உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sanskrit: سنسکرت میں 5 میڈل جیتے والی مسلم لڑکی آخر کرناکیا چاہتی ہے؟ جانیے آپ بھی

    غزالہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہے۔

    غزالہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہے۔

    غزالہ کیمپس میں مقبول ہے اور یونیورسٹی کے ثقافتی پروگراموں کے دوران سنسکرت شلوک، گایتری منتر اور سرسوتی وندنا بھی پڑھتی رہتی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انھوں نے سنسکرت کو کیوں منتخب کیا، تب غزالہ کہتی ہیں کہ ’’تمام زبانوں میں ایک سنسکرت بھی خدا کی زبان ہے۔ یہ بہترین زبان ہے۔ سنسکرت میں شاعری زیادہ سریلی اور حسین محسوس ہوتی ہے‘‘۔

    • Share this:
      لکھنؤ یونیورسٹی (LU) میں ایک مسلم لڑکی نے سنسکرت میں ایم اے کی بہترین طالبہ ہونے پر پانچ تمغے جیتے ہیں۔ غزالہ (Ghazala) کے نام کا اعلان ایل یو نے نومبر میں منعقدہ اپنے کانووکیشن کی تقریب کے دوران کیا تھا لیکن کووڈ۔19 کی وجہ سے تقریب کے دوران صرف چند طالب علموں کو ہی تمغے دیے جا سکے۔ جمعرات کے روز غزالہ کو ڈین آرٹس پروفیسر ششی شکلا نے فیکلٹی سطح کی میڈل تقسیم کرنے کی تقریب کے دوران میڈلز سے نوازا۔

      غزالہ کے والد مزدور کرنے والے ہیں۔ غزالہ نے پانچ زبانوں انگریزی، ہندی، اردو، عربی اور سنسکرت میں ماہر ہے۔ ان کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ دسویں جماعت میں تھی اور انھوں نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے جدوجہد کی۔ غزالہ نے کہا کہ یہ تمغے میں نے نہیں بلکہ میرے بھائیوں شاداب اور نایاب نے جیتے ہیں جنہوں نے اسکول چھوڑ دیا اور بالترتیب 13 اور 10 سال کی عمر میں ایک گیراج میں کام کرنا شروع کیا تاکہ میں پڑھنا جاری رکھ سکوں۔

      اس کی بڑی بہن یاسمین نے بھی برتنوں کی دکان پر کام کرنا شروع کیا جب کہ ان کی والدہ نسرین بانو ان کے گھر کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ غزالہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہے۔ وہ صبح 5 بجے اٹھ کر نماز فجر پڑھتی ہے۔ گھر کے تمام کام کرتی ہے اور دن میں تقریباً سات گھنٹے سنسکرت پڑھتی ہے۔ وہ سنسکرت کی پروفیسر بننے کی خواہش رکھتی ہے۔

      غزالہ کیمپس میں مقبول ہے اور یونیورسٹی کے ثقافتی پروگراموں کے دوران سنسکرت شلوک، گایتری منتر اور سرسوتی وندنا بھی پڑھتی رہتی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انھوں نے سنسکرت کو کیوں منتخب کیا، تب غزالہ کہتی ہیں کہ ’’تمام زبانوں میں ایک سنسکرت بھی خدا کی زبان ہے۔ یہ بہترین زبان ہے۔ سنسکرت میں شاعری زیادہ سریلی اور حسین محسوس ہوتی ہے‘‘۔

      غزالہ کے مطابق سنسکرت میں اس کی دلچسپی نشاط گنج کے سرکاری پرائمری اسکول سے شروع ہوئی جہاں ان کی ٹیچر نے انھیں پانچویں جماعت میں سنسکرت پڑھائی تھی۔ میرا سنسکرت کا علم اور دلچسپی اکثر لوگوں کو حیران کر دیتی ہے جو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے میں نے زبان سے محبت کیسے پیدا کی۔ وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ کیا کروں گی، لیکن میرے خاندان نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔

      غزالہ اب ویدک ادب میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: