உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میرٹھ : اس لیے بورڈ امتحانات میں ایوریج مارکنگ سسٹم سے ناخوش ہیں ٹاپر طلبا

    بورڈ امتحانات میں ایوریج مارکنگ سسٹم سے ناخوش ٹاپر پچھلی جماعتوں سے بھی کم نمبر حاصل ہونے سے مایوس نظر آئے۔

    بورڈ امتحانات میں ایوریج مارکنگ سسٹم سے ناخوش ٹاپر پچھلی جماعتوں سے بھی کم نمبر حاصل ہونے سے مایوس نظر آئے۔

    • Share this:
    کورونا وبا کے قہر نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے کاروبار اور روزگار کے ساتھ تعلیم کے شعبہ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ بورڈ امتحانات میں ایوریج مارکنگ سسٹم سے ناخوش ٹاپر پچھلی جماعتوں سے بھی کم نمبر حاصل ہونے سے مایوس نظر آئے۔  خاص طور پر ہائی سیکنڈری اور سینئر سیکنڈری کے بورڈ امتحانات کے نہ ہونے سے نتائج کے لیے مارکنگ سسٹم نے غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے طالب علموں کو مایوس کر دیا بورڈ میں امتحانات کے بغیر نتائج کے لیے اس سسٹم سے ناخوش طالب علم آئندہ سے امتحانات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    سی بی ایس ای اور آئی سی ایس سی بورڈ کے نتائج کے اعلان کے بعد گزشتہ روز یو پی بورڈ کے ہائی سیکنڈری اور سینئر سیکنڈری کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ بورڈ کے گزشتہ جماعت میں آئے نمبروں کی بنیاد پر اوریج مارکنگ سسٹم سے جہاں ایوریج طالب علموں میں خوشی نظر آئی۔ وہیں غیر معمولی تعلیمی صلاحیت والے ٹاپر طالب علموں میں نمبروں کو لیکر مایوسی رہی ۔ پچھلی جماعتوں میں امتحان دیکر اچھے نمبر حاصل کرنے والے بچے اب ایوریج مارکنگ میں کم پرسنٹیج آنے سے مایوس اور ناخوش ہیں۔

    تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ ایوریج مارکنگ کے ذریعے نتائج کا اعلان طالب علموں کو آگلی جماعت کے لیے پروموٹ کر دینے کی محض رسم ادائیگی ہے۔ کورونا وبا سے پیدا ہوئے حالات کے پیش نظر اسکا مستقل حل نکالنا ضروری ہے تاکہ تعلیم میں بہتر کرنے والوں کے ساتھ انصاف کیا جا سکے۔ کورونا وبا کے قہر کے سبب گزشتہ دو تعلیمی سیشن سے کلاس روم تعلیم اور بورڈ امتحانات متاثر ہوئے ہیں تاہم ضروری ہے کہ امتحانات کے نتائج کے لیے ایوریج مارکنگ سسٹم کے بجائے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کی طالب علموں کی تعلیم اور محنت رائیگاں نہ جائے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: