உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پروفیسر نجمہ اختر وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ پدم شری اعزاز سے سرفراز

    نجمہ اختر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

    نجمہ اختر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

    حکومت ہند نے پروفیسر نجمہ اختر کو ادب اور تعلیم کے میدان میں ان کی نمایاں اور گراں قدر خدمات کے پیش نظر اس اعزاز کے لیے منتخب کیاہے۔اعزازیہ تقریب میں پروفیسر نجمہ اختر کے ساتھ ان کی دختر نیک اختر محترمہ فرح خان اور فرزند جناب سعد اختر بھی موجود تھے۔

    • Share this:
    صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کوند نے مؤرخہ اکیس مارچ دوہزار بائیس کوپروفیسر نجمہ اختر،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ملک کے چوتھے سب سے اعلی شہری اعزاز پدم شری سے سرفراز کیا۔واضح رہے کہ یہ اعزاز یہ تقریب راشٹرپتی بھون کے دربار ہال میں آج منعقد ہوئی تھی۔حکومت ہند نے پروفیسر نجمہ اختر کو ادب اور تعلیم کے میدان میں ان کی نمایاں اور گراں قدر خدمات کے پیش نظر اس اعزاز کے لیے منتخب کیاہے۔اعزازیہ تقریب میں پروفیسر نجمہ اختر کے ساتھ ان کی دختر نیک اختر محترمہ فرح خان اور فرزند جناب سعد اختر بھی موجود تھے۔   پروفیسر نجمہ اخترکو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پہلی خاتون شیخ الجامعہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ایسا ادارہ ہے جسے نیشنل ایکریڈیشن اینڈ اسیسمنٹ کونسل (ناک) نے دسمبر دوہزار اکیس میں اے پلس پلس گریڈ دیا ہے۔ ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی میں انقلاب آفریں ماہر تعلیم خاتون کے بطور بڑے پیمانے پر ان کی شناخت قائم ہوئی ہے۔

    جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ان کی فعال قیاد ت میں نیشنل انسٹی ٹیوشنل رنکنگ فریم ورک(این آئی آر ایف) وزارت تعلیم،حکومت ہند کی رینکنگ میں چھٹا مقام حاصل کیا۔ جامعہ نے سال دوہزار انیس اور بیس کے لیے وزارت تعلیم کی جانب سے کیے جانے والے جملہ مرکزی یونیورسٹیوں میں مظاہرہ کی جانچ میں پنچانوے اعشاریہ دوتین فی صد کے ساتھ نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔      پروفیسرنجمہ اختر مؤرخہ تیرہ نومبر انیس سو ترپن میں پیدا ہوئیں۔انھوں نے تعلیم کے میدان میں ’اے کمپری ہینسیو اسٹڈی آن کنوینشنل اینڈ ڈسٹینس ایجوکیشن سسٹم آف ہائر ایجوکیشن‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ایم۔اے میں طلائی تمغہ بھی حاصل کیاساتھ ہی ایجوکیشن سے ایم اے اور نباتیات سے ایم ایس سی بھی کیا ہے۔

    انھوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (این یوای پی اے) نئی دہلی میں ڈپارٹمنٹ آف ٹریننگ اینڈ کیپی سیٹی بلڈنگ ان ایجوکیشن میں بطورپروفیسر اور صدر اپنی خدمات انجام دی ہیں۔انھوں نے اگنو دہلی میں بھی فاصلاتی نظام تعلیم پروگرام میں خدمات کی انجام دہی کے ساتھ الہ آباد اترپردیش میں اسٹیٹ ڈائریکٹر آ ف دی اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل مینجمنٹ اینڈ ٹریننگ (ایس آئی ای ایم اے ٹی) کی فاؤنڈنگ ڈائریکٹر بھی رہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کنٹرولر امتحانات اور داخلہ کے ساتھ اکیڈمک پروگرام کی ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔

    پروفیسر اختر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی(مانو) حیدرآباد، دہلی یونیورسٹی، آسام یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تقرری کمیٹی اور داخلہ کمیٹی کی ویزیٹر نامنی بھی رہی ہیں۔وہ دہلی پبلک اسکول کی مینجمنٹ کمیٹی میں بھی رہی ہیں،بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈکی اعلی بااختیار کمیٹی کی رکن بھی رہیں،وزارت دفاع کی اعلی سطحی اکسپرٹ کمیٹی کی رکن بھی رہیں،وزارت تعلیم،حکومت ہند کی نیشنل اسٹیرنگ کمیٹی کی رکن رہیں،بورڈ آف مینجمنٹ، جامعہ ہمدرد،دہلی ممبر آف جنرل اسمبلی آف کونسل انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز(آئی سی سی آر) نئی دہلی،رکن نیشنل اکیڈمک مشاورتی کمیٹی انڈین سوشل سائنس اکیڈمی اینڈ سرچ کمیٹی فار اپوائنٹمنٹ آف نیو وائس چانسلر آف کشمیریونیورسٹی۔،این ای پی دوہزاربیس کے ماہرین کے گروپ کی ممبررہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: