உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معیاری اخلاقی تعلیم اور اساتذہ کا کردار

    معیاری  اخلاقی تعلیم اور اساتذہ کا کردار

    معیاری اخلاقی تعلیم اور اساتذہ کا کردار

    کہا جاتا ہے کہ طلبا و طالبات کے روشن مستقبل کے لئے ان کی کردار سازی کی اشد ضرورت ہے اور اس عمل کے لئے اخلاقی تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttar Pradesh | Lucknow | Lucknow
    • Share this:
    لکھنو: تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے ، ہر مذہب اور ہر سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے ؛ کیوںکہ سماج میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سروسامان موجود ہے ، وہ سب در اصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اور درس گاہیں ان کا اصل سرچشمہ ہیں ، اسلام کی نگاہ میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے ، اساتذہ کی مناسبت سے اتر پردیش میں  پانچ سے نو ستمبر تک تعلیم پر مبنی تقریبات منعقد کی جاتی رہیں گی۔ یوں تو پورے ملک میں یومِ اساتذہ کی مناسبت سے مختلف نوعیت کی تقریبات کا انعقاد پانچ ستمبر کو عمل میں آتا ہے، لیکن کچھ مقامات اور دانش گاہیں واقعی ایسی ہیں، جہاں ان تقریبات کو پوری اہمیت افادیت اور جذبہ و شوق کے ساتھ  پورے ہفتے منعقد کیاجاتا ہے ۔

    ایسے ہی معتبر اداروں میں لکھنئو کی انٹیگرل یونیورسٹی بھی اپنی ممتاز شناخت رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طلبا و طالبات قوم کے مستقبل ہوتے ہیں، مستقبل انہیں کے دم سے منور ہوتا ہے مگر یہ تب ہوتا ہے جب انہیں تراش خراش کر مستقبل کے چیلنجز سے نبردآزماں ہونے کے لئے تیار کیا جائے، تربیت کی بھٹی میں تپاکر آنے والے مشکلات سے نپٹنے کا ہنر سکھایا جائے، زمانے کے نشیب و فراز کو حسنِ تدبیر سے حل کرنے کا علم وفن دیا جائے اور صحیح تعلیم وتربیت دی جائے؛ تعلیم وتربیت کے یہ فرائض قوم کے اساتذہ نبھاتے ہیں ۔ یہ اساتذہ ہی ہوتے ہیں جو اپنے خون جگر سے نونہالوں کی آبیاری کرکے قوم وملک کے لئے مفید اور کارآمد شہری بناتے ہیں، یہ اساتذہ ہی ہوتے ہیں جو تن من دھن کی بازی لگا کر نسلِ نو کے ذہن ودماغ میں اخلاق و کردار کی معنویت بسا کر مہذب انسان بناتے ہیں،اس لئے تمام پیشوں میں پیشئہ تعلیم وتربیت کو اولیت وافضلیت حاصل ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: نیٹ یوجی ٹاپر تنیشکا نے بتایا کامیابی کا راز،جے ای ای مین بھی کیا تھا ٹاپ


    نیز اساتذہ کے لیے مقام ومرتبہ و برتری ہر قوم میں مسلم ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ معلمِ کائنات سرکارِ کونین وثقلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم فداہ ابی وامی نے”إنما بعثت معلما” میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں” ارشاد فرما کر اپنی نسبت اساتذہ کو عطاء کردی اور اساتذہ کے مقام و مرتبہ میں چار چاند لگا دیے مگر اس کے باوجود ہمارے معاشرے کے بیشتر اداروں کے اساتذہ کی زبوں حالی بیان سے باہر ہے، ہمارے سماج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اساتذہ کے فضائل ومناقب پر خوب بحث کی جاتی ہے مگر عملاً انہیں وہ مقام عطا نہیں کیا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔ کتابیں لکھیں جاتی ہیں، مضامین چھاپے جاتے ہیں، سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں،5 ستمبر کو "یومِ اساتذہ” پر تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ہدف حاصل ہوپاتا ہے جس کے لئے ہم ان تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: NCERTکاانکشاف:امتحان و نتائج کی فکر سے دباؤمیں رہتے ہیں 33فیصدی طلبہ،3.79لاکھ بچوں پر سروے


    انٹیگرل یونیورسٹی شعبہءِ تعلیم کے ڈین معروف ماہر تعلیم پروفیسر تحسین عثمانی کہتے ہیں کہ۔ یوم اساتذہ منانے کا مقصد معاشرے میں اساتذہ کے اہم کردار کو اجاگرکرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھرمیں کئی سیمیناروں ، مذاکروں ، کانفرنسوں اورتقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن کہیں نہ کہیں ہم اساتذہ کا حق اداکرنے میں لاپروائی کرتے ہیں ۔  عظیم مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں اساتذہ کو ان کا جائز مقام ملے اورانہیں دورجدید میں نظام تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے وقتًا فوقتًا باخبر کیا جائے۔ ساتھ ہی اساتذہ اور طلبا کے مابین ایک ایسا رشتہ قائم ہو جس میں احترام تو ہو بے جا خوف نہُ ہو ، جس سے تبادلہءِ خیال بہ آسانی کیا جاسکے ۔

    شعبہءِ تعلیم کے سربراہ ڈاکٹر اے کے لودی کہتے ہیں کہ ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کو صحیح خراج عقیدت یہ ہوگا کہ ان کے ذریعے روشن کیے گیے چراغ سے ہم مزید چراغ روشن کریں جس سے جہالت کے اندھیرے دور ہو سکیں ۔ اور ایک خوبصورت معاشرے و ملک کی تشکیل ممکن ہو سکے، ڈاکٹر لودی نے یہ بھی کہا پروفیسر سید وسیم اختر کی علمی اور عملی صلاحیت کی روشنی میں یونیورسٹی روز افزوں ترقیوں اور کامرانیوں کئی منزل طے کر رہی ہے ۔ ہم سوامی رادھا کرشنن کے علمی نظریات اور  ان کی تعلیمات سے فیض اٹھاکر  پروفیسر  وسیم اختر کی قیادت میں نئی  تاریخ رقم کریں گے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: