உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    NIRF Ranking 2021: ملک کی ٹاپ 10 یونیورسٹی کی فہرست جاری، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اے ایم یو بھی شامل

    Youtube Video

    NIRF Ranking 2021: سال 2021 میں جن 10 یونیورسٹیوں کی فہرست شامل کئی گئی ہے ان میں بنگلور کی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس یونیورسٹی پہلے نمبر پر ہے جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی 10 ویں نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں جے این یو JNU اور بی ایچ یو BHU بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی:NIRF Ranking 2021۔ سال 2021 کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوشن رینکنگ فریم ورک (این آئی آر ایف رینکنگ) (NIRF Ranking) مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے آج دوپہر جاری کیا ہے۔ بتادیں کہ یہ رینکنگ ہر سار جاری کی جاتی ہے جس کی بنیاد پر معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی ٹاپ یونیورسٹیاں کون سی ہیں۔ سال 2021 میں جن 10 یونیورسٹیوں کی فہرست شامل کئی گئی ہے ان میں  بنگلور کی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس یونیورسٹی پہلے نمبر پر ہے جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی 10 ویں نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں جے این یو  JNU  اور بی ایچ یو BHU  بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

      یہ رہی یونیورسٹی کی فہرست:

      انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ، بنگلور
      جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی
      بنارس ہندو یونیورسٹی ، وارانسی
      کلکتہ یونیورسٹی ، کولکاتہ
      امریتا وشوا ودیاپیٹھ ، کوئمبٹور۔
      جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی
      منی پال اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن ، منی پال۔
      جادھو پور یونیورسٹی ، کولکاتہ
      حیدرآباد یونیورسٹی ، حیدرآباد۔
      علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ

      اس سال  10 زمروں میں تیار کی گئی ہے این آئی آر ایف کی فہرست:
      قابل ذکر ہے کہ سال 2016 میں این آئی آر ایف NIRF  کی فہرست 4 زمروں میں تیار کی گئی تھی جو سال 2019 میں بڑھ کر 9 ہوگئی۔ اس سال این آئی آر ایف انڈیا رینکنگ 2021 کا اعلان کل دس زمروں کے لیے کیا گیا ہے۔ اس میں یونیورسٹیاں ، مینجمنٹ ، کالجز ، فارمیسی ، میڈیسن ، انجینئرنگ ، آرکیٹیکچر ، اے آر آئی آئی اے ARIIA  (انوویشن اچیومنٹس پر اداروں کی اٹل رینکنگ) اور قانون Law شامل ہیں۔ اس سال ٹاپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹس کا زمرہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ کورونا کی وجہ سے اس سال بھی یہ پروگرام آن لائن منعقد کیا گیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: