உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یو پی مدرسہ بورڈ چیئرمین کا بیان! حکومت کی نیت صاف، مدارس کو ختم نہیں بلکہ فروغ دینے کی کوشش

    یو پی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین افتخار احمد جاوید نے سابق وزیر یو پی حکومت اعظم خان پر مدرسے کی پراپرٹی پر ناجائز قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور جانچ کے بعد کاروائی کرنے کی بات کہی ہے۔

    یو پی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین افتخار احمد جاوید نے سابق وزیر یو پی حکومت اعظم خان پر مدرسے کی پراپرٹی پر ناجائز قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور جانچ کے بعد کاروائی کرنے کی بات کہی ہے۔

    یو پی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین افتخار احمد جاوید نے سابق وزیر یو پی حکومت اعظم خان پر مدرسے کی پراپرٹی پر ناجائز قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور جانچ کے بعد کاروائی کرنے کی بات کہی ہے۔

    • Share this:
    مدارس میں اساتذہ کی تقرری میں اُردو کی لازمیت کو ختم کرنے کے لیے نہ تو کسی طرح کی پیش رفت کی گئی ہے اور نہ ہی اس طرح کا کوئی منصوبہ ہے یہ کہنا ہے یو پی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین افتخار احمد جاوید کا آج میرٹھ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مدرسہ بورڈ چیئرمین نے  اساتذہ کی تقرری میں اُردو کی لازميت کو ختم کیے جانے کی خبر کو محض افواہ قرار دیا۔

    واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل یو پی مدرسہ بورڈ رجسٹرار کے حوالے سے یہ خبر منظر عام پر آئی تھی کہ اساتذہ کی تقرری میں اُردو کی لازمیت کو ختم کرنے کا ایک پروپوزل رجیسٹرار مدرسہ بورڈ کی جانب سے حکومت کو بھیجا گیا ہے  تاہم اب نئے بورڈ کی تشکیل کے بعد چیئرمین نے اس طرح کی کسی بھی تجویز کے بھیجے جانے کی خبر کی تردید کی ہے۔  یو پی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین افتخار احمد جاوید نے سابق وزیر یو پی حکومت اعظم خان پر مدرسے کی پراپرٹی پر ناجائز قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور جانچ کے بعد کاروائی کرنے کی بات کہی ہے۔

    بورڈ چیئرمین افتخار جاوید کا کہنا ہے کہ رام پور کے قدیم تعلیمی ادارے مدرسہ عالیہ اوریئنٹل کالج  کو دو کمروں میں منتقل کرکے مدرسے کی پراپرٹی کو محمد اعظم خان کے پرائیویٹ اسکول میں استعمال کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔  بورڈ چیئرمین کا کہنا ہے کہ سترہ سو چوہتر میں قائم کیے گئے مدرسہ عالیہ اوریئنٹل کالج رام پور ایک تاریخی تعلیمی ادارہ ہے لیکن ناجائز قبضے اور سابقہ حکومت میں بدنظمی کے سبب آج اس کی پہچان ختم ہو گئی ہے۔  اب اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد معاملے کی جانچ کرکے کارروائی کی جائے گی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: