உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کے وی رمانی سے ملیے، جنہوں نے اپنی 80 فیصد آمدنی شرڈی سائی بابا کو کیا عطیہ! اب سائی یونیورسٹی کا منصبوبہ

    کے وی رمانی سائی یونیورسٹی Sai University کے بانی چانسلر ہیں۔ (فوٹو: https://saiuniversity.edu)

    کے وی رمانی سائی یونیورسٹی Sai University کے بانی چانسلر ہیں۔ (فوٹو: https://saiuniversity.edu)

    ستر سالہ کاروباری شخصیت کے وی رمانی KV Ramani اب اپنے اگلے مشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے خود کے الفاظ میں یہ ’’ہندوستان کی اسٹینفورڈ‘‘ کی تیاری ہے۔ رمانی سائی یونیورسٹی Sai University کے بانی چانسلر ہیں۔ پیش ہے رمانی سے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا مکمل انٹرویو

    • Share this:
      جب 2004 میں ناسکام Nasscom کے  شریک بانی اور سافٹ ویئر انٹرپرینیور کے وی رمانیKV Ramani نے اپنے کاروبار فیوچر سافٹ ویئر اور نیوزس سافٹ ویئر کو چھوڑ دیا تو انھوں نے کچھ غیر نیا کرنے کا ارادہ کیا۔ رمانی نے اپنے خاندان کے لیے صرف 12 فیصد آمدنی رکھی اور 85 فیصد سے زیادہ سری سائی ٹرسٹ Sri Sai Trust میں رکھا، جسے خود انھوں نے قائم کیا۔ اس وقت اس کارپس کی مالیت تقریباً 325 تا 350 کروڑ روپے تھی۔ یہ ٹرسٹ آج تک کوئی بھی عطیات قبول نہیں کرتا ہے - یہ پہلی نسل کے فارغ التحصیل افراد کو ہزاروں اسکالرشپ دیتا ہے۔ ہنگامی طبی دیکھ بھال کی ضروریات والے 4,000 لوگوں کی مدد کرتا ہے اور پورے ہندوستان میں 5,000 لوگوں کو روزانہ کھانا فراہم کرتا ہے۔ اس نے پورے ملک میں تقریباً 450 سائی مندروں کو بھی فنڈ فراہم کیا ہے۔

      ستر سالہ کاروباری شخصیت کے وی رمانی اب اپنے اگلے مشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے خود کے الفاظ میں یہ ہندوستان کی اسٹینفورڈ Stanford of India کی تیاری ہے۔  رمانی سائی یونیورسٹی Sai University کے بانی چانسلر ہیں۔ یہ ایک بین الضابطہ interdisciplinary اور کثیر الضابطہ multidisciplinary یونیورسٹی ہے، جو اگست 2021 سے شروع ہوچکی ہے، جو کہ چنئی میں اولڈ مہابلی پورم روڈ پر واقع ہے۔ یہ پوسٹ گریجویٹ کے علاوہ لبرل آرٹس، قانون، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تین انڈرگریجویٹ پروگراموں کے ساتھ شروع ہوگی۔


      رمانی کہتے ہیں کہ ’’ہم تعلیم کو خدمت کے طور پر نہ کہ تعلیم کو کاروبار کے طور پر فروغ دے رہے ہیں۔ جب آپ تعلیم کو خدمت کے طور پر فروغ دیتے ہیں، تو آپ اس میں سے ایک روپیہ بھی نہیں لینا چاہتے۔ آپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید کام کرنا چاہتے ہیں کہ یہ شعبہ کامیابی کی منزلیں طئے کرتا جائے۔ انہوں نے منی کنٹرول سے یونیورسٹی کے لیے اپنے وژن پر بات کی، کیوں کہ ہندوستان تعلیمی شعبے میں پسماندگی کا شکار ہے۔ اسی لیے وہ اس شعبہ میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

      آپ کے ذہن میں کئی سال بعد آخرکار سائی یونیورسٹی کا خیال کیسے آیا؟ یہ کیسے شروع ہوگی؟

      سائی یونیورسٹی شروع کرنے کا کلیدی مقصد اور وژن یہ ہے کہ ہندوستان کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آزادی کے بعد سے پچھلے 75 سال میں ہمارے پاس دنیا کی ٹاپ 50 میں ایک بھی ہندوستانی یونیورسٹی نہیں ہے۔ میرے خیال میں سائی یونیورسٹی ٹاپ 150 سے ایک ہوگی۔

      وہ ساری سرمایہ کاری کہاں ہے جو ہندوستان تعلیمی شعبے میں کر رہا ہے؟ کیا ہم غلط سمت، لوگوں اور انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟ سائی یونیورسٹی کے لیے ہمارا وژن ہندوستان میں عالمی شہرت کا ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنانے کی خواہش کے تحت پورا کیا جائے گا۔ ہندوستان میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے اور ہم اپنے نوجوانوں کے لیے مزید ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، خدمات اور صنعتوں میں بہتر اعلیٰ تعلیم اور مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

      اس سال 55,000 ہندوستانی طلبا کو امریکہ کا اسٹوڈنٹ ویزا دیا گیا جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ہمیں شرم آنی چاہیے کہ ٹاپ ٹیلنٹ بیرون ملک جا رہا ہے اور ہم انہیں یہاں مواقع فراہم نہیں کر سکتے۔ معاشی بدحالی بھی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے والا طالب علم ہر سال تقریباً 25 سے 30 لاکھ روپے خرچ کرے گا، جس کا فی سال فاریکس آؤٹ فلو میں 13,000 کروڑ روپے ہوتا ہے۔ برین ڈرین brain drain کے بارے میں شکایت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور ہم اپنے نوجوانوں کی ضروریات کو پورا نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک بنیادی غلطی ہے۔ ہم سائی یونیورسٹی بنا کر اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کریں گے۔


      جب آپ عالمی شہرت کی یونیورسٹی بنانے کی بات کرتے ہیں تو آپ مختلف طریقے سے کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ڈیٹا سائنس کورسز اور مربوط ڈگریوں کے تعارف کے ساتھ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کا بازار پہلے ہی آن لائن سیکھنے والے اسکولوں اور انجینئرنگ کالجوں سے بھرا ہوا ہے۔

      آپ کے سوال پر براہ راست پہنچنے سے پہلے آپ کو بیرون ملک جانے کا محرک دیکھنا ہوگا۔ آج میں نے جو بھی ڈیٹا دیکھا ہے، وہ بیرون ملک طلبا اور فیکلٹی کا ایک تہائی یا چوتھا حصہ ہندوستان یا چین سے ہے۔ ہم نے سوچا کہ یہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ بیرون ملک جاتے ہیں۔ یہ صرف فزیکل انفراسٹرکچر، نصاب اور لیبز کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ یہ پورا سیکھنے کا ماحول تھا، جو بالکل مختلف ہے۔ ہندوستان میں طلبا کو تعلیمی اظہار کی آزادی، طلبا کے لیے استفسار، سیکھنے اور بحث کرنے کی آزادی نہیں کے برابر ہے۔

      یہ وہ خلا ہے جسے میں دور کرنا چاہتا ہوں۔ ایک ادارہ تب بہتر ہوگا، جب اس کے اساتذہ اور طلبا بھی بہتر ہوں گے۔ انفراسٹرکچر کے علاوہ ہم یونیورسٹی میں اعلیٰ فیکلٹی میں سرمایہ کاری کریں گے۔ درحقیقت کلیدی پیرامیٹرز میں سے ایک یہ ہے کہ دنیا کے تمام سرفہرست آئیوی لیگ اسکولوں سے ہماری 50 فیصد فیکلٹی بین الاقوامی ہو گی۔ دوسرا ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ دیگر 50 فیصد ہندوستانی فیکلٹی جو ہمیں حاصل ہوگی وہ اعلی ترین معیار کی ہوگی۔ تاکہ وہ اپنے بہترین طریقوں، اپنی یونیورسٹی کے بارے میں معلومات اور سیکھنے کے نظام کو ہمارے سامنے لا سکیں۔


      آپ اس کی تعمیر کا منصوبہ کیسے بنا رہے ہیں؟

      ہم ایک عمارت نہیں بنا رہے ہیں اور صرف یونیورسٹی کھولنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ہم اگلے سات سال میں 100 ایکڑ اراضی پر تقریباً 25 لاکھ مربع فٹ تعمیر کرنے جا رہے ہیں، جیسا کہ تمل ناڈو حکومت نے لازمی قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی کا نام پروموٹر یا بانی کے نام پر نہیں رکھا گیا ہے۔ اس کا نام سائی (ایک ہندوستانی مذہبی استاد) کے نام پر رکھا گیا ہے۔

      عالمی مسابقت کے تحت فن تعمیر کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ ہم عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ بنانے جا رہے ہیں۔ نہ صرف کلاس رومز میں، بلکہ لیبز، فیکلٹی اور طلباء کی رہائش گاہوں، بیرونی اور اندرونی تفریحی مقامات میں بھی ہمارا مقابلہ بین الاقوامی شہروں اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ طلبا اور فیکلٹی کے تبادلے کے پروگراموں میں بھی ہوگا۔

      اس سال ہم دو انڈرگریجویٹ پروگرام اور دو پوسٹ گریجویٹ پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ پہلا اسکول آف لبرل آرٹس اینڈ سائنسز ہے۔ ہمارے پاس وائس چانسلر جمشید بھروچا Jamshed Bharucha ہیں، جنہوں نے ہارورڈ Harvard سے کوگنیٹو نیورو سائنس Cognitive Neuroscience میں پی ایچ ڈی کی ہے اور وہ امریکہ میں آئیوی لیگ کی تین یونیورسٹیوں میں مختلف شعبہ جات میں رہ چکے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اس کی مہارت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے اپنے طلبا فائدہ اٹھا سکیں۔


      ہمارے پاس پہلے سمسٹر میں فاؤنڈیشن کورس ہوگا، جہاں طلبا تنقیدی سوچ، تجزیاتی سوچ، منطقی سوچ اور پھر کمپیوٹر کی مہارت، کمیونیکیشن اسکل، تحریری اور زبانی کمیونیکیشن کی مہارت جیسی تکنیکی مہارتوں حاصل کریں گے۔ اگلے سمسٹر میں طلبا اپنے بڑے اور چھوٹے پروگرام کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ دوسرے کالجوں کے برعکس جن کے سمسٹر دو میں 10 تا 12 کورسز ہوتے ہیں۔ ہم اسے کثیر الضابطہ اور بین الضابطہ تعلیم بنا رہے ہیں، لیکن اس سے پہلے کہ آپ اپنے بڑے اور مائنر کا انتخاب کریں، آپ 10 یا 12 کورسز سے گزر سکتے ہیں، اور آپ معاشیات میں میجر اور فزکس جیسے بالکل مختلف مضامین میں مائنر لے سکتے ہیں۔ یہ آج ہندوستانی کالجوں میں ممکن نہیں ہے لیکن آئیوی لیگ کے اسکولوں Ivy League schools میں یہ ایک معیاری عمل ہے۔

      ہم بہت سارے نجی صنعت کاروں اور کاروباری افراد کو تعلیمی شعبے میں خدمات کے لیے اکٹھے ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے یہ کریا یونیورسٹی Krea University کے معاملے میں دیکھا۔ ہم اسے شیو نادر Shiv Nadar کے حوالے سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے کیا خیالات ہیں؟

      ہندوستان میں بہت سے نجی کاروباری ہیں، جو اپنی دولت کو متنوع طریقوں اور سی ایس آر CSR ذمہ داری میں بانٹ رہے ہیں۔ کامیاب کاروباری افراد اس ملک، بنیادی ڈھانچے اور ہندوستان کے انسانی سرمائے کو ترقی دینے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ انھیں پتہ ہے کہ ہمارے پاس دنیا میں نوجوانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے۔ جب کہ ہم تعلیمی شعبے میں ’’کاروباری افراد‘‘ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔


      آپ نے Krea یونیورسٹی کا ذکر کیا، جو کہ ایک لبرل آرٹس، سائنس اور مینجمنٹ یونیورسٹی ہے۔ اگر آپ انجینئرنگ یونیورسٹیوں کو لے لیں تو ایسا ہی ہے۔ وہ کثیر الضابطہ اور بین الضابطہ نہیں ہیں۔

      ہم اسٹینفورڈ کا ماڈل لیتے ہیں۔ ہمارے پاس نہ صرف آرٹس ہیں بلکہ لبرل آرٹس اور سائنسز بھی ہیں اور جلد ہی ہمارے پاس انجینئرنگ اور مینجمنٹ کے مضامین بھی ہوں گے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک لاء اسکول ہے۔ اگلے 4 تا 5 سال کے اندر ہمارے پاس ایک ہسپتال اور ایک میڈ اسکول بھی ہو گا۔ لہذا یہ اسے واقعی ایک کثیر الضابطہ / بین الضابطہ یونیورسٹی بناتا ہے۔ ہم صرف ہنر اور نوکریاں فراہم کرنے سے آگے جا رہے ہیں۔ طلباء کو کاروباری، عالمی سائنسدان اور عالمی انعام یافتہ بننے کے لیے تنقیدی اور تجزیاتی طور پر سوچنے میں مدد کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم ایک سال میں تمام اسکول نہیں بھر سکتے۔ لیکن رول آؤٹ کے پہلے چھ سال میں ہمارے پاس یہ تمام اسکول ہوں گے اور ہم کورسز کی تعداد میں اضافہ کریں گے تاکہ طلبا کے پاس انتخاب کرنے کے لیے مزید اختیارات ہوں گے۔

      کیا آپ ہمیں سائی یونیورسٹی کی حمایت کرنے والے کارپوریٹ لیڈروں کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟ انہوں نے کتنا پیسہ لگایا ہے اور آپ کے دوسرے ذرائع کیا ہیں؟ آپ ان فیسوں کے علاوہ یونیورسٹی کو چلانے کے لیے فنڈز کیسے اکٹھا کریں گے؟

      پیسے پر آنے سے پہلے مجھے ایک بورڈ کے آئین کی بات کرنی ہے۔ میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بیرون ملک جانا چاہتا تھا کہ وہ ہمیں صحیح مشورہ اور سمت دے سکیں اور سوچیں کہ ہم کہاں ترقی کر رہے ہیں۔ تو میں آپ کو جلدی سے چند نام بتاتا ہوں اور پھر آپ سمجھ جائیں گے کہ میرا اس سے کیا مطلب ہے۔ میں نے نارائن مورتی Narayana Murthy (انفوسس کے شریک بانی) سے ہماری مدد کرنے کی درخواست کی۔ وہ امریکہ، فرانس اور جاپان سمیت دنیا بھر میں کم از کم پانچ یا چھ آئیوی لیگ اسکولوں کے بورڈ میں رہے ہیں۔ اس طرح ہم سائی یونیورسٹی میں عالمی سطح پر بہترین پریکٹس حاصل کر سکتے ہیں۔ پھر میں چاہتا تھا کہ کسی کو ہندوستانی اعلیٰ تعلیم کا تجربہ ہو۔ لہذا میں ہندوستان کی سب سے بڑی نجی یونیورسٹی منی پال کے ٹی وی موہن داس پائی TV Mohandas Pai میں گیا۔ پھر ہم نے ایک لا اسکول شروع کیا۔ میں نے ہندوستان کے سابق چیف جسٹس ایم این وینکٹاچالیہ MN Venkatachaliah سے گورننگ کونسل میں شامل ہونے کی درخواست کی۔ پھر ہم نے دوسروں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی جو اپنے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس میں اشنک دیسائی Ashank Desai شامل ہیں، جو IIT بمبئی اور IIM احمد آباد کے گورننگ بورڈ میں ہیں۔ انیل کاکوڈکر Anil Kakodkar ہندوستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ تھے اور دیگر نامور شخصیات بھی شامل ہیں۔


      چونکہ آپ نے اسٹینفورڈ کا ذکر کیا ہے، آپ جانتے ہیں کہ امریکی یونیورسٹیوں کو انڈومنٹس اور پنشن فنڈز اور نجی فلاحی کاموں کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ سائی یونیورسٹی کے معاملے میں آپ اس عالمی معیار کی یونیورسٹی کو چلانے کا انتظام کیسے کریں گے؟

      ہمیں اگلے سات سال کے لیے درست رول آؤٹ پلان کا علم ہے اور سات سال کے اختتام تک ہم تمام شعبوں میں ایک مکمل یونیورسٹی کے طور پر چل رہے ہوں گے۔ یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے کیپیکس لاگت 750 کروڑ روپے ہے، جس میں سے 300 کروڑ روپے میرے قائم کردہ ٹرسٹ سے آئیں گے۔ ہم 1:1 کی قرض ایکویٹی رکھنے اور مالیاتی اداروں سے تقریباً 300 کروڑ روپے قرض لینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے پہلے ہی ہم سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کی اس بنیاد کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ تقریباً 50 کروڑ روپے ہم مخیر حضرات، اسپانسرز اور عطیہ دہندگان سے جمع کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جن سے ہم یونیورسٹی کو چلانے کے دو سال کی کامیابی کے بعد ہی رابطہ کریں گے۔

      تو آپ نے جس 300 کروڑ روپے کا ذکر کیا، کیا یہ اس ٹرسٹ سے ہے جو آپ نے 20 سال پہلے قائم کیا تھا؟

      میں نے 2004 میں اسی وقت اپنے کاروبار فیوچر سافٹ ویئر اور Hughes Software چھوڑ دیا تھا جسے اب Aricent کہا جاتا ہے۔ اس کاروبار سے مجھے بہت منافع ہوا۔ میں نے اپنے خاندان کے لیے تقریباً 12 فیصد رکھا اور 85 فیصد سے زیادہ رقم میں نے سری سائی ٹرسٹ کو بطور کارپس دی۔ یہ کارپس اس وقت تقریباً 325 تا 350 کروڑ روپے تھا۔ آج تک ٹرسٹ کسی سے چندہ نہیں لیتا۔ 23 سال گزر چکے ہیں۔ ہر سال ہم طلبا کو 3,000 وظائف دے رہے ہیں، جو کالج کی تعلیم حاصل کرنے والے پہلی نسل کے گریجویٹ ہیں۔ ہم 4,000 لوگوں کو ہنگامی طبی دیکھ بھال فراہم کر رہے ہیں جیسے دل اور گردے کی سرجری، ڈائیلاسز اور دیگر ضروریات لاحق ہوتی ہیں۔ ہم پورے ہندوستان میں 5,000 لوگوں کو روزانہ کھانا بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہم نے پورے ملک میں تقریباً 450 سائی مندروں کو فنڈ فراہم کیا ہے اور وہ تقریباً 65 کو آؤٹ ریچ پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جہاں ہم دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے لیے ایک دن میں 5,000 کھانے کے پیکٹس فراہم کرتے ہیں۔ ہم 23 سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: