ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

تعلیم نسواں :ووکیشنل اورتکنیکی تعلیم پرتوجہ دے کرحاصل کیاجاسکتاہے روزگار

مسلم معاشرہ میں اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دی جائے بلکہ انہیں ووکیشنل اورتکنیکی تعلیم کی طرف راغب کیا جائے

  • Share this:
تعلیم نسواں :ووکیشنل اورتکنیکی تعلیم پرتوجہ دے کرحاصل کیاجاسکتاہے روزگار
علامتی تصویر

موجودہ دور میں مسلم خاندانوں میں اپنی لڑکیوں کوپڑھانے اوراعلیٰ تعلیم دلانے کا رجحان بڑھ رہاہے لیکن کئی ایک وجوہات کی بناء پر لڑکیاں اپناکیرئیر بنانے سے قاصر ہیں۔ جس میں کئی سماج و معاشی مسائل کارفرما ہیں۔ غریب اور متوسط گھرانوں میں مالی مسائل کی وجہ سے لڑکیاں اپنی تعلیم حاصل کرنے میں مجبورہوجاتی ہیں اور بعض خاندان لڑکیوں کی تعلیم کے معاملہ میں تنگ نظری کا شکار ہیں۔ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم اور ان کا روزگار سے منسلک ہونا ایک عیب تصور کیا جاتارہاہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے دوردراز کے اداروں کو بھیجنا لڑکیوں کے لئے بعض وقت خراب ماحول کی وجہ غیرمحفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ والدین جلد ازجلد ان کی شادی کرکے اپنی ذمہ داری کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ شادی ہونے کی وجہ سے بھی لڑکیاں اپنی تعلیم ترک کردیتی ہیں


اقلیتی اشکالرشپ اسکیم کی وجہ سے لڑکیاں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آگے آرہی ہے
اقلیتی اشکالرشپ اسکیم کی وجہ سے لڑکیاں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آگے آرہی ہے


ریاستی اورمرکزی حکومتوں کی جانب سے چلائی جانے والی اقلیتی اشکالرشپ اسکیم کی وجہ سے لڑکیاں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آگے آرہی ہے لیکن کئی افراد ان اسکیمات سے واقف نہیں ہیں اور بعض طلبہ صحیح وقت پر اسکالرشپ عدم فراہمی کی وجہ سے کئی پریشانوں کا سامنا کرتے ہیں۔ کئی والدین اسکالرشپ کے بھروسہ پرقرض حاصل کرکے اپنے بچوں کی فیس ادا کرتے ہیں۔ کئی پیشہ وارانہ کالجوں میں فیس باز ادائیگی حاصل نہ ہونے کی وجہ سےطلبہ کے اسنادات کالج میں ہی رکھ لئے جاتے ہیں جسکی وجہ سے طلبہ کو کئی ایک پریشانیوں کاسامنا ہے۔لڑکیاں گریجویشن میں بی اے، بی کام کی تعلیم حاصل کرنے کے بعدانہیں نوکریاں حاصل کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی تکنیکی یا پیشہ وارانہ معلومات نہیں ہوتی ہیں۔ ان کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ صحیح طریقے اورصحیح وقت میں ان کی رہنمائی کی جائے کہ انہیں بتایاجائے کہ کونسے کورس کرنے سے انہیں کس شعبہ میں ملازمت حاصل ہوگی اوروہ کن کورسوں کی تکمیل کے بعد کہا کہ اپنے خاندان کی کفالت کرنے کے قابل بن جائیں گے۔


لڑکیوں کوتعلیم حاصل کرنے کے بعد خود اعتمادی اور اپنے اچھے اخلاق اور مضبوط کردار کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔
لڑکیوں کوتعلیم حاصل کرنے کے بعد خود اعتمادی اور اپنے اچھے اخلاق اور مضبوط کردار کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔


مسلم معاشرہ میں اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دی جائے بلکہ انہیں ووکیشنل اورتکنیکی تعلیم کی طرف راغب کیا جائے اور ان کی رہنمائی کے لئے مختلف ملی وسماجی تنظیموں آگے آنا چاہیے ۔ کمیونکیشن اسکلس پرپر خاص توجہ دی جائے۔ پرسنالٹی ڈیولپمنٹ، آئی کیوٹیسٹ، لوجیکل ریزننگ، انٹرویو اسکلس جیسے موضوعات کواسکولی نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے اس مسابقتی دور میں لڑکے اورلڑکیاں تعلیم توحاصل کررہے ہیں لیکن ان اخلاقی اقدارمیں دن بہ دن کمی ہورہی ہے۔ لڑکے اور لڑکیوں کوتعلیم حاصل کرنے کے بعد خود اعتمادی اور اپنے اچھے اخلاق اور مضبوط کردار کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔

مضمون نگارکا نام: مسزز رفعت حسن، پرنسپل،پرنسس دُرّ شہوار‎جونیرکالج حیدرآباد


نوٹ :یہ مضمون نگار کی شخصی رائے ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

First published: Dec 19, 2019 06:26 PM IST