ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

پوسٹ میٹرک اسکالرشپ بجٹ میں اضافے کا مطالبہ، 22 گنا کم ہے مرکزی اقلیتی وزارت کا بجٹ

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اقلیتوں کے حوالے سے حکومتوں کی اسکیمیں نچلی سطح پر کامیاب نہیں ہوتیں یا ان کا اثر نظر نہیں آتا لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے، ہم آپ کو یہ بتانے جارہے ہیں کہ حقیقت میں اسکیموں کی منصوبہ بندی میں کچھ کمیاں اور خامیاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اسکیمیں غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال مرکزی اقلیتی وزارت کی میٹرک کے بعد کی اسکالرشپ اسکیم ہے۔

  • Share this:

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اقلیتوں کے حوالے سے حکومتوں کی اسکیمیں نچلی سطح پر کامیاب نہیں ہوتیں یا ان کا اثر نظر نہیں آتا لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے، ہم آپ کو یہ بتانے جارہے ہیں کہ حقیقت میں اسکیموں کی منصوبہ بندی میں کچھ کمیاں اور خامیاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اسکیمیں غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال مرکزی اقلیتی وزارت کی میٹرک کے بعد کی اسکالرشپ اسکیم ہے۔ اس اسکیم کے تحت بجٹ مختص کرنے سے متعلق وزارت خزانہ کی منصوبہ بندی کی کوتاہیاں سامنے آتی ہیں ، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزی اقلیتی وزارت کو اسکالرشپ اسکیم کے لئے جو فنڈ اور بجٹ دیا جاتا ہے وہ سماجی انصاف کی وزارت جو شیڈول کاسٹ طبقےکے لیے اسکالرشپ اسکیم چلاتی ہے اس کو دیے جانے والے بجٹ اور ضرورت سے کئی گنا کم ہے۔

مرکزی حکومت کی دو وزارتیں وزارت سماجی انصاف اور اقلیتی امور دونوں وزارتیں پوسٹ میٹرک اسکالرشپ چلاتی ہیں۔ وزارت سماجی انصاف دلت طلباء کے لئے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم چلاتی ہے جبکہ وزارت اقلیتی امور مسلم، عیسائی، جین، پارسی بدھ اور سکھ طلباء کے لئے یہی پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم چلاتی ہے۔ تاہم دونوں کی اسکالرشپ اسکیم کے بجٹ میں بہت فرق رہا ہے اور اب اس فرق میں اضافہ ہو کر تقریبا بائیس گنا کا فرق ہو گیا ہے۔ ایک جانب وزارت اقلیتی امور اور کا پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے لئے پچھلے 5 سالوں کیلئے مختص بجٹ 2600 کروڑ کے قریب ہے۔اگر گذشتہ پانچ سالوں کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو وزارت اقلیتی امور نے 2017-18 کے لئے 550 کروڑ ، 2018-19 کے لئے 692 کروڑ ، 2019-20 کے لئے 496 کروڑ جبکہ 2020-21 کے لئے 535 کروڑ روپئے کا بجٹ رکھا گیا تھا ۔وہیں دوسری جانب وزارت برائے سماجی انصاف نے۔

گزشتہ 5 سالوں میں پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم پر 17374 کروڑ خرچ کیے ہیں 2016-17 میں 2216 کروڑ روپے، -2017-2018 میں 2820 کروڑ روپے  2018-2019 سال میں 3348 کروڑ روپے اور اسی طرح سے 2019-2020 میں 6000 کروڑ روپے ، اور رواں مالی سال 2020-2021 میں 2690 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا کیا تاہم ہم تقریبا 2600 کروڑ روپے اور 17374 کروڑ روپے کے بیچ جو فاصلہ تھا اب وہ مزید بڑھ گیا ہے۔  حال ہی میں وزارت سماجی انصاف کی سماجی انصاف کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے مودی کابینہ نے اگلے 5 سالوں کے لئے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ پر 59000 کروڑ خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مد میں ہر سال مرکزی حکومت تقریبا 7000 کروڑ روپئے کے اسکالرشپ پر خرچ کے لیے فراہم کرائے کی جبکہ بقیہ رقم اور بجٹ ریاستی حکومتوں کے ذریعے فراہم کرایا جائے گا۔


آبادی بجٹ اور تناسب

ملک کی مردم شماری میں شیڈول کاسٹ کمیونٹی کی آبادی 2011 مردم شماری کے لحاظ سے 16.65٪ ہے جبکہ کہ اقلیتوں کی آبادی تقریبا 19 فیصد ہے لیکن بجٹ میں وزارت اقلیتی امور کے مقابلے میں سماجی انصاف کی وزارت کی اس اسکیم کا بجٹ تقریبا 22 گنا ہونے جارہا ہے۔ وزارت سماجی انصاف کی پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت اہلیت کے لئے ڈھائی لاکھ سے کم آمدنی کی شرط ہے اور وزارت اقلیتی امور کی اسکیم کے تحت آمدنی کی حد 2 لاکھ ہے۔
وزارت اقلیتی امور کی تمام اسکالرشپ سکیموں کا بجٹ پچیس سو کروڑ
وزارتت اقلیتی کی اسکالرشپ اسکیموں میں میرٹ کم مینس اسکالرشپ کے لئے 400 کروڑ ، پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے لئے 1330 کروڑ ، مفت کوچنگ اسکیم کے لئے 50 کروڑ ، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے لئے 535 کروڑ اور مولانا آزاد فاؤنڈیشن کی اسکالرشپ سکیموں کے لئے 175 کروڑ یعنی کل ملا کر رہا سال کے لئے 2490 کروڑ روپے بجٹ کے تحت رکھے گئے ہیں۔ اقلیتی وزارت ، جو 19 فیصد بڑی آبادی کے غریب طلبہ کی تعلیم میں مدد کی بڑی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔ بجٹ کے معاملے میں وزارت سماجی انصاف سے بہت پیچھے کہیں دور اور طویل فاصلے پر کھڑی ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Dec 26, 2020 04:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading