اپنا ضلع منتخب کریں۔

    میٹا انڈیا کے کنٹری ہیڈ اجیت موہن نے دیا استعفیٰ، ملازمین میں مچی افراتفری!

    میٹا انڈیا کے کنٹری ہیڈ اجیت موہن نے دیا استعفیٰ، ملازمین میں مچی افراتفری!

    میٹا انڈیا کے کنٹری ہیڈ اجیت موہن نے دیا استعفیٰ، ملازمین میں مچی افراتفری!

    میٹا کے گلوبل بزنس گروپ کی نائب صدر نکولا مینڈل سوہن کا کہنا ہے کہ اجیت نے باہر دیگر مواقع کے لیے میٹا سے اپنے عہدے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      فیس بُک کی پیرینٹ کمپنی میٹا کے کنٹری ہیڈ اجیت موہن نے آج 3 نومبر کو اچانک استعفیٰ دیتے ہوئے سب کو حیران کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اجیت موہن کے اچانک استعفے کے بعد ملازمین میں افراتفری کی صورتحال ہے۔ وہیں یہ خبر ہے کہ موہن حریف سوشل میڈیا پلیٹ فارم اسنیپ چیٹ سے جڑنے جارہے ہیں۔

      اجیت موہن جنوری 2019 میں فیس بک انڈیا میں منیجنگ ڈائریکٹر کے طو رپر شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے اُمنگ بیدی کی جگہ لی تھی، جنہوں نے اکتوبر 2017 میں عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ میٹا سے پہلے موہن نے چار سال تک اسٹار انڈیا کی ویڈیو اسٹریمنگ سروس ہاٹ اسٹار کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر کام کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      اعلیٰ تعلیمی اداروں کو فیس نہ لوٹانا پڑے گا مہنگا، یو جی سی نے مالی مدد روکنے کی دی وارننگ

      انسپیکٹر ماں کی بیٹی بنی IAS کسی اسٹار سے کم نہیں ہیں پری بشنوئی

      یہ بھی پڑھیں:
      پی ایچ ڈی کے طلبہ فرضی اشتہارات سے رہیں ہوشیار، یو جی سی نے جاری کیا اہم نوٹس

      جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 12 ریسرچ اسکالرزپرائم منسٹرریسرچ فیلوشپ کیلئے منتخب، جانیےتفصیلات

      میٹا کے گلوبل بزنس گروپ کی نائب صدر نکولا مینڈل سوہن کا کہنا ہے کہ اجیت نے باہر دیگر مواقع کے لیے میٹا سے اپنے عہدے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں انہوں نے ہمارے ہندوستانی آپریشن کے آپریٹنگ کو شکل دینے اور بڑھانے میں اہم رول ادا کیا تا کہ وہ کئی لاکھوں ہندوستانیوں بیوپاریوں، شراکت داروں اور لوگوں کو سروس دے سکے۔ ہم ہندوستان کے لیے گہرائی سے پابند عہد ہیں اور ہمارے سبھی کام اور شراکت داری پر آگے بڑھنے کے لیے ایک مضبوط لیڈر شپ ٹیم ہے۔ ہم اجیت کی قیادت اور تعاون کے لیے شکر گزار ہیں اور ان کے مستقبل کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: