உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    AAP: دہلی کے سرکاری دفاتر میں اب صرف بی آر امبیڈکر اور بھگت سنگھ کی ہوگی تصاویر، کیجریوال نے دیا بیان

    کیجریوال نے کہا کہ دہلی کے دفاتر میں اب ایسا نہیں ہوگا۔

    کیجریوال نے کہا کہ دہلی کے دفاتر میں اب ایسا نہیں ہوگا۔

    کیجریوال نے تمام بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے امبیڈکر کے خواب کو پورا کرنے کا وعدہ بھی کیا، خواہ ان کا تعلق امیروں سے ہو یا ان کا شمار غریبوں میں ہوتا ہو۔ بی آر امبیڈکر کو بابائے ہندوستانی آئین کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہ ہندوستان کے پہلے وزیر قانون تھے۔

    • Share this:
      دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال (Arvind Kejriwal) نے آج اعلان کیا کہ دہلی کے تمام سرکاری دفاتر میں کسی بھی سیاست دان کی تصاویر نہیں دیکھی جائیں گی۔ اب دہلی کے سرکاری دفاتر میں صرف ڈاکٹر بی آر امبیڈکر (Dr BR Ambedkar) اور بھگت سنگھ (Bhagat Singh) کی تصاویر لگائی جائیں گی

      کیجریوال نے ایک تقریب میں کہا کہ آج میں اعلان کرتا ہوں کہ دہلی حکومت کے ہر دفتر میں بی آر امبیڈکر اور بھگت سنگھ کی تصاویر لگائی جائیں گی۔ اب ہم کسی وزیر اعلیٰ یا سیاست دان کی تصویر نہیں لگائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر اور مجاہد آزادری بھگت سنگھ سے سب سے زیادہ تحریک حاصل کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ ان کے ایک ہی خواب اور اہداف کے لیے مختلف نظریات تھے۔


      کیجریوال نے تمام بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے امبیڈکر کے خواب کو پورا کرنے کا وعدہ بھی کیا، خواہ ان کا تعلق امیروں سے ہو یا ان کا شمار غریبوں میں ہوتا ہو۔ بی آر امبیڈکر کو بابائے ہندوستانی آئین کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہ ہندوستان کے پہلے وزیر قانون تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر، وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی تصاویر عام طور پر سرکاری دفاتر میں دیکھی جاتی ہیں لیکن کیجریوال نے کہا کہ دہلی کے دفاتر میں اب ایسا نہیں ہوگا۔

      واضح رہے کہ ہندوستان میں کورونا وبا  (Corona Pandemic) کو 2 سال ہونے والے ہیں۔ پچھلے دو سالوں میں اس وبا نے ملک اور دنیا میں بڑی تباہی مچائی ہے۔ اس دوران کورونا وائرس (Coronavirus) کے کئی ویریئنٹس دیکھے گئے ۔ گزشتہ سال نومبر میں منظر عام پر آنے والے اومیکران ویریئنٹ (Omicron Variant) کی وجہ سے ملک میں کورونا وبا کی تیسری لہر (Corona Third Wave) آئی ہے ، جس کی وجہ سے ملک بھر میں کووڈ-19 انفیکشن کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ حالانکہ راحت کی بات یہ ہے کہ اس دوران اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا اور کورونا سے ہونے والی اموات کنٹرول میں رہیں۔ اومیکران سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگ گھر پر ہی پیراسیٹامول کی گولیاں کھا کر ٹھیک ہو گئے ۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں کمی کے آثار بتاتے ہیں کہ ملک کے بڑے شہروں میں کووڈ-19 کی تیسری لہر کا پیک گزر چکا ہے ۔

      کورونا کے معاملات میں کمی کے بعد مہاراشٹر حکومت نے اس ہفتہ سے پرائمری اسکول کو دوبارہ کھولنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وہیں کرناٹک میں ویک اینڈ کرفیو کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ تاہم اومیکران ویریئنٹ کی وجہ سے ملک میں کورونا کی تیسری لہر اتنی جان لیوا نہیں تھی ، جتنی کہ پہلی اور دوسری لہر تھی ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ کورونا ویکسینیشن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔

      گزشتہ سال اپریل-مئی میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران اس وبا سے نمٹنے کے لئے تیاریوں کی شدید کمی کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا تھا ۔ ویکسینیشن کی سست رفتاری اور ویکسین کی کمی کے باعث کئی لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ ہندوستان میں کورونا ویکسینیشن کا آغاز گزشتہ سال 16 جنوری سے ہوا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: