உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کی نئی صورتحال سے دہلی کا جمال الدین افغانی اسکول متاثر

    Youtube Video

    افغانستان میں بدلی ہوئی سیاسی صورتحال اب ہندوستان میں رہنے والے افغان بچوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ دہلی کے بھوگَل علاقے میں جمال الدین افغانی نامی ایک افغان اسکول ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      افغانستان میں طالبان کی حکومت کے آنے سے پوری دنیا میں موجود افغانی خوف میں مبتلا ہیں۔ افغانستان میں بدلی ہوئی سیاسی صورتحال اب ہندوستان میں رہنے والے افغان بچوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ دہلی کے بھوگَل علاقے میں جمال الدین افغانی نامی ایک افغان اسکول ہے۔ اس وقت کلاس ایک سے بارہ تک کے پانچ سو پچاس سے زائد بچے یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس سکول میں تعلیم افغانستان بورڈ کے تحت دی جاتی ہے۔ اب تک ، افغانستان کی حکومت اس سکول کو چلانے کے لیے ہر قسم کی مالی مدد فراہم کرتی تھی۔ لیکن افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد ، اس اسکول پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ تاہم سکول انتظامیہ اس اسکول کو کسی بھی حالت میں چلانا چاہتا ہے۔

      واضح ہو کہ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھول دیئے گئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شیئرکیاہے۔ ویڈیو میں برقع پہنی بچیوں کو بڑی تعداد میں اسکول جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری ویڈیو میں سہیل شاہین نے لکھا کہ نئے افغانستان میں اسکول کھل گئے ہیں۔


      اسی درمیان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے  اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک اور ویڈیو شیئرکیا ہے جس میں ایک سڑک ک اتعمیراتی کام کیا جارہا ہے۔ سہیل شاہین نے ٹویٹ میں لکھا ہیکہ اب افغانستان کی تعمیر کا وقت آگیا ہے۔


      وہیں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں اماموں پر زور دیا ہے کہ وہ افغانیوں کو طالبان کے اقتدار میں ان کی سکیورٹی کی یقین دہانی کرائیں۔ دارالحکومت کابل میں علماء کے ایک اجتماع میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ اپنے حلقوں کو پرسکون رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔انھوں نے امریکہ اور دیگر نیٹو ممالک پر الزام لگایا کہ وہ افغان شہریوں کو پناہ کی پیشکش کرتے ہوئے اپنی حکمرانی کو کمزور کر رہے ہیں۔مجاہد نے کہا کہ سرکاری ملازمین جلد ہی کام پر واپس آ سکیں گے اور افغان پہلے ہی اعلان کردہ عام معافی کے تحت محفوظ رہیں گے۔واضح رہے طالبان نے ان لوگوں کے لیے عام معافی کا وعدہ کیا ہے جنہوں نے اتحادی فوجیوں اور افغان حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا  لیکن بہت سے افغانی اب بھی انتقامی حملوں سے خوفزدہ ہیں۔

      طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ طالبان تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں  اور دوست ممالک پر زور دیا کہ وہ طالبان سے رابطہ کرنے میں پہل کریں۔ چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھے جانے پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان چین کے ساتھ اقتصادی اور دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: