ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

میرٹھ : کیوں مزدوری کرنے کو مجبور ہو رہے ہیں آئمہ مساجد مؤذن اور مدرسین

روزگار کے ختم ہو جانے یہ تنخواہوں کے وقت پر حاصل نہ ہونے کے سبب اب ان میں سے کئی افراد اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے سلائی مشین چلانے دکانوں اور گھروں میں مزدوری کرنے کو مجبور ہیں۔

  • Share this:
میرٹھ : کیوں مزدوری کرنے کو مجبور ہو رہے ہیں آئمہ مساجد مؤذن اور مدرسین
روزگار کے ختم ہو جانے یہ تنخواہوں کے وقت پر حاصل نہ ہونے کے سبب اب ان میں سے کئی افراد اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے سلائی مشین چلانے دکانوں اور گھروں میں مزدوری کرنے کو مجبور ہیں۔

ملک میں لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کے بعد سے کاروبار اور روزگار کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش جاری ہے لیکن معمولی تنخواہوں پر مساجد میں عامامت کرنے والے آئمہ اور موذن مدارس میں تعلیمی خدمات انجام دینے والے بہت سے مدرسین اپنی خدمات سے برطرف کر دیے جانے سے آج بھی پریشان حال ہیں۔ روزگار کے ختم ہو جانے یہ تنخواہوں کے وقت پر حاصل نہ ہونے کے سبب اب ان میں سے کئی افراد اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے سلائی مشین چلانے دکانوں اور گھروں میں مزدوری کرنے کو مجبور ہیں۔ میرٹھ کے پرانی تحصیل علاقے کی ایک مسجد میں امام کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے نور محمد اب مسجد کے ہی ایک حصے میں سلائی مشین چلا کر پردے سلنے کا کام کرتے ہیں نور محمد کے مطابق لاک ڈاؤن کے بعد سے بدلے حالات میں لوگوں کے کاروبار اور روزگار ختم ہونے کا اثر آئمہ حضرت کی تنخواہوں پر بھی پڑا اخراجات پورے کرنے کے لیے آئمہ مساجد کو اپنے مذہبی فرائض انجام دینے کے علاوہ ذریعہ معاش کے لیے کام سیکھ کر مزدوری بھی کرنی پڑ رہی ہے۔

اپنے علاقے کی مسجد میں مؤذن کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے پیارے میاں کی کہانی تو اور بھی درد بھری ہے ماہانہ گیارہ سو روپے پانے والے پیارے میاں کے حالات لاک ڈاؤن میں اور بھی خراب ہو گئے تھے لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد اپنے خراجات پورے کرنے کے لیے گھر چلانے کے لیے پیارے میاں گھروں میں رنگائ اور مرمت کا کام کرتے ہیں۔

وہیں چھوٹے چھوٹے مدارس میں معمولی تنخواہوں پر خدمات انجام دینے والے مدرسین کے حالات بھی آئمہ مساجد اور مؤذن سے جُدا نہیں ہے لاک ڈاؤن میں بند ہوئے زیادہ تر مدارس میں ابھی تدریس کا سلسلہ منقطع ہے۔ ایسے میں کم تنخواہوں پر خدمات انجام دینے والی مدرسین کی بڑی تعداد بھی ذریعہ معاش کے لیے دوسرے کاموں کی طرف رجوع ہوئی ہے۔ مدارس اور مساجد میں خدمات انجام دینے والے عالم دین مانتے ہیں کہ مشکل حالات میں قوم اور ملّت نے سماج کے اس طبقے کو نظر انداز کر دیا تاہم ان حالات سے سبق لیتے ہوئے اب ملّت اور خود آئمہ کرام کو بھی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔


مذہبی اور دینی تعلیمی خدمات انجام دینے والے سماج کے اس طبقے کو مساجد میں امامت کرنے اور مدارس میں دینی تعلیم دینے تک محدود رکھا گیا لیکن ملّت نے انکی ضرورتوں کا اُتنا خیال نہیں رکھا جتنا رکھا جانا چاہئے تھا۔ ایسے میں مشکل حالات میں اگر آئمہ اور مدرسین اگر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں تو اس میں ملّی تنظیموں اور ملّت کی کوششوں کی کمی صاف نظر آتی ہے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Feb 12, 2021 12:11 PM IST