உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    NCERTکا انکشاف: امتحان و نتائج کی فکر سے دباؤ میں رہتے ہیں 33فیصدی طلبہ،3.79لاکھ بچوں پر سروے

    NCERT کے سروے میں بچوں کے ذہنی دباو کے بارے میں سامنے آئی یہ اہم بات۔

    NCERT کے سروے میں بچوں کے ذہنی دباو کے بارے میں سامنے آئی یہ اہم بات۔

    NCERT: سروے کے مطابق 73 فیصد بچے اسکولی زندگی سے مطمئن ہیں، جبکہ 45 فیصد جسمانی امیج کے حوالے سے دباؤ کا شکار ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Mumbai | Hyderabad
    • Share this:
      NCERT:ملک میں 33 فیصدی طلبہ امتحان اور نتائج کی فکر کی وجہ سے ہمیشہ دوسروں کے مقابلے دباؤ میں رہتے ہیں۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے تمام ریاستوں کے 3.79 لاکھ طلباء پر ذہنی صحت اور تندرستی کے بارے میں ایک سروے کے بعد یہ انکشاف کیا ہے۔

      سروے کے مطابق 73 فیصد بچے اسکولی زندگی سے مطمئن ہیں، جبکہ 45 فیصد جسمانی امیج کے حوالے سے دباؤ کا شکار ہیں۔ این سی ای آر ٹی کے مطابق، جب بچے متوسط ​​طبقے سے سیکنڈری کلاس میں چلے گئے تو ذاتی اور اسکولی زندگی کے بارے میں اطمینان کے احساس میں کمی واقع ہوئی۔ ثانوی سطح پر، شناختی بحران، رشتوں کی حساسیت میں اضافہ، ساتھیوں کا دباؤ، بورڈ کے امتحانات کا خوف، مستقبل کے داخلوں کے بارے میں بے چینی اور غیر یقینی جیسے چیلنجز دیکھے گئے۔ سروے کے نتائج منگل کو جاری کیے گئے۔

      • 73 فیصدی بچے مطمئن ہیں اسکولی زندگی سے

      • 28 فیصدی کو سوال پوچھنے میں ہوتی ہے دقت


      تین مہینے کا سروے، بچوں کی پہچان راز میں رکھی گئی

      • این سی ای آر ٹی کی منودرپن یونٹ کو سروے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ کلاس چھ سے آٹھ اور نو سے 12 کے طلبہ کو شامل کرتے ہوئے جنوری سے لے کر مارچ 2022 تک یہ سروے کیا گیا۔ سروے میں بچوں کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھا گیا جس کی وجہ سے انہیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا مناسب ماحول ملا۔


      یہ بھی پڑھیں:

      NEET UG Result 2022:قریب 18.5لاکھ امیدواروں کا انتظار ہوا ختم

      یہ بھی پڑھیں:
      Najma Akhtar: پروفیسر نجمہ اختر کے نام سے ای میل کے ذریعہ ہراسانی، یونیورسٹی نے درج کی FRI

      51 فیصدی کو آن لائن پڑھائی میں پریشانی

      • 81 فیصدی بچوں نے پڑھائی، امتحان اور نتائج کو فکر کی سب سے بڑی وجہ بتایا ہے۔

      • مجموعی بچوں میں 43 فیصدی نے کہا کہ وہ تبدیلی کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ ان میں سے سیکنڈری سطح کے 41 فیصد، جب کہ سیکنڈری ثانوی سطح کہ 46 فیصد بچے تھے۔

      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: