یوٹیوب ویڈیو پروگرام کے ساتھ اس کا تحریری مواد فراہم کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی حواشی بھی دی جائے گی۔ اردو نامہ میں ہر دن ایک شاعر کا تعارف اور ایک لفظ ترجمہ کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ اردو نامہ کا افتتاحی ایپی سوڈ بھی دکھایا گیا۔ شاہینِ اردو میں یونیورسٹی کے ایسے طلبہ جنہوں نے پیشہ ورانہ زندگی میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے کے متعلق معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ تعلیمی خبر نامہ میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر تعلیمی سرگرمیوں کا احاطہ کیا جارہا ہے۔ اس کا پہلا ایپی سوڈ بھی دکھایا گیا۔

      اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد اتحاد کے علم بردار تھے۔ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کے آرزومند تھے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی انہیں خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ اردو یونیورسٹی کی سرگرمیوں اور بطور خاص آج پیش کی جارہی ڈیجیٹل پیشرفتوں کو ملک کے ہر گوشے میں پہنچاتے ہوئے اردو کے کاز میں تعاون کریں۔

      پروفیسر عین الحسن نے کہا کہ مولانا آزاد نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز صحافت کے ذریعہ ہی کیا۔ انہوں نے الہلال اور البلاغ کے ذریعے اپنے خیالات عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ابلاغ کا مطلب ہی ترسیل یا پہنچانا ہے۔ اردو اتحاد کی زبان ہے۔ یہ کسی خاص طبقے یا گروہ کی زبان نہیں ہے۔ ہر کسی نے اس میں سرمایہ چھوڑا ہے۔ مالک رام نے مولانا آزاد پر جو لکھا وہ کوئی دوسرا نہیں لکھ سکتا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے کورسز کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وبا کے باعث ہوئے دیڑھ سال کے نقصان کی فوری تلافی ممکن نہیں۔ مزید پروفیشنل کورسز شروع کئے جائیں گے۔

      ای پلیٹ فارم، اردو نامہ، شاہینِ اردو اور تعلیمی خبرنامہ کا افتتاح
      ای پلیٹ فارم، اردو نامہ، شاہینِ اردو اور تعلیمی خبرنامہ کا افتتاح


      رضوان احمد، ڈائرکٹر آئی ایم سی نے خیر مقدم کیا اور آئی ایم سی کی ڈیجیٹل پیش رفت سے واقف کروایا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد کے یوم ولادت کے موقع پر یہ پیش رفت ان کے تئیں بہترین خراج عقیدت ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تناظر میں بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیوب چینل اردو کی تمام بستیوں میں مقبول ہو رہا ہے۔ مختلف موضوعات پر 1600 ویڈیو پروگرامس اپلوڈ ہو چکے ہیں۔ نالج سیریز کے تحت دو تین منٹ کے مختصر ویڈیوز تیار کیے گئے۔ میٹ دی میڈیا ویٹرنس کے تحت میڈیا کی اہم شخصیات سے روبرو کرایا گیا اور اب آئی ایم سی 2.0 ای کنٹنٹ پلیٹ فارم کا لانچ کیا جارہا ہے۔

      ان نئی پیشرفتوں کے ذریعہ آرٹ، کلچر اور ہمارے عظیم ورثے کے تحفظ اور فروغ پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اُردو نامہ کے تحت آن لائن اور سماجی رابطوں کی سائٹس کے ذریعے اردو کی تاریخ، مختلف اصناف اور شعرا و ادبا سے اردو اور غیر اردو داں طبقات کو واقف کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

      شاہین اردو میں ان طلبہ و طالبات سے ملاقات کرائی جائے گی ، جنہوں نے اردو میں تعلیم حاصل کرکے زندگی کے مختلف میدانوں میں کامیابی کے پرچم بلند کئے ہیں۔ پریس کانفرنس میں پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر اور پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج بھی موجود تھے۔ عامر بدر، پروڈیوسر نے کاروائی چلاتے ہوئے کہا کہ ہم گروکل سے نکل کر گوگل عہد تک پہنچ گئے ہیں۔ عمر اعظمی ، پروڈیوسر نے شکریہ ادا کیا ۔ بڑی تعداد میں صحافیوں کے علاوہ یونیورسٹی اساتذہ اور عہدیداروں نے شرکت کی۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: