ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

'تعلیمی پالیسی کے تحت اردو علاقوں میں اردو ایجوکیشن زون کرائے جائیں تیار'

نئی قومی تعلیمی پالیسی اور اردو زبان کو لے کر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے اسی سلسلے کی کڑی میں قومی تعلیمی پالیسی کے تحت اردو بولے جانے والے علاقوں میں میں اردو ایجوکیشن زون بنائے جانے پر زور دیا جانے لگا ہے۔

  • Share this:
'تعلیمی پالیسی کے تحت اردو علاقوں میں اردو ایجوکیشن زون کرائے جائیں تیار'
علامتی تصویر

نئی دہلی۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی اور اردو زبان کو لے کر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے اسی سلسلے کی کڑی میں قومی تعلیمی پالیسی کے تحت اردو بولے جانے والے علاقوں میں میں اردو ایجوکیشن زون بنائے جانے پر زور دیا جانے لگا ہے۔ ماہرین اور صحافیوں کی طرف سے مشورہ دیا جارہا ہے کہ عوام کو مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے اردو ایجوکیشن زون بنائے جانے کو یقینی بنانا ہوگا۔


دراصل کل ہند انجمن اساتذہ اردو جامعات ہند دہلی کی جانب سے گزشتہ روز قومی تعلیمی پالیسی اور زبان اردو پر قومی مذاکرہ منعقد کیاگیا۔ مذاکرے کے بعد سید تنویر احمد ڈائریکٹر مرکزی تعلیمی بورڈ، جماعت اسلامی ہند سے صحافیوں نے ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ ”قومی تعلیمی پالیسی 2020  فروغ اردو کے ضمن میں امکانات اور خدشات کو پیش کرتی ہے۔ انہوں نے مذاکرے کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کے طول و عرض سے پروفیسر صاحبان، دانشوران و محبان اردو نے شرکت کی اور پالیسی کے ہمہ گیر و ہمہ جہتی ہونے کا تجزیہ پیش کیا اور مفید مشورے بھی دیئے۔ سید تنویر احمد نے جو مشورے پیش کئے ان میں سے چند اہم یہ ہیں۔


(1) پالیسی نے تعلیم کے جو مدارج متعارف کئے ہیں، اس میں بنیادی مرحلہ فاؤنڈیشن کورس کا ہے۔ یہ کورس تین سال کی عمر سے شروع ہوکر سات سال کی عمر پر ختم ہوگا۔ پالیسی کہتی ہے کہ فاؤنڈیشن کورس بچوں کی مادری زبان میں ہونا چاہئے، چنانچہ آنے والے برسوں میں بہت بڑی تعداد میں فاؤنڈیشن کورس کے اردو میڈیم اسکولس کے قیام کی طلب ہوگی۔ اس کے لئے تربیت یافتہ اردو معلمین کی ضرورت ہوگی۔ اس مطالبے کو جہاں حکومت پورا کرے گی،وہیں غیر سرکاری فلاحی اداروں کے لئے بھی مواقع حاصل ہوں گے۔ لہٰذا اس سلسلے میں سنجیدگی کے ساتھ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔


(2) اردو کی معیاری کتب بالخصوص تاریخ اور شخصیات پر لکھنے اور انہیں تعلیمی اداروں میں متعارف کر انے کی ضرورت ہے۔

(3) پالیسی کہتی ہے کہ ہر ریاست میں اوپن اور فاصلاتی کورسیز کا بڑے پیمانے پر نظم کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اردو داں طبقہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جن ریاستوں میں اردو بولنے والوں کی معتدبہ تعداد ہو ،وہاں مذکورہ تمام کورسیز اردو، ذریعہ تعلیم کے تحت بھی چلایا جائے۔

(4) پالیسی میں اسپیشل ایجوکیشن زون کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کریں کہ جہاں اردو بولنے والے طبقے کی اکثریت ہو، یہ ایجوکیشن زون اردو زبان کے قائم کئے جائیں۔

(5) ملک کی مختلف زبانوں میں آن لائن تعلیم اور ای مواد کی تیاری بھی پیش کی گئی ہے۔ یوں تو پالیسی کے متعلقہ پیرا گراف میں زبان اردو کا ذکر نہیں ہے۔تاہم متعلقہ ذمہ داران نے اس بات کی وضاحت پیش کی ہے کہ ای مواد اردو زبان میں بھی تیارکیا جائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کو یقینی بنایا جائے۔

(6) سکنڈری درجے میں مضامین کے انتخاب کی سہولت ہوگی اور چند نئے مضامین کو بھی متعارف کیا جائے گا جس میں ہندوستانی آرٹ و کلچر بھی شامل ہوگا۔ چنانچہ ان مضامین کی فہرست میں اردو فن خطاطی و اردو نغمہ سرائی کو بھی شامل کیاجائے۔“ سید تنویر نے اس کے علاوہ بھی متعدد اہم مشورے دیئے جنہیں شرکاء نے خوب سراہا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 07, 2020 09:40 AM IST