ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

میرٹھ: دیہات اور مدارس سے تعلیم یافتہ طلبا نے ایم اے اور ایم فل میں حاصل کیا گولڈ میڈل

دیہات اور مدارس سے تعلیم یافتہ ظالب علم اور طالبات کی اعلیٰ تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی ایم اے اور ایم فل میں حاصل کیا گولڈ میڈل۔ دینی اور عصری تعلیم کو ساتھ لیکر چلنے کی پیش کی مثال

  • Share this:
میرٹھ: دیہات اور مدارس سے تعلیم یافتہ طلبا  نے ایم اے اور ایم فل میں حاصل کیا گولڈ میڈل
دیہات اور مدارس سے تعلیم یافتہ ظالب علم اور طالبات کی اعلیٰ تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی ایم اے اور ایم فل میں حاصل کیا گولڈ میڈل۔ دینی اور عصری تعلیم کو ساتھ لیکر چلنے کی پیش کی مثال

میرٹھ: عام طور پر گاؤں دیہات کے اسکول اور خاص طور پر مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو شہر کے اسکول کالج اور یونیورسٹی سطح پر مقابلے کے قابل نہ سمجھنا اب ایک بڑی غلط فہمی ثابت ہو رہی ہے۔ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ظالب علم اور طالبات نہ صرف سخت محنت کرکے اعلیٰ تعلیم کے مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے خود کو تیار کر رہے ہیں بلکہ بہترین مظاہرہ کرکے گولڈ مڈل بھی حاصل کر رہے ہیں۔

میرٹھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ایم اے کے طالب علم اسرار احمد اور شعبہ اردو میں ایم فل کی طالبہ رہنما شفاء نے اس سال اے ایم اے اور ایم فل اردو میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرکے گولڈ مڈل حاصل کیا ہے۔


یوم تقسیم اسناد کے موقع پر ان افراد نے ڈپٹی سی ایم سے گولڈ مڈل اور سرٹیفکیٹ حاصل کیے لیکن خاص بات یہ ہے کہ ان دونوں ہی اسٹوڈینٹس کا تعلق گاؤں اور مدرسہ تعلیم سے رہا ہے۔ شروعاتی تعلیم گاؤں کے مدارس اور سرکاری اسکول سے حاصل کرنے والے یہ طلبا نہ صرف خود اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے بلکہ اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔


ان کامیاب طلباء اور طالبات کے والدین اور اُستاد بھی بچوں کی کامیابی کو انکی محنت اور جذبے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور دوسروں کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے یہ طلباء اور طالبات چاہتے ہیں کہ مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ بچوں کو عصری تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے۔ مدرسے کے طلبا اور طالبات میں بھی نہ تو صلاحیت کی کمی ہے اور نہ ہی جذبے کی بس اب ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 09, 2021 08:03 PM IST