ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری پر سیاست جاری

مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری پر سیاست جاری ہے۔ حالانکہ مدھیہ پردیش میں دوہزار تین سے اب تک کئی سرکاریں بدل گئیں اور سبھی سرکاروں نے اردو اساتذہ کی تقرری کو لیکر بڑی بڑی باتیں کیں مگر دوہزار تین کے بعد آج تک صوبہ میں اردو اساتذہ کی تقرری نہیں ہوسکی۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری پر سیاست جاری
مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری پر سیاست جاری

مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری پر سیاست جاری ہے۔ حالانکہ مدھیہ پردیش میں دوہزار تین سے اب تک کئی سرکاریں بدل گئیں اور سبھی سرکاروں نے اردو اساتذہ کی تقرری کو لیکر بڑی بڑی باتیں کیں مگر دوہزار تین کے بعد آج تک صوبہ میں اردو اساتذہ کی تقرری نہیں ہوسکی۔ دوہزار اٹھارہ کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اردو اساتذہ کا تقررکئے جانے کا ذکر اپنے منشور میں بھی کیاتھا مگر پندرہ مہینے کی کمل ناتھ حکومت میں بات منشورسے عمل تک نہیں پہنچ سکی۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری کا عمل انیس سو اٹھانوے میں اس وقت شروع ہوا تھا جب مدھیہ پردیش میں دگ وجے سنگھ کی حکومت تھی۔ دگ وجے سنگھ کے ذریعہ ریاست میں بائیس سو اردو اساتذہ کی تقرری کا اعلان کیاگیا اور اردو اساتذہ کی تقرری کے نام پر دوہزار تین محض سات سو ساٹھ اردو اساتذہ کی تقرری کی گئی۔ اس کے بعد صوبہ میں بی جے پی اور کانگریس دونوں کی حکومتیں قائم ہوتی رہیں مگر دونوں ہی پارٹیوں نے اردو اساتذہ کی تقرری کے مطالبہ کو سرد خانے میں ہی رکھا۔


مدھیہ پردیش مسلم ایجوکیشن سو سائٹی کے صدر عارف عزیز کہتے ہیں کہ اردو اساتذہ کی تقرری کو لیکر سابقہ کمل ناتھ حکومت کو بھی لکھا گیا اور موجودہ شیوراج سنگھ حکومت کو بھی خط لکھ کر مطالبہ کیاگیا ہے۔ کمل ناتھ حکومت میں گزشتہ سال ماہ فروری کو ایک جلسہ میں سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ کو بطور مہمان خصوصی بلایاگیا تھااور ان سے بھی اردو اساتذہ کا مطالبہ کیاگیاتھا ۔ مگر وہ حکومت اور آج کی حکومت نے اس سلسلہ میں عملی قدم نہیں اٹھایا۔ موجودہ سی ایم شیوراج سنگھ کو سو سائٹی کی جانب سے پھر خط لکھ کر توجہ دلائی گئی ہے تاکہ صوبہ میں اردو اساتذہ کا تقرر ہوسکے اور طلبا اردو زبان میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ صوبہ کے اسکولوں میں اردو طلبا کی ایک بڑی تعداد موجود ہے مگر اساتذہ کے نہیں ہونے سے وہ اردو زبا ن کو پڑھنے سےقاصر رہتے ہیں۔ اسکولوں میں اردو اساتذہ کے نہیں ہونے سے اردو طلبا کو دوسرے مضمون کو پڑھنے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔

وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی کی ترجمان نہا بگا کہتی ہیں کہ اردو اساتذہ کی تقرری کا سوال تو ان سے پوچھا جانا چاہیے جنہوں نے اپنے منشور میں اردو اساتذہ کی تقرری کا ذکر کیاتھا اور اردو کے نام پر ووٹ لیئے تھےمگر پندرہ مہینے کی کمل ناتھ سرکارسوائے مکروفریب کے کچھ نہیں کیاگیا۔ اردو اساتذہ اور اردو طلبا کے ساتھ ہی کمل ناتھ حکومت نے دھوکہ نہیں کیا بلکہ کسانوں کے ساتھ بھی اعلان کرکے قرض معافی نہیں کی گئی ۔ شیوراج سنگھ جی کوپردیش کی جنتا نے پھر موقعہ دیا ہے سبھی کا حق ملے گا ۔ سرکار سب کا ساتھ سب کا وکاس پر یقین رکھتی ہے۔

وہیں بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ دگ وجے سنگھ کی حکومت کے بعد کمل ناتھ حکومت نے اردو اساتذہ کی تقرری کے لئے قدم اٹھایاتھا۔ اس سلسلے میں اردو اساتذہ کی تقرری کے لئے امتحانات کا بھی انعقاد ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے کہ اساتذہ کی کونسلنگ ہوتی اور ان کا تقرر عمل میں آتا ہے فریب سے شیوراج سنگھ اور ان کی پارٹی نے کمل ناتھ جی کی حکومت گرانے کا کام کیا جس کے سبب اردو اساتذہ کی تقرری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ یہ لوگ جو سب کا ساتھ کی بات کرتے ہیں بتائیں کہ شیوراج سنگھ کی پندرہ سال کی حکومت میں کتنے اردو اساتذہ کا ایم پی تقرر کیاگیا ہے۔


اردو اساتذہ کی تقرری کے مطالبہ کو لیکر مدھیہ پردیش کی اردو انجمنوں نے سی ایم شیوراج سنگھ سےملاقات کا چقت مانگا ہے تاکہ ان کے سامنے اردو اساتذہ کے مسائل کو پیش کیا جاسکے اور صوبہ میں اردو اساتذہ کی تقرری کی راہ ہموارہوسکے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 06, 2021 08:50 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading