உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقلیتی اسکولوں کا ملک گیر جائزہ، کیا مدرسوں کو  RTE کے تحت لانے سے مسلم قوم کا ہوگا فائدہ؟

    Youtube Video

    این سی پی سی آر نے اس طرح کے اسکولوں میں اقلیتی برادریوں کے طلباء کے لیے ریزرویشن کی بھی حمایت کی ہے کیونکہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اقلیتی اسکولوں میں غیر اقلیتی طلبہ کا ایک بڑا حصہ تعلیم حاصل کررہا ہے

    • Share this:
      اقلیتی اسکولوں کا ملک گیر جائزہ لینے کے بعد این سی پی سی آر یعنی نیشنل کمیشن آف پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ مدرسوں سمیت ایسے تمام اسکولوں کو رائٹ ٹو ایجوکیشن اور سرو شکشا ابھیان مہم کے دائرہ کار میں لایا جائے۔ این سی پی سی آر (NCPCR servey) نے اس طرح کے اسکولوں میں اقلیتی برادریوں کے طلباء کے لیے ریزرویشن کی بھی حمایت کی ہے کیونکہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اقلیتی اسکولوں میں غیر اقلیتی طلبہ کا ایک بڑا حصہ تعلیم حاصل کررہا ہے۔ سروے کے مطابق کرسچن مشینری اسکولوں میں چوہتر فیصد طلباء غیر اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

      مجموعی طور پر ایسے اسکولوں میں باسٹھ اعشاریہ پانچ صفر فیصد طلباء غیر اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اقلیتی برادریوں کی تعلیم پر آئین ہند کے آرٹیکل اکیس اے کے حوالے سے آرٹیکل پندرہ کی شق پانچ کے تحت چھوٹ کے اثرات کے عنوان سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اسکول نہیں جانے والے طلباء کی سب سے زیادہ ایک کروڑ سے زائد طلباء کی تعداد مسلم کمیونٹی سے ہے۔

      این سی پی سی آر کے چیئرمین پریانک کانونگو نے رپورٹ پر اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف یہ کہنا ہے کہ آرٹیکل اکیس اے کے تحت بچوں کو جو حقوق دیئے گئے ہیں وہ انہیں دیے جائیں ۔پریانک کانونگو نے نیوز ایٹین سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل اکیس کے تحت ، چھ سے چودہ سال کے بچوں کو مفت تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے ہم نے پایا کہ ایسا نہیں ہو رہا ، اس لیے ہمیں سفارش کرنی پڑی۔

      این سی پی سی آر نے اس طرح کے اسکولوں میں اقلیتی برادریوں کے طلباء کے لیے ریزرویشن کی بھی حمایت کی ہے کیونکہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہیکہ اقلیتی اسکولوں میں غیر اقلیتی طلبہ کا ایک بڑا حصہ تعلیم حاصل کررہا ہے۔ سروے کے مطابق کرسچن مشینری اسکولوں میں چوہتر فیصد طلباء غیر اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: