உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیشنل ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن جموں غریب اور بے سہارا بچوں کو تعلیم دینے کا کر رہی ہے کام

    جموں کے راجیو کھجوریہ بی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔راجیو کھجوریہ کی بات کریں تو وہ نیشنل ڈیولپمنٹ فائونڈیشن جموں کے صدر اور چیف ایکزیکٹو افسر ہیں۔ راجیو کھجوریہ ان غریب اور بے سہارا بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

    جموں کے راجیو کھجوریہ بی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔راجیو کھجوریہ کی بات کریں تو وہ نیشنل ڈیولپمنٹ فائونڈیشن جموں کے صدر اور چیف ایکزیکٹو افسر ہیں۔ راجیو کھجوریہ ان غریب اور بے سہارا بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

    جموں کے راجیو کھجوریہ بی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔راجیو کھجوریہ کی بات کریں تو وہ نیشنل ڈیولپمنٹ فائونڈیشن جموں کے صدر اور چیف ایکزیکٹو افسر ہیں۔ راجیو کھجوریہ ان غریب اور بے سہارا بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: اس دُنیا کو اگر دور سے دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور اس دُنیا میں رہنے والا ہر کوئی شخص خوش ہے لیکن نزدیک سے دیکھنے کے بعد ہماری ایسی سوچ بلکل بدل جاتی ہے۔ دُنیا اور ہمارے ملک کے دوسرے حصوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ابھی بھی دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہیں۔ ان غریب لوگوں کی طرف سرکار کا دھیان بہت کم جاتا ہے۔ خاص کر ان غریب لوگوں کے بچے بھی کافی مشکلات سے دوچار ہیں۔ان غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا جس وجہ سے یہ بچع تعلیم کے نور سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے جموں و کشمیر میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان معصوم بچوں کے لئے فرشتے بن کر سامنے آتے ہیں۔ جموں کے راجیو کھجوریہ بی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔راجیو کھجوریہ کی بات کریں تو وہ نیشنل ڈیولپمنٹ فائونڈیشن جموں کے صدر اور چیف ایکزیکٹو افسر ہیں۔ راجیو کھجوریہ ان غریب اور بے سہارا بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

    راجیو کھجوریہ کا کہنا ہے کہ ان کی فائونڈیشن کا مقصد غریب اور بے سہارا بچوں کو انکے گھروں میں ہی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ انکی کوشش ہے کہ کم سے کم دس ہزا ر ایسے بچوں کو تعلیم مہیا کرائی جائے جو کسی نہ کسی وجہ سے سکول نہیں جاپاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے پانچ ہزاار بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بلکل ہی بے سہارا ہیں اور جن کو تعلیم فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کھجوریہ کا کہنا ہے کہ انکی فائونڈیشن کئی تنظیموں کے اشتراک سے یہ مہم چلا رہی ہے جس میں unicef، ڈائیریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن جموں اور کئی دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔

    راجیو کیا کہنا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے گزشتہ دو برس سے سکول بند پڑے ہیں اور ایسے میں بچسوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بچوں کو گھروں میں ہی تعلیم فراہم کرنے کے لئے انکے والنٹئیرس دن رات کام کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ والنٹئیرس پہلے سروے کا کام کرتے ہیں اور ایسے بے سہارہ بچوں کی نشاندہی کرکے انکی تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے۔اس نیشنل ڈیولپمنٹ فائونڈیشن میں کام کر رہے والنٹئیر امت کُنڈل کا کہنا ہے کہ انکی کوشش ہے کہ ہر کسی غریب کنبے کا بچہ تعلیم کے نور سے آراستہ ہو اور اسلئے ان بچوں کو مفت تعلیم اور کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔ دوسری اور راجیو کھجوریہ نے بتایا کہ وہ جموں ڈیویژن کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو بھی تعلیم کی سہولیات فراہم کررہے ہیں اور سرحدی علاقوں کے بچے جو پاکستانی گولہ باری سے زخمی ہوئے ہیں ان کو بھی ان کی فائونڈیشن مفت تعلیم فراہم کرنے کا انتظام کر رہی ہے۔



    اس فائونڈیشن کی وساطت سےمفت تعلیم حاصل کر رہے بچوں کا کہنا ہے کہ وہ بے حد خوش ہیں کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ ان چند طالب علموں میں جھگی بستی میں رہنے والا سونو بھی شامل ہے۔ انکا کہنا ہے کہ انکا خواب ہے کہ وہ بڑا ہوکر فوجی افسر بے اور ملک و قوم کی خدمت کرے۔ مینا نامی ایسی ہی ایک بچی کا کہنا ہے کہ وہ بھی اب تعلیم حاصل کر پارہی ہے اور آگے جاکر وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ راجیو کھجوریہ اور انکی ٹیم ان جیسی ہزاروں بچیوں کے لئے فرشتے سے کم نہیں۔راجیو کھجوریہ آگے چل کر اپنے اس کام کو اور بڑھاکر مزید بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرنے کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ اب اسطرح کا انتظام کشمیر وادی میں بھی کرنا چاہتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ غریب بچوں کو انکی اس کوشش کا فائدہ ملے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: