ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

میرٹھ : پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف اس لیے بچوں کے والدین نے کھولا مورچہ 

کورونا وبا کے قہر نے گزشتہ ایک سال میں کاروبار اور روزگار کے علاوہ تعلیمی نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ مارچ میں لاک ڈاؤن کی شروعات سے لیکر اب تک اسکول کالجوں کا تعلیمی نظام پوری طرح پٹری پر نہیں لوٹ سکا ہے لیکن نئے تعلیمی سیشن کی شروعات سے پہلے اسکولوں نے آن لائن کلاسز اور سالانہ امتحانات کے نام پر پوری فیس ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • Share this:
میرٹھ : پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف اس لیے بچوں کے والدین نے کھولا مورچہ 
کورونا وبا کے قہر نے گزشتہ ایک سال میں کاروبار اور روزگار کے علاوہ تعلیمی نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

کورونا وبا کے قہر نے گزشتہ ایک سال میں کاروبار اور روزگار کے علاوہ تعلیمی نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ مارچ میں لاک ڈاؤن کی شروعات سے لیکر اب تک اسکول کالجوں کا تعلیمی نظام پوری طرح پٹری پر نہیں لوٹ سکا ہے لیکن نئے تعلیمی سیشن کی شروعات سے پہلے اسکولوں نے آن لائن کلاسز اور سالانہ امتحانات کے نام پر پوری فیس ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سالانہ امتحانات میں شامل ہونے کے لیے مکمّل فیس ادا کرنے کا مطالبہ اسکول اور بچوں کے والدین کے درمیان ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔


پرائیویٹ اسکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے والے غریب والدین کے لیے اسکول فیس ادا کرنا مشکل ہو رہا ہے اسکول فیس میں رعایت کے مطالبے کو لیکر اب یہ والدین پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف احتجاج کو مجبور ہو رہے ہیں ایک طرف اسکول فیس کے مطالبے کو لیکر پرائیویٹ اسکولوں کا کہنا ہے کہ اسکول بند ہونے کے باوجود منیجمنٹ کو اساتذہ اور دیگر اسکول ملازمین کی تنخواہوں کو ادا کرنا پڑا ہے اور آن لائن کلاس کے ذریعہ کورس بھی مکمّل کرایا گیا ہے۔


وہیں بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ کورونا نے سماج کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے اور ان دنوں میں کاروبار سے لیکر روزگار ختم ہونے سے لوگ پریشان ہیں ایسے میں یا تو تین ماہ کی فیس مکمّل طور پر معاف کی جائے یا پھر اس سيشن کی فیس میں کم سے کم پچاس فیصد تخفیف کی جائے۔ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ اسکول پوری فیس ادا کرنے کی زد پر اڑے ہیں اور فیس ادا نہ کرنے والے بچوں کو امتحان میں بھی نہیں بیٹھنے دے رہے ہیں۔


پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف مورچہ کھولتے ہوئے اب بچوں کے والدین نے بی ایس اے آفس کا گھیراؤ کر دیا ہے اور اسکولوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے وہیں محکمہ تعلیم کے افسران نے اس معاملے میں جانچ کے بعد کارروائی کی یقین دھانی کرائی ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 04, 2021 01:11 PM IST