உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'اقلیتی طبقے کے لوگوں کو اپنے طور پر تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت'

    تعلیمی میدان میں مختلف سطحوں پر کام کرنے والے دانشور یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اب صرف حکومتوں کی مراعات پر منحصر رہنا  مناسب نہیں اقلیتی طبقے کے لوگوں کو اپنے طور پر تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔۔

    تعلیمی میدان میں مختلف سطحوں پر کام کرنے والے دانشور یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اب صرف حکومتوں کی مراعات پر منحصر رہنا مناسب نہیں اقلیتی طبقے کے لوگوں کو اپنے طور پر تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔۔

    تعلیمی میدان میں مختلف سطحوں پر کام کرنے والے دانشور یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اب صرف حکومتوں کی مراعات پر منحصر رہنا مناسب نہیں اقلیتی طبقے کے لوگوں کو اپنے طور پر تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔۔

    • Share this:
    لکھنئو: ملک میں بالخصوص ریاستِ اتر پردیش میں اقلیتی تعلیمی نظام کے حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر جن خیالات و نظریات کی ترجمانی کی جارہی ہے اس نے یہ اشارے تو دیدئے ہیں کہ آنے والے وقت میں اگر بہتر تعلیمی ادارے قائم نہیں کیے گئے تو ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کے لئے انفرادی تشخص کے تحفظ کے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔حال ہی میں حکومت اتر پردیش کی جانب سے نئے مدارس کو گرانٹ نہ دیے جانے کے فیصلے سے لوگوں میں تشویش محسوس کی جارہی ہے ۔گزشتہ دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسو سی ایشن ( امیوبا ) کی جانب سے لکھنئو میں ایوانِ سر سید کی تعمیر کے اعلان کے ساتھ ساتھ ان تعلیمی اور سماجی تحریکات کو مکمل کرنے کا عہد بھی کیا گیاتھا جو مختلف اسباب کی بناء پر تعطل کا شکار رہی ہیں۔

    امیوبا کے صدر معروف معالج و سماجی کارکن پروفیسر شکیل قدوائی کے ساتھ ساتھ کئی ذمہ دار لوگوں نے کہا تھا کہ جلد ہی تعلیمی استحکام کے لئے خصوصی پیش رفت کی جائے گی لیکن خاصہ وقت گزرنے کے باوجود بھی یہ خواب صرف خواب ہی رہا کیونکہ تعبیر کے حصول کی کوششیں ہی نہیں کی گئیں ، معروف سماجی کارکن اور درگاہ شاہ مینا کے سجادہ نشین راشد مینائی اورسید بلال نورانی کہتے ہیں کہ صرف رسمی پروگراموں کے انعقاد اور ضیافتیوں کے اہتمام سے مطلوبہ مقاصد پورے نہیں ہوسکیں گے اور عملی اقدامات کے لئے محض حکومتوں کی طرف حسرت و اشتیاق سے دیکھتے رہنا اور کاسہ  گدائی لے کے وزیروں کے دفاتر میں چکر لگاتے رہنا کافی نہیں بلکہ اسی مشن اور تحریک کو اپنانے کی ضرورت ہے جو سر سید نے اختیار کی تھی ہم لکھنئو میں ایوانِ سر سید کی تعمیر کے لئے ذاتی پیسہ بھی خرچ کریں گے عوام سے چندا بھی کریں گے اور ساتھ ہی سرکاری سطح پر مراعات حاصل کرنے کی کوششیں بھی کی جائیں گی لیکن کسی بھی طرح اس مشن کو پورا کیا جائے گا۔

    ساکیت عدالت میں Qutub minar احاطے میں پوجا کے حق کی عرضی پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ


    اس پس منظر میں معروف سماجی کارکن اور کئی مدارس کی منتظم طاہرہ رضوی بھی یہی کہتی ہیں کہ سر سید کے نقش قدم پر چلنا آسان نہیں ، لیکن موجودہ عہد میں ایوان سر سید کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ایسے ادارے کھولنے کی ضرورت ہے جن سے بہتر دینی و دنیاوی تعلیم کی راہیں ہموار ہو سکیںمعروف سماجی کارکن ڈاکٹر سلمان خالد کہتے ہیں کہ ابھی لوگوں کے جذبے سرد نہیں پڑے ہیں اور محدود وسائل میں بھی ایسے بہت سے کام کئے جاتےرہیں گے جن سے سماج کے سبھی مذاہب کے پسماندہ دبے کچلے اور غریب لوگوں کو زندگی کی بنیادی اور ضروری سہولیات فراہم کی جاسکیں یہاں یہ بھی اہم ہے کہ دینی مدارس سے منسلک و وابستہ لوگوں کی مایوسی و افسردگی کو دور کرنے کے لئے بھی خصوصی تحریک چلانے کی ضرورت ہے ساتھ ہی ان مدرسین کی مالی دشواریاں دور کرنے کے لئے بھی منظم حکمت عملی وضع کئے جانے کی اشد ضرورت ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: