ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

مدھیہ پردیش بورڈ ریزلٹ 2020: 12ویں کے نتائج جاری، 68.81 فیصد پاس، ٹاپ 15میں چار مسلم طلبہ شامل

بارہویں بورڈ کا کل نتیجہ اڑسٹھ اعشاریہ اکیاسی فیصد رہا ہے جبکہ گزشتہ سال بارہویں بورڈ کا نتیجہ بہتر اعشاریہ سینتس فیصد رہا ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش بورڈ ریزلٹ 2020: 12ویں کے نتائج جاری، 68.81 فیصد پاس، ٹاپ 15میں چار مسلم طلبہ شامل
مدھیہ پردیش بورڈ ریزلٹ 2020: 12ویں کے نتائج جاری، 68.81 فیصد پاس، ٹاپ 15میں چار مسلم طلبہ شامل

بھوپال۔ مدھیہ پردیش بارہویں بورڈ کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔ بارہویں بورڈ کے امتحان میں ریواکی خوشی  سنگھ نے 500 میں سے 486 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ نرسنگھ کی  مدھولتا نے 500 میں 479 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن اور نیمچ کی نکتا پاٹیدار نے476 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔بارہویں بورڈ کا کل نتیجہ اڑسٹھ اعشاریہ اکیاسی فیصد رہا ہے جبکہ گزشتہ سال بارہویں بورڈ کا نتیجہ بہتر اعشاریہ سینتس فیصد رہا ہے ۔ اس طرح دو ہزار بیس کے نتیجہ میں چار اعشاریہ اٹھائیس فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔


مدھیہ پردیش میں یہ دوسرا موقعہ ہے جب ہائی اسکول اور بارہویں بورڈ کے امتحان کے نتائج الگ الگ جاری کئے گئے ہیں ۔ پہلی بار اس وقت الگ الگ نتیجے جاری کئے گئے تھے جب بھوپال میں دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو گیس سانحہ پیش آیا اور یونین کاربائیڈ سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی اور لاکھوں آج بھی اس کے مضر اثرات سے دوچار ہیں ۔ مادھیمک شکدا منڈل نے امسال کورونا قہر کے چلتے ہائی اسکول کا نتیجہ چار جولائی کو جاری کیا تھا اور آج ستائیس جولائی کو بارہویں بورڈ کا نتیجہ جاری کیاگیا ہے۔


بارہویں بورڈ کے طلبا کو کورونا کے قہر کے چلتے دو بار میں امتحان دینا پڑا تھا۔


کورونا لاک ڈاؤن کے سبب آن لائن نتیجہ تو جاری کیا گیا لیکن ٹاپر طلبا کو بھوپال بلاکر ان کی عزت افزائی نہیں کی جا سکی۔حالانکہ اس سے قبل ٹاپر طلبا کو بھوپال بلاکر ان کا سی ایم ہاؤس میں اعزاز کرنے کی روایت رہی ہے۔ اس بیچ سی ایم شیوراج سنگھ نے اسپتال سے طلبا کے لئے بڑا اعلا ن کرکے خوشخبری دی ہے۔ سی ایم نے بورڈ کے ہونہار طلبا کو حکومت کی جانب سے لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسکیم کے تحت طلبا کو پچیس ہزار روپیے اور توصیفی سند پیش کی جائے گی۔

بارہویں بورڈ میں صوبہ سے ساڑھے آٹھ لاکھ طلبا نے شرکت کی تھی اور اس کے لئے صوبہ میں تین ہزار چھ سو بیاسی امتحان مراکز بنائے گئے تھے۔ بارہویں بورڈ کے طلبا کو کورونا کے قہر کے چلتے دو بار میں امتحان دینا پڑا تھا۔ بورڈ کے امتحان کا آغاز تو دو مارچ کو ہو گیا تھا لیکن کورونا قہر کے چلتے بیچ میں طلبا کے امتحان کو ملتوی کرناپڑا اور جب صوبہ میں ان لاک ون شروع ہوا تو نو جون سے سولہ جون کے بیچ طلبا کے امتحنانات کے انعقاد کیاگیا۔ حکومت کی جانب سے کورونا کے لئے بہت سے احتیاطی اقدامات کئے گئے تھے اس کے باوجود سیکڑوں طلبا نے کورونا کے قہر کے خوف سے امتحان میں شریک ہونے سے انکار کردیا تھا۔ بارہویں بورڈ کے امتحان میں مسلم طلبا نے اپنی بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ بورڈ کے ذریعہ جاری کی گئی فہرست میں ٹاپ ففٹین میں چار مسلم طلبا کے نام شامل ہیں۔اس میں چھندواڑہ کی آفرین فاطمہ ،نیمچ کے مفدل اروی والا کے علاوہ  نیمچ کے ہی برہان الدین حویلی والابڑوانی کی عظمی انصاری کے نام شامل ہیں۔

آفرین فاطمہ نے پانچ سو میں سے چار سو اکیاسی نمبر حاصل کئے جبکہ مفدل اروی والا نے چارسو انیاسی نمبر ،نیمچ کے برہان الدین نے چار سو ستر نمبر اور بڑوانی کی عظمی انصاری نے بھی پانچ سو میں چار سو ستر نمبر حاصل کرکے اپنی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بڑوانی کی عظمی انصاری کہتی ہیں کہ کورونا کے خوف سے میرا نتیجہ متاثر ہوا ہے حالانکہ میں اس سے زیادہ نمبر کی امید کرتی تھی۔ بہر کیف جو بھی نتیجہ ہے اس کا خیر مقدم ہے اور یہ سب اللہ کی رحمت اور والدین کی دعا کانتیجہ ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 27, 2020 04:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading