உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jobs in UAE: متحدہ عرب امارات کی نئی بےروزگاری انشورنس اسکیم، کیایہ اماراتی وغیرملکی دونوں پرلاگوہوگی؟

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    شیخ محمد بن راشد المکتوم (Dr. Abdulrahman Al Awar) نے ملازمین کو ملازمت کے نقصان سے بچانے کے لیے اس اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ یہ اسکیم بیمہ شدہ ایسے شخص کو ایک محدود مدت کے لیے نقد رقم کی پیشکش کرے گی جو اچانک اپنی ملازمت سے محروم ہوجاتا ہے۔

    • Share this:
      متحدہ عرب امارات (UAE) کے تارکین وطن اور شہری یکساں طور پر بے روزگاری انشورنس حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ یہ ایک نئی اسکیم ہے جس کا مقصد ملازمین کو ملازمت کے نقصان کے خطرے سے بچانا ہے۔ انسانی وسائل اور امارات کے وزیر ڈاکٹر عبدالرحمن العوار نے تصدیق کی کہ غیر متوقع حالات میں ملازمت سے محروم ہونے والے ملازمین کو ایک مدت کے لیے نقد امداد ملے گی۔

      اس اسکیم کا اطلاق نجی اور سرکاری شعبوں میں تمام قومیتوں پر ہوتا ہے۔ مقصد کام کی جگہ پر استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اسکیم 2023 کے اوائل سے لاگو ہوگی۔ نئی اسکیم متحدہ عرب امارات میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے حصے کے طور پر سامنے آئی ہے جس کا مقصد ہنر کو راغب کرنا اور برقرار رکھنا اور کام کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

      نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم (Dr. Abdulrahman Al Awar) نے ملازمین کو ملازمت کے نقصان سے بچانے کے لیے اس اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ یہ اسکیم بیمہ شدہ ایسے شخص کو ایک محدود مدت کے لیے نقد رقم کی پیشکش کرے گی جو اچانک اپنی ملازمت سے محروم ہوجاتا ہے۔

      اس قانون کا مقصد ملازمت کی منڈی میں اماراتیوں کی مسابقت کو بڑھانا اور ساتھ ہی ساتھ بہترین بین الاقوامی ٹیلنٹ کو متحدہ عرب امارات کی طرف راغب کرنا ہے۔  واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات (UAE) میں بے روزگاری انشورنس (unemployment insurance) کی ایک شکل متعارف کرایا جائے گا۔ کابینہ نے کہا کہ یہ پہلا خلیجی ملک ہوگا، جہاں تازہ ترین اصلاحات ہوگی۔ کیونکہ وہ بڑھتی ہوئی علاقائی اقتصادی مسابقت کے درمیان ہنر اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

      مزید پڑھیں: Classes with News18: جدید تاریخ میں اب تک کی بدنام زمانہ جنگیں کونسی ہیں؟ جانیے تفصیلات

      یو اے ای کے وزیر اعظم اور نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم (Sheikh Mohammed bin Rashid al-Maktoum) جو تجارتی مرکز دبئی کے حکمران بھی ہیں، انھوں نے کابینہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹویٹر پر کہا کہ بیمہ شدہ ملازمین کو بے روزگار ہونے کی صورت میں محدود مدت کے لیے کچھ رقم ملے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد لیبر مارکیٹ کی مسابقت کو مضبوط کرنا، ملازمین کے لیے ایک سماجی چھتری فراہم کرنا اور سب کے لیے کام کرنے کا ایک مستحکم ماحول قائم کرنا ہے۔

      مزید پڑھیں: جموں وکشمیر: غیر بی جے پی سیاسی جماعتیں کیوں کر رہی ہیں حد بندی کمیشن کی سفارشات کی مخالفت: جانئے سیاسی ایکسپرٹ کی رائے

      بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ متحدہ عرب امارات میں شہریوں اور غیر شہری باشندوں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔ متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک میں رہائش کی اجازت، جہاں غیر ملکی IMF کے مطابق آبادی کا 85 فیصد ہیں، روایتی طور پر ملازمت سے منسلک ہیں، اور ملازمت کے ضائع ہونے کا مطلب عام طور پر ملازم کو ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: