ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

تلنگانہ کے اقلیتی طلبہ کو بیرونی ممالک تعلیم کیلئے اوورسیز اسکالرشپ، استفادہ کنندگان میں جوش وخروش

اقلیتی طلبہ کو بیرونی ممالک میں اعلی تعلیم کے حصول اور ان کو دیگر طبقات کے طلبہ کے مساوی تعلیمی ترقی کے میدان میں آگے کرنے کے لئے تلنگانہ حکومت کی جانب سے اسکالرشپس کی فراہمی کے مقصد سے شروع کردہ ”سی ایم اوورسیز اسکالرشپ“اسکیم کیلئے درخواستیں طلب کی گئی ہیں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 28, 2020 01:16 PM IST
  • Share this:
تلنگانہ کے اقلیتی طلبہ کو بیرونی ممالک تعلیم کیلئے اوورسیز اسکالرشپ، استفادہ کنندگان میں جوش وخروش
علامتی تصویر ۔

اقلیتی طلبہ کو بیرونی ممالک میں اعلی تعلیم کے حصول اور ان کو دیگر طبقات کے طلبہ کے مساوی تعلیمی ترقی کے میدان میں آگے کرنے کے لئے تلنگانہ حکومت کی جانب سے اسکالرشپس کی فراہمی کے مقصد سے شروع کردہ ”سی ایم اوورسیز اسکالرشپ“اسکیم کیلئے درخواستیں طلب کی گئی ہیں ۔ یہ درخواستیں 30 نومبر تک https://telanganaepass.cgg.gov.in یا بذریعہ آن لائن داخل کی جاسکتی ہیں۔ حکومت تلنگانہ بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے لئے اقلیتی طلبہ کو 20لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ اقلیتی طلبہ کو پوسٹ گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ کورسس میں تعلیم کیلئے اس اسکیم کے تحت ہر سال اقلیتی بہبود کے بجٹ میں 100 کروڑ روپے مختص کئے جاتے ہیں ۔


ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد ریاستی حکو مت نے اقلیتی طلبہ کو ایس سی /ایس ٹی اور بیک ورڈ کلاسس کی طرح تعلیمی میدان میں مواقع فراہم کرنے کی کوشش کے تحت حکو مت تلنگانہ نے اقلیتی طلبہ کو بھی بیرون ممالک تعلیم کیلئے سال 2015 سے اس اسکیم کا آغاز عمل میں لایا ہے ۔ یہ اسکیم اقلیتوں کیلئے متعارف کروائی گئی ملک بھر میں اپنی نوعیت کی مفرد اسکیم ہے ، جس میں ہر سال 500 اقلیتی طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کیلئے ریاستی حکو مت کی جانب سے امداد کی گنجائش ہے ، جس کا 33 فیصد کوٹہ طالبات کیلئے مختص ہے ۔ اس اسکیم کا آغاز تعلیمی سال 16-2015 سے کیا گیا۔ اس وقت اس اسکیم کیلئے ریاستی حکومت نے 25 کروڑ روپے مختص کیے تھے ، جس کے تحت فی طالب علم دس لاکھ روپے کی مالی امداد دی جاتی تھی اور اس کے حصول کے لئے درخواست گذار طالب علم کے والدین / سرپرست کی آمدنی کی حد دو لاکھ روپے سالانہ رکھی گئی تھی۔


پہلے سال اس اسکیم سے 222 طلبہ نے فائدہ اٹھایا تھا۔ تاہم اس اسکیم کے آغاز کے دوسرے ہی سال 2016 میں اس اسکالر شپ کی رقم دگنی کرتے ہوئے فی طالب علم 20 لاکھ روپے دینے کے احکامات جاری کیے اور اس کے لئے بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے 100کروڑ روپے مختص کے گئے ۔ ساتھ ہی ساتھ درخوست گزار طالب کے والدین / سرپرست کی آمدنی کی حد میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے پانچ لاکھ روپے سالانہ کردیا گیا۔ اس منفرد اسکیم کے تحت ہر سال دو بار فروری و مارچ اور اکتوبر و نومبر میں درخواستیں طلب کی جاتی ہیں ۔ اب تک اس اسکیم سے 1,685 اقلیتی طلبہ نے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرون ملک اپنی تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا کیا ہے ، جن میں 1487 مسلم ، 185کرسچین ، چھ جین اور تین سکھ طلبہ شامل ہیں۔


اس اسکیم سے ریاست تلنگانہ میں مقیم مذہبی اقلیتی طبقات مسلم، کرسچین، سکھ، بدھ اور جین فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جن مما لک کی یونیورسٹیز میں داخلوں کیلئے یہ امداد دی جاتی ہے ، اس میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا،نیو زی لینڈ، سنگاپور، جاپان اور ساؤتھ کوریا شامل ہیں ۔ درخواست گذار طالب علم کے عمر کی حد 35 سال مقرر کی گئی ہے۔ اس اسکیم سے طلبہ میں کافی جوش وخروش پایاجاتا ہے اور اس سے استفادہ کرنے والے طلبہ میں مسرت پائی جاتی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 28, 2020 12:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading