உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان میں سستی ہوجائے گی میڈیکل کی پڑھائی؟ نیشنل میڈیکل کمیشن نے لیا بڑا فیصلہ

    نیشنل میڈیکل کمیشن نے لیا بڑا فیصلہ۔

    نیشنل میڈیکل کمیشن نے لیا بڑا فیصلہ۔

    یہ وہ مطالبہ ہے جو میڈیکل کے طلباء ایک عرصے سے کر رہے تھے۔ مسلسل کہا جا رہا تھا کہ میڈیکل کالجز کی فیسوں میں کمی کی جائے، یہ مطالبہ کورونا کے دور میں مزید شدت اختیار کر گیا۔ اب نیشنل میڈیکل کمیشن نے اس مطالبے سے اتفاق کیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:ہندوستان میں میڈیکل کی تعلیم بہت مہنگی ہوتی ہے، غریب طبقے کے بہت سے طلباء اس کی وجہ سے ڈاکٹر بننے سے محروم ہیں۔ لیکن اس کمی کو دور کرنے کے لیے نیشنل میڈیکل کمیشن نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اب پرائیویٹ اور ڈیمڈ یونیورسٹیوں میں پچاس فیصد سیٹیں ایسی ہوں گی جہاں طلباء سے صرف وہی فیس لی جائے گی جو اس ریاست کے سرکاری میڈیکل کالج وصول کرتے ہیں۔

      اب اس فیصلے کے ساتھ یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اس اقدام کا فائدہ سب سے پہلے ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے سرکاری کوٹے کی نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کسی کالج میں سرکاری کوٹہ کی سیٹیں 50 فیصد سے کم ہوں تو طلباء کو بھی میرٹ کی بنیاد پر مواقع دیے جا سکتے ہیں اور انہیں کم فیس کا فائدہ بھی دیا جا سکتا ہے۔

      ویسے یہ وہ مطالبہ ہے جو میڈیکل کے طلباء ایک عرصے سے کر رہے تھے۔ مسلسل کہا جا رہا تھا کہ میڈیکل کالجز کی فیسوں میں کمی کی جائے، یہ مطالبہ کورونا کے دور میں مزید شدت اختیار کر گیا۔ اب نیشنل میڈیکل کمیشن نے اس مطالبے سے اتفاق کیا ہے۔ ایسا فریم ورک تیار کیا گیا ہے جس کی بدولت ضرورت مند طلبہ کم فیس پر میڈیکل کی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

      آپ کی معلومات کے لیے بتاتے چلیں کہ اس فیصلے پر تین سال پہلے کام شروع کیا گیا تھا۔ درحقیقت 2019 میں ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ یہ اس کمیٹی کا کام تھا کہ انہیں ایم بی بی ایس اور پوسٹ گریجویٹ کورسز کی فیسوں پر غور و فکر کرنا تھا۔ پھر لوگوں کی رائے لینی پڑی اور ایک فریم ورک تیار کرنا پڑا تاکہ سب کو یکساں مواقع مل سکیں۔ اب نیشنل میڈیکل کمیشن نے اس سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس فیصلے کے بارے میں تفصیلی معلومات نیشنل میڈیکل کمیشن کی سائٹ پر بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ وہاں ہر پہلو کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: